95

قبائلی اضلاع میں روزگار، سیاحت اور تعلیم کو فروغ دیا جائیگا: عمران خان

پشاور— سابق قبائلی علاقوں کو ترقی دینے اور لوگوں کے دیرینہ مسائل کے حل کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے وزیراعظم عمران خان نے کہاکہ سابق قبائلی علاقوں کے خیبرپختونخوا میں انضمام کے بعد ترقی اور خوشحالی کا دور آئیگا اور اس سلسلے میں مقامی طور پر موجودوسائل کو بروئے کار لانے کی بھرپورکوشش کیی جائیگی۔
ان خیالات کا اظہار وزیراعظم عمران خان نے باجوڑکے ضلعی ہیڈکوارٹرخارمیں ایک بہت بڑے عوامی اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔باجوڑمیں پہلی بارکسی بڑے سیاسی اجتماع سے خطاب کرنے سے چند ہی گھنٹے قبل وزیراعظم نے ضلع مہمندکے قضبے غلنیٗ میں قبائلی رہنماؤں کے روایتی جرگے سے بھی خطاب کیا۔
وزیراعظم نے کہاکہ انضام کا مسئلہ کوئی اسان مسئلہ نہیں ہے یہ بہت مشکل مرحلہ ہے اور اس سے کو پایہ تکمیل تک پہنچانے میں وقت لگے گا۔وزیراعظم کے بقول بعض عناصر انضمام میں روڑے اٹکارہے ہیں لہذا نوجوانوں کو ان عناصر سے ہوشیاررہنا ہوگا۔
عمران خان کا کہنا تھا کہ قبائلی اضلاع میں روزگار، تعلیم کے مواقع پیدا کرنے کے ساتھ ساتھ سیاحت کو بھی فروغ دیا جائے گا۔ جلسے سے خطاب میں عمران خان نے کہا جس میں ہزاروں‌کی تعداد میں‌لوگوں نے شرکت کی کہ باجوڑ کےنوجوانوں کو ہنر مند بنائیں گے اور باجوڑمیں چھوٹی صنعتوں کیلئےزون بنائے جائیں گے. اسی طرح‌ صحت اورتعلیم کے شعبے میں 8 ہزار نوکریاں لارہےہیں.
انہوں نے باجوڑ کےلوگوں کوانٹرنیٹ کی سہولت جلد فراہم کرنے کا نوید بھی سنائی . باجوڑ کےنوجوانوں کوآسان شرائط پر قرضے دیں گے
باجوڑ اور مہمند سے ملحقہ افغانستان کے بارے میں وزیراعظم عمرانخان نے کہا کہ افغانستان میں بہت جلد ایک نئی حکومت آئیگی جس میں تمام طبقوں کو نمائندگی ملی گی نئی حکومت کے قیام سے جنگ کا خاتمہ اور امن آئیگا۔
انہوں نے کہا کہ افغانستان کے لوگ اپنے بھائی ہے میں امن کیلئے ہندوستان کے وزیراعظم نریندرمودی سے بھی ملنے اور بات چیت کیلئے تیارہوں ۔وزیراعظم نے کہاکہ پاکستان ایک امن پسند ملک اور دنیا بھر میں امن کیلئے کردار اداکرتارہے گا۔
حزب اختلاف میں شامل جماعتوں اور ان کے رہنماؤں کا نام لئے بغیرعمران خان نے کہاکہ جو پیسہ ملک کے تعمیر اور ترقی کے فلاح وبہبودپر خرچ ہونا تھا وہ منی لونڈرنگ کی نذرکردیاگیا۔انہوں نے کہا کہ ان لوگوں نے اپنی کرپشن چھپانے کی خاطر ماضی میں دوبارہ این آراو کیا۔
انہوں نے کہا کہ اس وقت ملک کو کھروبوں روپے کے بیرونی قرضوں کا سامنا ہے اسی وجہ سے موجودہ حکومت کو مشکلات کا سامناہے اسی وجہ سے موجودہ حکومت کو مشکلات کا سامناہے تاہم اس موقع پر انہوں نے باجوڑ میں مختلف ترقیاتی منصوبوں کا اعلان کیا جس میں 300مساجد میں سولرانرجی کی فراہمی بھی شامل ہیں ۔انہوں نے کہا کہ حکومت تمام سابق قبائلی علاقوں میں فوری طور پر آٹھ ہزار افراد کو مختلف محکموں میں مزدوریفراہم کرنے کا منصوبہ بنایاہے ۔
اُنہوں نے کہا کہ ہندوستان کے وزیر اعظم صرف انتخابات میں کامیابی کیلئے جنگ چاہتا ہے جبکہ ہم جنگ کے خلاف ہیں۔
وزیراعظم نے کہا کہ سابق قبائلی علاقوں کے خاصددار اور لیویز فورسز کے اہلکاروں کے پولیس میں کھپابے کیلئے ایک منصوے پر کام شروع ہے ۔ کسی کو بھی بے روزگار نہیں ہونے دیا جائیگا بلکہ ان کو پولیس فورس کا حصہ اور بہتر تنخواہیں دی جائیگی ۔ اُنہوں نے کہا کہ قبائلی علاقوں میں ترقی کیلئے قومی مالیاتی کمیشن میں تین فیصد مختص کیا جائیگا۔
وزیر اعظم عمران خان نے باجوڑ اور مہمندکا دورہ ایک ایسے وقت میں کیا جب الیکشن کمیشن صوبائی اسمبلی کے نشستوں پر انتخابات کیلئیانتظامات کو ختمی شکل دے رہا ہے جبکہ تمام تر سیاسی قبائلی علاقوں کے خاصدارفورسز میں فرائض سرانجام دینے والے لگ بھگ 29ہزار اہلکار پولیس فورسز کے نظام کو توسیع دینے کے خلاف احتجاج پر ہیں۔
وزیراعظم عمران خان کے ساتھ دورے میں وزیراعلیٰ اور گورنر خیبرپختونخواکے علاوہ وفاقی اور صوبائی وزراء اور ممبران پارلیمان بھی شامل تھے۔

Share this story
  • 4
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
    4
    Shares

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں