132

جب سوہندرسنگھ کی زندگی کی آخری خواہش پوری ہوئی

سترسالہ سوہندر سنگھ کے زندگی میں وہ خواہش پوری ہوئی جس کا اُنہوں نے عمر بھرانتظارکیا تھا ،لیکن آج بھی اس کو یقین نہیں آرہا ہے کیونکہ یہ انتظار سات دہائیوں پرمشتمل تھا ۔وہ پاکستان کے ضلع نارووال میں ہند وستانی سرحد کے قریب سکھ مذہب کے اُس مقدس مقام گوردوارہ کرتار پور صاحب پر پہلی بار حاضر ی دینے آیا ہے جہاں پر سکھ مذہب کے بانی بابا گرونانک نے زندگی کے آخری سترہ سا ل گزرے تھے اور اُن کے زندگی کے آخری رسومات اس مقام پر اداہوئے تھے ۔سوہندر سنگھ اپنے بیٹے کے ساتھ جاپان سے آیا ہے۔ اُنہوں نے کہا کہ زندگی میں سوچا تک نہیں تک کہ ایسا ہی ممکن ہو جائیگا کہ اس کیلئے سب سے مقدس مقام کوخود آکر درشن کرے گا،لیکن آج میں اللہ کا لاکھ شکر گزار ہوں کہ اُنہوں نے مہربانی کرکے ناممکن کو ممکن بنایا۔
سوہندر سنگھ نے ہندوستان سے ایم بی بی ایس مکمل کرکے طب کے میدان میں مزید کورسز ملیشاء سے مکمل کرچکے ہیں لیکن کمائی کے ذریعہ تجارت بنا کر پچھلے چالیس سالوں سے چاپان میں رہائش پزیر ہے ۔وہ اس سے پہلے دو دفعہ نانک صاحب آئے تھے جبکہ پہلی بار کرتار پور صاحب آئے۔

گوبند سنگھ ضلع نارووال کا رہائشی ہے اور علاقے کے سیاسی اور سماجی خاندان سے اُس کا تعلق ہے جبکہ سن2000سے گوردوارہ دربار صاحب کرتار پور میں “گرنتھی”(گرو گرنتھ صاحب پاٹ) کے علاوہ تمام اُمور کے فرائض سرانجام دے دہے ہیں۔ گوردوارے کے علیشان عمارت کے قریب عراضی تین فائبیر شیٹ سے تیار کیں گئے کمروں میں مہمانوں کا استقبال چائے اور کھانے سے کیاجاتا ہے ۔ سوہندر سنگھ بھی اس کمرے میںآئے جہاں پر پہلے سے تین مسلمان بھی بیٹھے تھے ۔تمام مہمانوں کو لنگر پیش کیاگیا اور سوہندر کوتاریخی گوردوارے کے بارے میں گوبندسنگھ نے معلومات فراہم کی لیکن اُنہوں نے کہا کہ یہاں پر جاپان سے پہلی بار کوئی یاتری آیا ہے اور یہ بھی معلوم ہواکہ وہاں پر گوردوارہ ہے جہاں پر سکھ مذہب کے لوگ عبادت کے لئے جاتے ہیں۔
گوردوار ے کے چاروں طرف سرسبزکھیت اور باغات ہیں ، سفیدعلیشان عمارت دورسے نظر آتا ہے جہاں پر سکھ یاتروں کے علاوہ مقامی آبادی سیر وتفریخ کے لئے بھی آتے ہیں لیکن جب سے کرتارپور راہداری کی تعمیراتی کا شروع ہوگئی ہیں تب سے حکومت کے جانب سے لوگوں کے آمد پر پابندی عائد کی گئی ہیں ۔
گوبند سکھ نے کہا کہ باباگرونانک دیوجی کے جنم دن کے تقریبات ہرسال نانک صاحب میں ہوتا ہے جس میں شرکت کے لئے دنیا بھر سمیت ہندوستان سے بڑی تعداد میں سکھ یاتر ی شرکت کے لئے آتے ہیں اور سب کے یہ خواہش ہوتی ہے کہ وہ کرتارپور بھی آئے لیکن بہت سے سکھوں کوویزہ میں یہاں آنے کی اجازت نہیں ہوتا تھا۔ اُنہوں نے ہاتھ کے اشارے سے بتایا کہ راہداری بالکل گرود وارے کے سامنے سے ہی گزرتاہے جبکہ یہاں سے سرحدصرف چار کلومیٹر کے فاصلے پر ہے لیکن یہ مسافت ستر سالوں پر محیط ہے ۔
ناروول شہر کے طرف آتے وقت جیسے ہی آپ گوردوارے قریب پہنچتے ہیں تو سیکورٹی کے کئی چیک پوسٹوں سے گزر نا پڑتا ہے، جبکہ28 نومبر 2018 کو پاکستان کے وزیرِ اعظم عمران خان نے کرتارپور راہداری کے کام کا افتتاح کرنے کے بعدزیر تعمیر سڑک پر تیزی سے کام جاری ہے ۔ جگہ جگہ درجنوں ٹرک، کرینیں اور دوسری تعمیراتی مشینری نظرآتے ہیں جبکہ گورداورے کے عمارت کے اردگرد گہرے کھدائی کی گئی ہے ۔
سوہندر سنگھ دنیا بھر کے کروڑں سکھوں میںآپنے آپ کو انتہائی خوش قسمت سمجھتاہے کہ اُنہوں نے دربار صاحب کی درشن کی۔اُنہوں نے کہاکہ پاکستانی آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجواہ اور عمران خان نے خطے میں قیام امن کے لئے بہت بڑقدم اُٹھایا ہے جس کے بنیاد پر دونوں ممالک کے درمیان طویل تلخیاں دورہوسکتی ہیں۔کبھی نہیں سوچاتھا کہ ایک دن میری آخری خواہش پوری ہوگی لیکن آج میں ایسا محسوس کررہا ہوں کہ یہ سب کچھ میں خواب میں دیکھ رہا ہوں مگر یہ سب حقیقت ہے۔
راہداری پر چوبیس گھنٹے مختلف شفٹوں میں کام جاری ہے جبکہ حکام کے مطابق اب تک 40فیصداور باقی ماندہ 31 اگست 2019تک تمام تعمیراتی کام مکمل کرکے باباگرونانک جنم کے 550ویں تقریبات کے لئے کھول دیا جائیگاجبکہ پہلے کسی بھی سکھ عقیدت مند کو اس راستے سے آنے کی اجازت نہیں تھا۔ ہندوستان نے بھی زائرین کی آسانی کے لیے راستوں پر تعمیراتی کام شروع کر رکھی ہے اور اس بارے میں تفصیلات پاکستان کو بھی مہیا کی گئی ہیں۔ انڈیا نے پاکستان کے ساتھ بین الاقوامی سرحد پر یاتریوں کی آمد و رفت کے لیے گرداس پور میں واقع ڈیرہ بابا نانک کا انتخاب کیا ہے۔

کرتار پور راہداری کے تعمیر سے سرحد کے دونوں جانب بسنے والے ہزاروں غریب افراد کے ترقی کا باعث بنے گا ۔ ارشد ایک مقامی تاجر ہے اُن کا کہنا ہے کہ سڑک کے تعمیراتی کام مکمل ہونے کے بعد علاقے میں سیاخوں کے آمد میں اضافہ ہوگا جس سے لوگوں کے معاشی زندگی تبدیل ہوگی جبکہ سکول ، ہسپتال اور تجارتی مراکز بھی تعمیرہونگے۔
سکھ مذہب کے ماننے والوں کے ہاں یہ درگاہ مقدس ترین جگہوں میں سے ہے۔ اس جگہ سکھ مذہب کے بانی بابا گرو نانک دیو جی نے اپنی زندگی کے آخری 17 برس گزارے تھے اور 16ویں صدی میں یہاں ان کی وفات ہوئی۔گوبند سنگھ کاکہنا ہے کہ گورہ صاحب نہ صرف سکھوں کے لئے بلکہ یہاں پر مسلمان اور ہندوؤں عقیدت مند بھی آتے ہیں۔گوبند نے سوہندر سنگھ کو پوری گوردواے کا سیرکرایا جبکہ پہلے منزل پر عبادت کے حاص کمرے میں گروگرند صاحب کا کچھ حصہ بھی سنایا اور وہاں پر ایک حاص مہمانوں کا تحفہ بھی پیش کیا۔
پچھلے کئی ہفتوں سے پاکستان اور ہندوستان کے درمیان تعلقات انتہائی کشیدہ رہے لیکن اس کے باوجود بھی کرتار پور راہدداری تعمیراتی کام کے حوالے سے دنوں ممالک کے ایک اعلی سطحی اجلاس کا پہلادور ختم ہوا جس میں ویزا فری قراردینے پر اتفاق جبکہ تعمیراتی کام بروقت مکمل کرنے پر اتفاق ہواہے۔

Share this story
  • 26
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
    26
    Shares

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں