80

بریگیڈیئر (ر) اسدمنیرکا چیف جسٹس کو نیب کے خلاف ایکشن لینے کا مطالبہ

پشاور… دفاعی تجزیہ کار بریگیڈیئر (ر) اسد منیرکی مبینہ خود کشی کی وجوہات سامنے آئی ہیں. اسد منیر نے خودکشی سے پہلے چیف جسٹس آف پاکستان کے نام سےا یک خط لکھا ہے جس میں انہوں نے لکھا ہے کہ نیب کی جانب سے میرے خلاف 2008 میں پلاٹ کی رسٹوریشن کے کیس میں ریفرنس دائر کیا گیا ہے۔ جبکہ پلاٹ میں نہیں نے بلکہ چیئرمین نے ریسٹور کیا تھا۔ میں نے صرف اس کے رسٹوریشن کی سفارش کی تھی کیونکہ میں سمجھتا تھا کہ سی ڈی اے کی رسٹوریشن پالیسی کے مطابق یہ درست ہے۔
گزشتہ روز نیب کے ایگزیکٹو بورڈ کے اجلاس میں اسد منیر کے خلاف ریفرنس دائر کرنے کی منظوری دی گئی تھی، ان پر نیب نے اختیارات کا ناجائز استعمال کرتے ہوئے ایف 11 میں پلاٹ بحال کرنے کا الزام لگایا تھا.
وہ مزید لکھتے ہیں کہ 2006 سے 2010 تک میں اسٹیٹ کا ممبر رہا، ان چھ سالوں کے دوران کوئی کیس نہیں بنایا گیا لیکن اپریل 2017 کے بعد سے نیب حکام نے میری زندگی اجیرن بنا دی ہے۔
خاندانی ذرائع کے مطابق گزشتہ روز انہوں نے اپنی اہلیہ سے کہا تھا کہ ’’یہ نیب میرا پیچھا کیوں نہیں چھوڑتا؟‘‘ جس کے بعد وہ سونے چلے گئے تھے اور صبح ان کی لاش پنکھے سے لٹکی ہوئی ملی۔ اسد منیر نیب کے طرف سے ریفرنس دائر کرنے کے بعد کافی پریشان تھے۔
نومبر 2017 میں وزارت داخلہ کی جانب سے ایک ایسی ایف آئی آر کی بنیاد پر میرا نام ای سی ایل میں ڈالا گیا جس میں کبھی مجھے نامزد ہی نہیں کیا گیا۔ میں نے سیکرٹری وزارت داخلہ کو نظرثانی کی اپیل دائر کی لیکن اس کا بھی کوئی جواب موصول نہیں ہوا اور میرا نام گزشتہ ایک سال سے زائد عرصہ سے تاحال ای سی ایل میں شامل ہے۔
اپنے خط کے اختتام پر وہ لکھتے ہیں کہ میں اس امید کہ ساتھ اپنی زندگی کا خاتمہ کررہا ہوں کہ چیف جسٹس آف پاکستان نیب کے اس نظام میں مثبت اصلاحات کریں گے۔ اس ناقص نظام میں لوگ احتساب کے نام پر شہریوں کی عزتوں اور زندگیوں کے ساتھ کھیل رہے ہیں۔

وہ لکھتے ہیں کہ میں نیب کی جانب سے مزید بدنامی اور تذلیل سے بچنے کےلئے خود کشی کررہے ہیں۔
انہوں نے لکھا ہے کہ نیب میں جاری ان کے کیس کے تفتیشی افسران نااہل اور بدتمیز تھے اور انہیں اپنے کام کے بارے میں بنیادی معلومات بھی نہیں تھیں۔ مجھے سنے بغیر ہی انہوں نے یہ فیصلہ کرلیا ہے کہ میں کرپشن میں ملوث رہا ہوں۔ میرے خلاف بنائے گئے تمام کیسز آڈٹ پیراز کی بنیاد پر بنائے گئے ہیں۔
انہوں نے مزید لکھا ہے کہ وہ قومی احتساب بیورو راولپنڈی کے خصوصی تحقیقاتی ونگ کے ڈپٹی ڈائریکٹر جنرل رہے ہیں، انہوں نے اس دوران تمام ملزمان کے ساتھ عزت و احترام کا روئیہ اختیار کیا۔۔

Share this story
  • 4
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
    4
    Shares

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں