365

قبائلی اضلاع: جدید دور میں خبروں کے روایتی ذرائع

موجودہ حالات میں پاکستان اور بھارت کے درمیان کشیدہ حالات کے خبریں ٹی وی ، ریڈیو اور اخبارات کی زینت بنی ہوئی ہیں۔ ماضی کے نسبت معلومات تک رسائی کے لئے سب سے آسان ذریعہ سو شل میڈیا ہی سمجھا جاتا ہے جو نہ صرف خبروں کا بڑا ذریعہ سمجھا جاتا ہے بلکہ اصل میں دونوں ممالک کے درمیان میدان جنگ تو زیادہ ترسوشل مییڈیا ہی ہوتاہے۔ بس حجرہ، مارکیٹ اور گھروں میں چھوٹے بڑے کا بھی یہی موضوع زیربحث رہتاہے۔
خیبرپختونخوا میں ضم ہونے والے قبائلی اضلاع کے لوگوں کے تازہ ترین صورتحال کے جاننے کے لئے طریقے وہی پرانا ہے ، رات کو ریڈیو پر ملکی اور بین الاقوامی نشریات سنتے ہیں ،ٹی وی سیٹ ہوتاہے مگر بجلی نہیں، موبائل نیٹ ورک موجود لیکن نیٹ کے بندش، دن کے خبروں پر حجرے میں رات کو بے لاگ تبصرے اورہر صبح جب گاؤں یا علاقے کے بازار میں اخبارات کے سٹال پر کھڑے ہوکر یا اخبار خرید کر لگ بھگ بارہ یا اٹھارہ گھنٹے کا پرانہ خبر پڑھنے کو مل جاتا ہے ۔نیٹ، ٹی وی اور تازہ ترین خبروں سے دوری شاید مقامی آباد ی کے ذہنی پریشانیوں میں کمی کا سبب بننے میں کم نہیں۔
قبائلی ضلع خیبرکے صحافی اسلام گل آفریدی کا کہناہے کہ قبائلی علاقوں میں ریڈیو پاکستان کے فریکونسی اور معیارموجودہ وقت کے تقاضوں کو پورا نہیں کرتا جس کے وجہ سے مقامی لوگ غیرملکی اور ہمسایہ ملک افغانستان کے ریڈیو سٹیشن کو سن کر تازہ ترین معلومات حاصل کرلیتے ہیں۔
قبائلی عوام ملک کے ساتھ محبت اور پیار ا اندازہ اس بات سے لگایا جایا تھا ہے کہ پاک فوج کے حمایت میں سب سے زیادہ ریلیاں ان کے علاقوں میں ہی ہوئے ہیں لیکن بدقسمتی سے اس دور جدید میں بھی معلومات سے دوری اور بنیادی سہولیات کے فقدان برسراقتدار قوت کے لئے سوالیہ نشان ہے۔
قبائلی ضلاع میں تعلیمی کی کمی اور اخبارات کے محدود رسائی کی وجہ سے زیادہ تر آفواہوں سے ہی اپنے آپ کو تسلی دیتاہیں ، بس تعلیم یافتہ اور نوکر پیشہ کے بات کو سند کے طور مانا آج ایک روایت زندہ ہے۔
ملکی سطح پر جاری حالات سے آگاہی حاصل کرنے کے لئے اخبارات کے مانگ میں اضافہ ہوچکاہے ۔ جمرودبازار میں اخبار فروش گل عسکرآفریدی نے پشاور ٹوڈے کو بتایاکہ پاک بھارت کے درمیان تعلقات میں تناؤ کے بعد اخبار پڑھنے والوں کے تعداد اور مانگ میں اضافہ ہو چکا ہے۔اُن کے بقول سٹال پر پہلے بڑے اور بعد میں چھوٹے اخبارات جلد ختم ہوکر کئی گھنٹے پہلے فارغ ہوجاتاہے ۔ جمرود بازار میں اخباروں کی سٹال کے قریب ایک ضعیف العمر شخص جو دوسرے بندے کیلئے اخبار خرید رہاتھا تاکہ اُن کو ملک کے تازہ ترین صورتحال سے آگاہی دے سکے۔

معلومات کے مطابق ضلع کرم کے مصروف ترین شہر صدہ بازار میں بھی 10بجے کو اخبار ات ختم ہوتے ہیں اور صبح سویرے دور دراز سے اخبار خریدنے کیلئے لوگ بازار جاتے ہیں جس کی وجہ سے اخبار کے سٹال پر کافی رش دیکھائی دیتا ہے ۔ اخبار ایجنسی کے مالک اجمل حسین نے کہاکہ پچھلے کئی دنوں سے اخبارا ت کے مانگ میں اضافہ ہوچکا ہے اور پہلے کے نسبت موجودہ وقت میں زیادہ اخبارات بھیج دئے جاتے ہیں اور بارہ بجے سے پہلے تمام اخبارات ختم ہو جاتے ہیں جبکہ پرچیوں کے واپسی کا سلسلہ بھی بند ہوچکا ہے۔انہوں نے کہا کہ ایک ایسا وقت تھا کہ جب صدہ میں 50اخبارات بامشکل فروخت ہوتے تھے لیکن اب یہ تعداد 5سو تک پہنچ چکی ہیں۔

Share this story
  • 9
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
    9
    Shares

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں