78

یہ سفید پوش لوگ

ہمارا معاشرہ حقیقت میں تین بڑے حصوں میں منقسم ہیں اشرافیہ کلاس یعنیaristocrateدرمیانی طبقے کے لوگ یعنیMiddle classاور نچلے درجے کے غریب لوگ یعنیpoor classان تینوں classesمیں پہلا طبقہ تو ہر دور میں خوشحال رہنے ولاطبقہ ہے انہیں کسی چیز کی کمی نہیں ہوتی یہ وہ لوگ ہوتے ہیں جو منہ میں سونے کا چمچہ لے کر پیدا ہوتے ہیں ان کیلئے کوئی کام،روزگار کا مسلہ نہیں یہ وہ لوگ ہوتے ہیں جو جدی پشتی سیاست دان،پیر و فقیر ،بیورو کریٹ اور ٹیکنو کریٹ کے روپ میں ہوتے ہیں یا وہ لوگ جو ایک بار حکومت کے اندر ہوئے تو ان کے پورے خاندان کے وارے نیارے ہو جاتے ہیں یہ وہ لوگ ہوتے ہیں جن کے لئے پاکستان صرف پیدا ئش کا ملک ہوتا ہیں ان کی پرورش،تعلیم تربیت سب کچھ یا انگلینڈ میں ہوتا ہے یا پھر امریکہ فرانس،کنیڈا میں انہیں دوہری شہریت رکھنے والے عظیم انسانوں کا نام بھی دیا جاتا ہے ان کا پورا خاندان پاکستان میں سیاسی پارٹیوں میں منقسم ہوتی ہیں عموماً باپ ایک پارٹی میں،بیٹی دوسری پارٹی میں،بہو تیسری پارٹی میں،بیگم کسی اور پارٹی میں جبکہ بیٹا کسی اور سیاسی جماعت میں،حکومت چاہے کسی کا بھی ہو،پارٹی چاہے کوئی بھی ہو بر سر اقتدار چاہے کوئی بھی ائے انہیں کچھ نہیں کہا جاتا اور نہ ہی کوئی مائیں کا لال ان کے بال بھیگا کر سکتے ہیں ہاں اگر کسی طرف سے سختی اور پریشان کن صورتحال پیدا ہو جائے تب بھی plea barginمیں انہیں قومی خزانے کا ادھا حصہ معاف کیا جاتا ہے ملک کو لوٹنے کے بعد انہیں جیل میں وی ائی پی پروٹوکول دیا جاتا ہے اور A,B,C کلاس میں انہیں قانون کے مطابق رکھا جاتا ہے جبکہ ڈی کلاس میں سارے عام لوگ ہوتے ہیں جن کیلئے ما شا اللہ قانون بھی ایک ہے اور ان کیلئے کوئی کلاس بھی نہیں پاکستان کے سارے شوگر مل ان کے ہوتے ہیں بینک ان کے،کارخانے سارے ان کے،کاروبار سارا ان کا ،انہیں یہ اختیار حاصل ہے کہ وہ وائٹ منی کو بلیک بنائے اور بلیک کو وائٹ بنائے انہیں قانون بھی کچھ نہیں کہہ سکتا آپ اس وقت تمام سیاسی وڈیروں کا ڈیٹا اٹھا لیں اور دیکھ لیں کہ ان لوگوں کے پاس اتنی دولت کہاں سے ائی؟ قومی سطح پر اہم ترین لوگوں کے بچے کہا ں پڑھے اور پڑھتے ہیں حتی کہ مذہبی طور پر امریکہ کے مخالف لوگ اپنے بچیوں کو امریکہ میں پڑ ھاتے رہے لیکن یہاں لوگوں کو مذہب کے نام پر ورغلاتے رہے اور مغرب کو گالیاں دیتے رہے انگریزوں کو دشمن سمجھتے رہے ایسے لوگ اب بھی ملک کیلئے مستقبل کے حکمران تیار کر رہے ہیں ایسے لوگوں کی تعداد کسی صورت بھی ایک فیصد یعنی پینتالیس ہزار سے زیادہ نہیں اور ایسے لوگ اپس میں رشتے ناطے کرکے جوڑے ہوئے ہیں ان کی مفادات ایک ہیں،سیاست ان کا اڑنا بچھونا ہے تجارت ان کیلئے کھیل ہے اور مذہب کا استعمال ان کیلئے کرسی تک پہنچنے کیلئے سیڑھی،ایسے لوگ پاکستان میں by birthاس ملک پر حکومت کرنے کا حق رکھتے ہیں اور اس عمل کو جمہوریت کہتے ہیں اسکے بعد دوسرا بڑا طبقہ مڈل کلاس کا ہے یہ نہ تو اپر درجے میں جا سکتا ہے کیونکہ ان کا بیک گراونڈ اتنا مظبوط نہیں ہوتا اور اپر کلاس بلکل فرانس کی طرح انہیں قبول کرنے کے حق میں بھی نہیں ہوتا جسے نیپولین جرنیل بھی رہے،فاتح بھی ،لیکن بادشاہ فرانس لوئس کے حکم پر اسے قید بھی کیا گیا اور مارا بھی گیا بلکل اس طرح ہٹلر کے ساتھ ہوا اور اس سے زیادہ میسولینی کے ساتھ اس لئے مڈل کلاس عموماً تیسرے درجے کیلئے زیادہ موزون رہنے والے لوگ ہوتے ہیں اس درجے کا لایف سٹائیل اپر درجے کا ہوتا ہے سوچ اور اپروچ میں یہ لوگ اپر کلاس سے بڑے ہوتے ہیں مگر حالات ان کیلئے سازگار نہیں ہوتے ان کی زندگی بیلنس نہیں ہوتی اور نہ ہی ہو سکتی ہیں جب خرچ امدن سے بڑھ جائے تو بندہ مفلس ہو جاتا ہے مفلسی کی صورت میں وہ قرضے کا سہارہ لیتا ہے کیونکہ وہ اپنا بھرم رکھنا چاہتا ہے اس طرح کرتے کرتے وہ ایک ایسے مقام پر پہنچ جاتا ہے جہاں سے واپسی کسی صورت ممکن نہیں ہوتی اس لئے مڈل کلاس کے لوگ سب سے نچلے کلاس میں چلے جاتے ہیں اس وقت ہمارے ملک میں مڈل کلاس کا یہ طبقہ سب سے زیادہ متاثر ہو رہا ہے کیونکہ ان کی سوچ اپر کلاس کی ہے رہتے یہ مڈل کلاس میں ہیں اور زندگی یہ بیلنس نہیں کر پا رہے اسلئے قرضہ لیکر زندگی گزار رہے ہیں ٹینشن کی وجہ سے بیماریوں کا شکار یہ طبقہ پریشان کن صورتحال سے گزر رہا ہے پا کستان میں جب بھی مڈل کلاس کی بات ہوتی ہے تو فوراًہن میں یہ بات اجاتی ہے کہ اس سے مراد وہ لوگ جو اپنی ذاتی زندگی میں اس وقت بہت سارے چیلنجز کا مقابلہ کر رہے ہیں ان کے رہنے سہنے کا سٹائیل کلاسک ہوتا ہے ،امدن وخرچ بیلنس نہیں ہوتا بچوں کی تعلیم و تربیت اور بھی مشکل ہو تا ہے اپنے اڑوس پڑوس رشتہ داروں میں ایسے لوگ ہاتھ نہیں پھیلا سکتے اپنی ذاتی زندگی کی چیزیں کسی کے ساتھ شیر نہیں کر سکتے اور نہ ہی مانگ سکتے ہیں تب ان کیلئے زندگی مشکل بنتی جا رہی ہیں ایسے لوگوں کو وایٹ کالرز بھی کہا جاتا ہے سب سے نچلا کلاس جو اس وقت ہمارے ملک میں ساٹھ فیصد کراس کر چکے ہیں مزید بڑھ رہا ہے ان کی قوت خرید ختم ہوتی جارہی ہے ان کیلئے زندگی کسی عذاب سے کم نہیں ایسے لوگوں میں غربت تقسیم ہو رہی ہیں باغیانہ سوچ پروان چڑھ رہی ہے مگر کوئی ان کی بات نہیں سنتا سندھ میں زیادہ تر ڈاکو،بلوچستان کے لبرشن فرنٹ کے لوگ خیبر پختون خواہ میں محروم طبقہ سب اسی معاشرتی کشمکش اور غربت کی سائے میں RAwکے ہاتھوں چڑھ رہے ہیں حکمران طبقہ اپنا گن گاتے ہیں وہ ملکی معشیت کو مستحکم بنانے کے بجائے اقرباء پروری،کرپشن اور نا انصافی پروان چڑھا رہے ہیں ملک میں پچھلے کئے مہینوں سے لاکھوں گھروں کے چراغ بجھ چکے ہیں IMFکے قرضوں نیچے دبے لوگ نہ مر رہے ہیں اور نہ جی رہے ہیں حکمران طبقہ گڈ گورننس کے بجائے انتقام کی سیاست کر رہے ہیں جبکہ سوشل میڈیا پر تصویریں ڈال کر قوم کو باور کرایا جا رہا ہے کہ حقیقت میں یہ سٹیٹ اب مدینہ کی ہو گی جہاں سارے فیصلے عوامی رائے کی احترام میں ہوگی اور حضرت عمرؓ کی حکومت کی یاد تازہ ہو گی اچھی بات ہے لیکن اس کا کوئی انڈیکٹر نہیں لوگوں کی قوت خرید کس طرح بڑھے گی جب حکمران طبقہ بغیر کسی عجلت کے اپنی ممبرز کی مشاہیر میں200فیصد اضافہ کریں جبکہ عام آدمی کی زندگی میں وہ پورے مہینے کی نہیں سال کی امدن گیس کی بل میں جمع کریں جہاں چینی،چائے،گھی کی قیمت عام آدمی کی قوت خرید سے باہر ہو جبکہ صحت کیلئے ادویات پر ٹیکس لگا کر تین سو فیصد مہنگی کی جائے ڈر ہے اگر یہ حالات رہی تو بہت جلد پاکستان کے لوگ بھیک ما نگیں گے اور ڈر یہ بھی ہے کہ کہیں بھیک مانگنے کو پالیسی کا حصہ نہ بنایا جائے خدارا اس قوم پر رحم کیجئے

Share this story
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں