139

انضمام کے بعد بھی قبائلی اضلاع میں مایوسیاں

(تحریر خیال مت شاہ آفریدی )ضلع خیبر کے سماجی تنظیم خادم الخلق فاؤنڈیشن نے پہلی بار باڑہ پریس کلب میں ضم شدہ قبائلی ضلع خیبر میں انضمام کے بعد سے اصل صورت حال معلوم کرنے ، 25ویں آئینی ترامیم کے تحت ضم شدہ اضلاع کے عوام کو شہری حقوق فراہمی،این ایف سی ایوارڈ ،قبائلی اضلاع کو سالانہ مالیاتی پیکجز ،تعلیم ،صحت،تباہ شدہ مکانات اور انفراسٹرکچر کی بحالی کے بارے تجاویز پر مبنی گول میز کانفرنس کاانعقادکیا ۔منعقد کردہ راؤنڈ ٹیبل پروگرام میں ضلع خیبر کے مختلف مکاتب فکر سے تعلق رکھنے والے شخصیات کو مدعو کیا گیا جس میں سیاسی پارٹیوں کے مشران،سماجی تنظیموں کے قائدین،وکلا،اساتذہ ،صحافی برادری اور یوتھ کے نمائندگان شریک ہوکر کئی گھنٹوں تک ذکرشدہ موضوعات کے بارے میں اپنی رائے کا اظہار کیا ۔راؤنڈ ٹیبل کے ان موضوعات اور نکات کی نشاندہی کرتے ہوئے اس پروگرام کے میزبان اور خادم الخلق فاؤنڈیشن کے چیئر مین فاروق آفریدی نے پروگرام کاایجنڈا پیش کیا ۔ انہوں نے 25ویں آئینی ترامیم کے بعد سے فاٹا انضمام ،انتظامی مشکلات ، عدالتی مشکلات ،اصلاحاتی ،عمل ،معاشی اصلاحات اور تعلیمی سہولیات کے فقدان کا بہتر حل نکالنے کے لئے آئین کی روسے پروگرام شرکاء سے تجاویز مانگے اور زیر بحث موضوعات پر اس گول میز کانفرنس تقریباً30سے زائد شرکاء نے نہ صرف تجاویز پیش کئے بلکہ بعض نکات پر گرما گرم بحث کے بعد مسلے کی حل نکالنے کی بھی کوشش کی گئی ۔ راؤنڈ ٹیبل کے اس پروگرام میں شریک سینئرصحافی ڈاکٹر اشرف نے قبائلی اضلاع کی ادغام کے بعد قبائلی عوام کی ریاستی اداروں پر اعتماد کی بحالی ،فیصلہ سازی میں ضم شدہ اضلاع کے عوامی نمائندگان کی شمولیت اور فوری طور پر قبائلی اضلاع میں بلدیاتی انتخابات منعقد کرانے پر زور دیا ۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کا ارادہ ہے کہ صوبائی اور بلدیاتی انتخابات ہوں گے ان کا یہ بھی کہنا تھا ضم شدہ اضلاع میں قبائلی اضلاع میں 1228بیلن روپے خرچ ہوں اور یہ رقم سالانہ ترقیاتی فنڈز یعنی اے ڈی پی کے علاوہ ہے جو قبائلی اضلاع کے عوامی نمائندگان اور آپ ہی کی مرضی سے خرچ ہوں گے ۔پروگرام میں شریک پی ٹی آئی کے سینئر رہنماء جاوید آفریدی نے گول میز کانفرنس میں انضمام سے قبل قبائلی تاریخ ،جرگہ روایات اور پری ایف سی آر کے مضمرات پر جامع بحث کرتے ہوئے کہا کہ جب انگریز کا ایف سی آر یہاں لاگو نہ تھا اس وقت ہمارے قبائلی روایات بھی ایک خود کار نظام کے تحت ہواکرتے تھے اور اس نظام میں قوم قبیلہ ایک قانون ساز ادارے کے برابر کام کیا کرتے تھے بلکہ یہاں ایک غیر تحریری آئین تھی جس کے تحت قوم اور قبیلہ ان کی اکائیاں تھیں جبکہ عالمی جنگوں اور بیرونی قوتوں نے اپنے مفادات حاصل کرنے کے لئے ایف سی آر کو لاگو کیا گیا۔راؤنڈ ٹیبل سے گفتگو کرتے ہوئے ایڈوکیٹ تاج محل آفریدی نے کہا کہ وکلا برادری نے ایف سی آر کے خاتمے اور نظام کی تبدیلی میں بہت اہم کردار ادا کیا ہے اور مختلف اوقات میں تحریکیں بھی شروع کیں یہ اس لئے کہ قبائلی عوام کو انصاف نہ ملنے کی وجہ سے وہ وکلا کو بہت سارے کیسز لا رہے تھے ۔انہوں نے یہ بھی کہا کہ وکلا کی قربانی کے نتیجے میں آئینی ترامیم کے بارے صوبائی اسمبلی میں قرارداد پیش کیا گیا ۔اس اہم گول میز کانفرنس میں جس طرح دیگر سوسائیٹیز کے لوگ شامل تھے یہاں اقلیتی برادری کے نمائندے پاپیندر سنگھ نے بھی اپنے خیالات کا اظہار کیا ۔انہوں نے کہا کہ فاٹا انضمام کے بعد جرگہ سسٹم ختم ہوا ،ایف سی آر ختم ہوا لیکن متبادل کے طور پر ابھی بھی نظام کے حوالے سے ایک بہت بڑا خلا موجود ہے ۔یہاں موجودہ حکومت نے احکامات جاری کر کے الیکشن کمیشن نے غلط حلقہ بندیاں کر کے ایک بار پھر قبائلی عوام کو مایوس کیا ہے جبکہ اس بڑھ کر صوبائی اسمبلی میں 24کی بجائے 16سیٹیں مختص کی گئی ہے جو کہ ناکافی ہے۔ راؤنڈ ٹیبل میں جمرود سے تعلق رکھنے والے مقامی صحافی امیر زادہ وصال نے بھی اپنے تاثرات پیش کئے ان کاکہنا تھا کہ پولیس نظام کو بہتر کرنے کی ضرورت ہے اور اس کو فعال بنانا اب وقت کی ضرورت ہے ۔ ایک اور صحافی ساجد علی آفریدی نے کہا کہ قبائلی اضلاع اب آئین اور قانون کے دائرے میں شامل ہیں اور جس طرح ملک کے دوسرے اضلاع میں تمام انفراسٹرکچر بحال ہے ان کی بحالی کے لئے حکومت کوچاہئے کہ وہ فوری طور پر تمام تباہ شدہ تعلیمی ادارے دوبارہ تعمیر کریں ،بلدیاتی انتخابات کرائے جائے اوریہاں یہ بھی ایک ضروری امر ہے کہ بے روزگاری کے خاتمے کے لئے پہلے سے موجود خاصہ دار فورس اور لیوی فورس کو تربیت دے کر انہیں اپنے نوکریوں پر بحال رکھا جائے جبکہ نئی نوکریاں بھی علاقائی غریب عوام کے مرضی کے مطابق مختص کیا جائے ۔لنڈیکوتل کے مقامی صحافی ابوذر آفریدی نے اپنے تاثرات کا اظہار کرتے ہوئے گول میز کانفرنس شرکاء سے کہا کہ علاقائی سیاسی تنظیموں ،وکلا اور عوامی نمائندوں کا کردار ماضی میں ٹھیک نہیں رہا کیونکہ ان لوگوں نے عوام کو سیاسی شعور نہیں دیا جس کے باعث آج ہم اس قسم کے مسائل سے دوچار ہیں ۔خیبر یونین کے سابق صدر اور باڑہ کرش انڈسٹری کے رہنماء حاجی ابراہیم آفریدی نے بھی اس گول میز کانفرنس میں اپنے تجاویز اور تحفظات کا یوں اظہار کیا کہ پارلیمنٹ بے شک ایک مقدس ادارہ ہوا کرتا تھا لیکن اب یہ ایک کاروباری مرکز بن گیا ہے کیونکہ عوامی حقوق دلانے میں آج کا پارلیمینٹ مخلص نہیں ہے ۔راؤنڈ ٹیبل کو اپنے تجاویز پیش کرتے ہوئے رکن قومی اسمبلی حاجی اقبال آفریدی کے نمائندے حامد آفریدی نے کہا کہ راتوں رات کہیں بھی کوئی تبدیلی ممکن نہیں بلکہ یہاں ایک صبر ازما جدوجہد کی ضرورت ہے انہوں نے کہا کہ فاٹا انضمام کے ساتھ ایک مثبت تبدیلی یہ ہے کہ پولیٹیکل ایجنٹ کی پابند عدالت کی بجائے ہمیں ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ تک رسائی مل گیا کیونکہ پولیٹیکل ایجنٹ کی فرسودہ جرگہ سسٹم میں انصاف نہیں مل رہا تھا،فاٹا مرج کے ساتھ دیگر بہت سارے اصلاحات پر عملدرآمد ہو رہی ہے کیونکہ انتظامی اصلاحات ،سکیورٹی اصلاحات اور معاشی اصلاحات پر موجودہ حکومت سے بہت سے توقعات ہونی چاہئے ۔مسلم لیگ ن سے تعلق رکھنے والے حاجی اصغر خان آفریدی نے اپنے تجاویز پیش کرتے ہوئے کہا کہ صوبائی گورنر کی بجائے تمام تر اختیارات وزیر اعلیٰ کے پاس ہو نا چایئے اس کے علاوہ پٹواری نظام جو کہ واضح نہیں ہے اس کے لئے طریقہ کار وضع کرنا ،حلقہ بندیوں کی تقسیم آبادی کے تناسب سے کرانا چاہئے ۔گول میز کانفرنس میں شریک پاکستان عوامی انقلابی لیگ کے سربراہ عطا اللہ خان آفریدی نے کہا کہ ہمارے ملک میں اسوقت دو قسم کے لوگ ہے ایک وہ لوگ جو عرصہ دراز سے ملک کے وسائل اور سیاست پر قابض ہے اور دوسرا عام لوگ جس میں مزدور اور غریب طبقہ ہم جیسے لوگ شامل ہیں جو 80فیصد ہے جس کو شہری حقوق تک نہیں مل رہی ہے ۔رانڈ ٹیبل میں موجود ایک اور سینیئر صحافی عبدالاعظم شینواری نے فاٹا سیکرٹریٹ کو مورد الزام ٹھہرا کر کہا کہ یہاں فنڈز ابھی بھی فاٹا سیکرٹریٹ ہی تقسیم کر رہی ہے۔کاروان حق فانڈیشن کے سربراہ محمد شفیق آفریدی نے بھی شرکت کی تھی رانڈ ٹیبل میں انہوں نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ سابقہ نظام ایک جاگیردارانہ جانبدارانہ ،غیر آئینی اور غیر قانونی نظام تھا انضمام ایک تاریخی اہمیت کا حامل ہے اور ہمیں حقوق مانگنے کے لیے میدان ہموار ہوگیاہے انہوں نے کہا کہ پرانے نظام کے مراعت یافتہ لوگ اس کو ناکام کرنے دوڑ دھوپ کررہے ہیں جو کہ قبائلی عوام کے ساتھ یہ لوگ سرے سے مخلص نہیں انہوں نے کہا کہ حکومت کو چاہیے کہ وہ عملی اقدامات کے لئے لچک پیدا کرکے کچھ نہ کچھ تو ڈی لیور کریں، ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ انضمام کے بعد اب سب سے بڑی رکاوٹ ایف سی آر کے پھلے پھولے بیوروکریٹس ہے، اس وقت عوامی ضروریات اور ان کی خواہشات کے مطابق اقدامات اٹھانے چاہیے اور فوری طور پر لوکل باڈیز الیکشن کرانے چاہیے تاکہ عوام کو یہ اعتماد مل سکے کہ انضمام کے ثمرات شروع ہوگئے ہیں۔ راؤنڈ ٹیبل سے خطاب کرتے ہوئے سینئرصحافی فضل اللہ شنواری نے فاٹا انضمام کے حوالے سے کہا کہ یہ فیصلہ انتہائی عجلت اور جلد بازی میں کیا گیا ہے اس پر کوئی ہوم ورک نہیں کیا گیا اس لیے قبائلی عوام احساس محرومی کا شکار ہے انہوں نے اپنے تجاویز دیتے ہوئے کہا کہ حکومت کو اپنی جلد بازی کے آذالے کے لئے ضروری ہے کہ اب صوبائی الیکشن سے قبل بلدیاتی انتخابات کیے جائیں عدالتی نظام انتظامی نظام اور پولیسنگ سسٹم نے بہت سارے مشکلات پیدا کئے ہیں جس کی وجہ ایک بار پھر یہاں انارکی اور بدگمانی کی فضا قائم ہو گئی ہے ۔راؤنڈ ٹیبل میں موجود ایک اور سماجی کارکن داود آفریدی نے کہا کہ اس وقت قبائلی اضلاع میں یا صوبے میں مناپلی والے لوگ موجود ہے حکومت کو چاہیے کہ وہ قبائلی اضلاع میں سستا انصاف فراہم کرنے کے لیے خواتین کو بھی خواتین کے کیس حل کرنے کے لئے فیملی کورٹس اور خاتون ججز تعینات کیے جائیں اس کے علاوہ آئینی ترامیم کے لئے راہ ہموار کرکے ویمن پروٹیکشن بل پیش کی جائے،اس کے علاوہ دہشت گردی سے متاثر ہونے والے خواتین کو جو کہ فیملی سربراہ ہیں انہیں خصوصی پیکیج دیئے جائیں۔گول میز کانفرنس میں شریک لنڈیکوتل سے تعلق رکھنے والے ایک اور سینیئر صحافی فرہاد شنواری نے کہا کہ قبائلی اضلاع میں پرانے نظام میں واپسی کی کوئی امکان نہیں کیونکہ یہ آئینی تقاضا ہے لیکن انضمام کے بعد مسائل اور بھی بڑھ گئے اب ہمیں ہر مسلے کے لیے جدوجہد کرنی پڑے گی ایک صحافی کی حیثیت سے ہمیں چاہیے کہ عوام کو سیاستدانوں کو اور سماجی شخصیات کو شعور و اگہی میں کردار ادا کریں صحافیوں کو بھی چاہیے کہ اس معاملے میں نہ صرف حقیقی خبری دیں بلکہ اس میں پارٹی بننے کی کوشش ہرگز نہ کریں۔

Share this story
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں