358

مسیحی برادری عید کے دن سڑکوں پر

لنڈی کوتل کے مسیحی برادری کرسمس کے موقع پر اپنے حق کیلئے روڈوں پر نکلنے پر مجبور ہوگئے ، مسیحی برادری نے عید کا دن احتجاج میں گزارا گزشتہ روز ضلع خیبر لنڈی کوتل کرسچن کالونی کے رہائشیوں نے حکومت کے جانب سے ان کو گھروں کی تعمیر کیلئے چار کروڑ رپے فنڈکی غیر منصفانہ تقسیم کے خلاف پشاور پریس کلب کے سامنے احتجاجی مظاہرہ کیامظاہرین نے ہاتھوں میں پلے کارڈز اور بینرز اٹھارکھے تھے جس پر اپنے مطالبات درج جس کی قیادت سنٹرل ایگزیکٹیوکمیٹی پاکستان مینارٹیز رالائنس کے ممبر ملک ارشد مسیح، چارلس مسیح اور دیگر کررہے تھے مظاہرین کا کہناتھا کہ حکومت کیجانب ریہبلیٹیشن آف مینارٹیز ہاؤس کالونیز فاٹا کے تحت لنڈی کوتل کے مسیحی برادری کو چار کروڑ روپے کی فنڈ کی منظوری کی گئی تھی جس میں غریب اور مستحق لوگوں کو کسی قسم کا فائدہ نہیں مل رہاہے اور اس میں صرف 20افراد نے زمین خرید کر اسی فنڈ کا استعمال کیا ہوا ہے جبکہ سی این ڈبلیو نے غلط بیانی کرتے ہوئے رپورٹ کیا ہواہے کہ مسیحی برادری نے اپنی مدد اپ کے تحت زمین خریدی ہے جبکہ اس میں صرف چند محصوص افراد نے ایسا کیا ہوا اور 160گھرانے اس سے محروم ہیں انہوں نے کہا کہ جن کے پاس پیسے تھے انہوں نے دو تین گھر خرید لی ہیں اور جن کے پاس پیسے نہیں تھے وہ ابھی تک محروم کررکھے ہیں انہوں نے کہا کہ ہم اپنے لئے گھر نہیں خرید سکتے جس کی وجہ سے ہمیں فنڈ میں کوئی حصہ نہیں جبکہ اس میں لنڈی کوتل کے تمام مسیحی برادری کا برابر کا حصہ ہے انہوں نے کہا کہ 20گھرانوں کے خلاف لنڈی کوتل کے مقامی انتظامیہ کے ساتھ ہمارا کیس پڑا ہوا ہے لیکن اس کے باوجود وہ انہوں نے تعمیراتی کام جاری رکھا ہے جو ہمارے ساتھ ناانصافی ہے انہوں نے وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا، چیف جسٹس پشاور ہائی کورٹ اور دیگر متعلقہ حکام سے مطالبہ کیا کہ ہمارے لئے جاری شدہ فنڈ میں مکسچن کالونی لنڈی کوتل کے تمام رہائشیوں کواراضی خرید کر ہر ایک کو پلاٹس الاٹ کیا جائے اور 20گھروں پر کام کو روکا جائے۔

Share this story
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں