153

موسیقی آمن کا پیغام

موسیقی کی آزادی کے عالمی کے مناسبت سے ملک کے دیگر حصوں کے طرح پشاور میں بھی رنگارنگ تقریبات منعقد کرائے گئے تھے کلچر جرنلسٹ فورم نے بھی پشاور پریس کلب میں تقریب کا اہتمام کیاتھا جس میں صوبے کے معروف فنکاروں اور گلوکاروں نے فن کا مظاہرہ کیا تقریب میں نامور گلوکار، نظیرگل استاد، لائق زادہ لائق، بابائے غزل خال محمد ، احمد گل استاد، رشیدخان، اداکار شاہد خان، رباب نواز گلاب آفریدی، پشاور پریس کلب کلچرکمیٹی کے چیئرمین احتشام طورو سمیت کثیرتعداد میں دیگر فنکاروں ، گلوکاروں اور صحافیوں نے شرکت کی ۔
تقریب سے خطاب کرتے ہوئے رباب نواز گلاب آفریدی نے کہا کہ اس دن کے منانے کا مقصد موسیقی کے ذریعے لوگوں کو امن کا پیغام دیناہے کیونکہ موسیقی کی وجہ سے ہم معاشرے کوبہتر طریقے سے امن کا پیغام دے سکتے ہیں،آج کا دن موسیقی کے آزادی کا دن ہے اور آج لوگوں میں یہ آگاہی پھلانی ہیں کہ ہم اپنے موسیقی کو کس طرھ پھلائینگے ۔
لائق زادہ لائق کا کہناتھا کہ اس خطے میں بڑے برے فنکار موجود ہے لیکن ان کو آگے لانا ہوگا جس کیلئے ضروری ہے کہ ان کی ہر میدان میں تعاون کی جائے لیکن بدقسمتی سے ان ہنرمندوں کو حکومت کے طرف سے کسی قسم کا بھی صلہ نہیں مل رہاہے اور نہ ہی ان کو آگے لے جانے کیلئے کوئی اقدامات کی جارہی ہیں جس کی وجہ سے پشتو موسیقی ذوال کو پہنچ رہاہے۔حکومت کے عدم توجہ کی وجہ سے پشتوں کی روایتی موسیقی آلات اور اس سے وابسطہ افراد ختم ہوچکے ہیں ۔
فنکاروں نے الزام عائد کیا کہ محکمہ ثقافت پر محصوص مافیاقبض ہیں جو خیبرپختونخوا کے مستحق فنکاروں کے بیرونی ممالک سے آئے ہوئے فنڈزکو بھی من پسند افراد میں بانٹتے ہیں جبکہ مستحق گلوکاروں ، فنکاروں اور ادب کے خدمت کرنے والے افراد کو اس معاوضے سے محروم رکھتے ہیں انہوں نے کہا کہ اس حوالے سے متعلقہ حکام کو متعدد بار درخوستیں دے چکے ہیں لیکن وہ بھی صوبے میں فن کی خدمت کرنے والے افراد کے مسائل حل کرنے میں دلچسپی نہیں لے رہے ہیں ۔
احمد گل استادنے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ موسیقی امن اور بھائی چارے کا ایک نام ہے اور موسیقی میں گائے گئے کلاموں میں بڑا پیغام ہوتا ہے جتنے بھی موسیقار اس دھرتی پر گزرے ہیں انہوں نے اپنے ثقافت اور بھائی چاہ قائمرکھنے میں میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ پشتو موسیقی سے انسان کو سکون ملتاہے لیکن آج کل کے موسیقی سے وہ مزہ ختم ہوچکا ہے جس سے انسان کو سکون ملتا تھا۔
بابائے پشتو غزل خیال محمد استادنے تقریب سے اپنے خطاب میں کہاکہ پہلے زمانے میں گلوکار بہت مشکل حالات میں موسیقی کے فروع کیلئے کام کرتے اور ان کی انتھک محنت کی وجہ سے آج پشتو موسیقی دنیا میں جانے جاتی ہے انہوں نے کہا کہ خیبر پختونخوا کے فنکاروں نے محدوش حالات میں بھی اپنے فن کو زندہ رکھنے کی بھر پورکوششیں کئے ہیں اوراس خدمت کو جاری رکھنے کیلئے ہمارے نسل کو کام کرنا ہوگااور اپنے دھرتی میں بھائی چارہ قائم رکھنے کیلئے ایک ساتھ مل کر کام کرنا ہوگا۔ہم فخر محسوس کرتے ہیں کہ آج کل بہت بہترین فنکار موجود ہیں جو پشتو موسیقی کو فروغ دے رہے ہیں۔
استاد نظیر گل استاد نے پشتو موسیقاروں کے کاوشوں کو سراہا اور ان کے معاشرے میں کردار کو قائم رکھنے کی تلقین کی انہوں نے کہا کہ موسیقی ایک امن کا پیغام ہے جس میں پوری دنیا بند ہے یہ ایک بہت مشکل کام ہے اور جو موسیقی سے وابسطہ ہے وہ دنیا کے عظیم لوگ ہیں انہوں نے کہاکہ موسیقی روشنی ہے جس سے علاقے میں خوشحالی آتی ہیں جو لوگوں کے غم دور کرتے ہوئے ان کو خوشیاں دیتے ہیں۔
تقریب کے آخر میں کلچر جرنلسٹ فورم کے چیئرمین نے تمام آئے ہوئے مہمانوں کا شکریہ ادا کیا اورتقریب میں فنکاروں کے مسائل کے حوالے سے قراردادپاس کرایاشرقاء نے تقریب میں فنکاروں کے مسائل کے حوالے سے صوبائی حکومت کے جانب سے انڈونمنٹ فنڈ کا اجراء،اضلاع کی سطح پرعلان کردہ آرٹ اکیڈمی کو عملی شکل دینا،ضم شدہ اضلاع کے ہنرمندوں کو بھی انڈونمنٹ فنڈ میں شامل کرنا، روایتی موسیقی کے مہدوم ہونے والے آلات کو حفوظ بنانے کیلئے اقدامات کرنا،میوزک میلے کا انعقاد کرنا،موسیقی کے نامور شخصیات کے کردار کو نصاب میں شامل کرنا،نشتر ہال کو فنکاروں کو حوالے کرناتاکہ ان کیلئے اپنے فن کو زندہ رکھنے کیلئے مناسب جگہ ملنے کا قرارداد پاس کراتے ہوئے صوبائی حکومت سے اس پر فوری عمل کرنے کا مطالبہ کیا.

Share this story
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں