115

شام کے مسلمان کسی مسیحا کے منتظر

دنیا اس وقت مسلمانوں کی خون سے رنگی ہوئی ہے مسلمانوں کا خون کتنا سستا ہے اور کب سے اس بات کا اندازہ اس سے لگانا مشکل نہیں کہ 1961میں الجیریا میں 1500000مسلمانوں کو تہہ تیغ کیا گیا یہ کام اس وقت بھی دنیا کے ایک طاقتور ملک فرانس نے کیا تھا جو آج بھی اتنا ہی طاقتور ہے فرنچ آرمی نے200 مسلمانوں کو شام کی دریا میں ڈبو دیا اور خود تماشہ دیکھتے رہے مسلمانوں پر ظلم و ستم کی کہانی کوئی نئی نہیں مگر ہم بہت جلد بھول جاتے ہیں ورنہ زیادہ تر دنیا کے غیر مسلم ممالک مسلمانوں کو اذیت اور تکلیف دینا شیاد عبادت سمجھتے ہیں یکے بعد دیگرے مسلمان ممالک کو نشانہ بنانا اسکی ایک کڑی ہے میا نمار،کشمیر،فلسطین،لبنان،نایجیریا،سوڈان،تنزانیہ ایراق،کویت،بحرین ،مصر،لیبیا،تیونس کے بعد اب یمن اور شام میں مسلمانوں کو بے دردی سے مرنے کے علاوہ بچوں کی قتل وغارت اور خواتین کی بے حرمتی کو مغربی دنیا بہت بڑا درجہ دیتی ہے پچھلے ہفتے فلسطین میں سوئے ہوئے بچوں کو بم سے مارنے نے بھی زندہ اجسام کی ضمیر کو نہیں جھنجوڑا غازہ سٹریپ میں اسرائیل کی حملے سے پندرہ لوگوں کی ہلاکت نے بھی حقوق انسانی کی تنظیموں کو نہیں جگایا کیاصرف باتوں سے یا قرار دادوں سے کسی ملک کو آزاد کیا جا سکتا ہے جہاں صیہونی طاقتیں،انگریز اور ہندوں سب مسلمان دشمنی پر اتر ائے ہو کیا اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل بان کی مون بھی انصاف کا مطا لبہ کرینگے اور کس سے؟ مسلمانوں کی اپنی حالت کچھ زیادہ سدھری ہوئی نہیں آج کی سب سے بڑی مسلمان طاقتیں بھی ان یہودیوں اور نصرانیوں کی ایک اشارے کی محتاج رہتی ہے یہ لوگ بھول گئے جب ہسپانیہ کے آخری بادشاہ ابو عبداللہ کو سقوط غرناطہ کے بعد وہاں سے نکال دیا گیا تو ایک پہا ڑ کی چوٹی پر رک کر اس نے غرناطہ پر آخری نظر ڈالتے ہوئے یہ تاریخی الفاظ کہے تھیں
Dont cry like a women for that which you could not defined as a manاسکے لئے عورتوں کی طرح مت رو جسکے لئے تم مردوں کی طرح نہیں لڑ سکیں مسلمان دنیا کے ساتھ بڑی طاقتوں کا یہ کھیل کوئی نیا نہیں آج اگر شام میں خون اتنا سستا ہے تو یہ بھی کوئی نئی بات نہیں لیبیا،شام،عراق اور دیگر افریقی مسلمان ریاستیں یکے بعد دیگرے غلام رہی تاہم یہ کبھی بر طا نیہ اور کبھی فرانس کے حصے میں ائی پہلی جنگ عظیم کے بعد فرانس نے 26جولائی1920کو شام پر ایک بار پر قبضہ کر لیا تب سے سلطنت عثمانیہ کا سب سے بڑا یہ ملک آگ اور خون میں نہلایا جا رہا ہے سب سے پہلے شام کے دارلخلافے دمشق کو قبضے میں لیا گیا شام کے حکمران فیصل کو ملک بدر کر دیا گیا کسی نے نہیں روکا اور نہ کوئی روک سکتا ہے ان طاقتور ممالک کو؟اسکے بعد شام کی اسی حکمران کو یعنی فیصل کو انگریزوں نے ایراق کی بادشاہت سونپی کیونکہ جس طرح بڑے لوگوں کی مفادات ہوتے ہیں اس طرح ان مفادات کو پورا کرنے کیلئے بڑے ممالک ان چھوٹے ممالک میں اپنے ایجنٹ بنا دیتے ہیں اس طرح کے لوگوں کا کوئی دین،ایمان،مذہب نہیں ہوتا بلکہ ان کا مذہب،دین اور ایمان اقتدار کی کرسی ہوتی ہے تب بہت اسانی سے انگریز اور یہود ان کو لالچ دے کر مسلمان کو مسلمان کے ہاتھوں ذلیل کرنے اور مرنے کا پروانہ عطا کرتے ہیں مسلمان دنیا کے اندر نفاق اور مخالفت اب اس حد تک پہنچی ہے کہ اسکے ازالے میں شاید دہائیاں لگیں یا پھر صدیاں اور اس چیز کو انگریز و یہود نے اچھی طرح سے کیش کیا اب شام کے اندر ایک طرف سعودی عرب اور اسکے حواری ہیں دوسری طرف ایران اور اسکے حواری ،شام میں2018سے جنگی جنون میں تیزی نے ملک کی اینٹ سے اینٹ بجھا دی ہے اور یو ایس، یوکے،فرانس اور اسکے اتحادی ممالک نے ملٹری حملہ کرکے ثابت کر دیا ہے کہ یہ دنیا صرف طاقتوروں کی ہیں اب شام پر صرف بموں کی بارش نہیں ہو رہی بلکہ میزایل بھی داغے جا رہے ہیں اور کلسٹر بم بھی اسلئے شام کی آزاد فضاوں میں بارود کی بو اور تباہی کے اثار دیکھے جا سکتے ہیں جسکے خوبصورت شہر کھنڈرات میں بدل دئے گئے ہیں اور یہ سب کچھ انسانوں کو صفحہ ہستی سے مٹانے کیلئے کیا جا رہا ہے اور وہ بھی ایک مہذب دنیا کر رہی ہے جو اپنے اپ کو ترقی یافتہ بھی کہتے ہیں خود مسلمان ممالک بھی اس جنگ کو ہوا دے رہے ہیں حکمران جماعت کے بشیر الاسد کی بعث پارٹی اس وقت ملک پر قابض ہے اس طرح اگ اور خون کا یہ کھیل 2011سے جاری ہے جس میں اب تک 560000لوگ شہید ہو چکے ہیں چالیس لاکھ سے زیادہ لوگ مہاجر ہوئیں مسلسل جنگ کے نتیجے میں پروس کے ممالک شام کے کچھ حصوں پر قبضہ بھی کر لیا ہے اب جنگ میں مسلمانوں کی اس غفلت کی وجہ سے اسرائیل کی شمولیت ایک بہت بڑا نقصان ہے جو اس وقت جنوبی شام میں مداخلت کر چکا ہے جنگ کو روکنے کیلئے 2017کے بعد سے اقوام متحدہ کی تمام تر کوشیش بھی ناکام ہو چکی ہیں کیونکہ شام میں دنیا کے بڑے ممالک اپنے مقاصد پورا کر رہے ہیں 1963سے شام کے اندر مختلف عقاید،مذاہب اور نظریات کے لوگ خانہ جنگی کو ہوا دے رہے ہیں شام میں 1963کے پہلے انقلاب سے لے کر 1971تک کئے چہرے خون خرابہ کرنے کے روپوش ہوئے تاہم پے درپے ان ساشوں میں آخر کار حافظ الااسد ایک انقلاب کے ذریعے حکمران بنے اور بعد میں صدر بنے انہوں نے زندگی کی اخری دم یعنی 2000 تک مسلسل حکومت کی اگر چہ 1976سے لے کر1982تک ملک کو مختلف بحرانوں سے گزرنا پڑا جس میں مسلم بردر ہوڈ کا برا ہاتھ تھا حافظ الا اسد کی موت کے بعد اس کا نوجوان اور خوبرو بیٹا بشیر الاسد برسر اقتدار ہوا اس نے ملک میں نئی عزم کے ساتھ حکومت کرنے اور ریفارمز لانے کا عندیہ دیا اسکی بیوی اسماء نے اس کے ساتھ دیا مگر حقیقی دنیا میں یہ جوڑا لوگوں کی امنگوں پر پورا نہیں اتر سکا ادھر عرب سپرنگ کی وجہ سے جب مشرق وسطی میں بغاوت شروع ہوئی تو ملک شام بھی اس کے زیر اثر ایا لوگ شاید اس حکومت سے تنگ اچکے تھیں جو پانچ دہائیوں سے شام پر بر سر اقتدار رہی مگر بشیر الا سد اقتدار کی کرسی سے چمٹے رہے روس اور امریکہ نے جہاں چاہا جنگ شروع کیا اور جب چا ہا بند کیا مگر شام میں وہ اس جنگ کو جاری رکھنا چاہتے ہیں اسلئے کئے دفعہ تو جنگ روکنے اور امن برقرار رکھنے کیلئے قرار دادوں کو بھی اقوام متحدہ کے جنرل امسبلی میں انہوں نے ویٹو کر دیا گیا اور مختلف نسل کے لوگوں کو اقتدار کے نام پر مزید تقسیم کرنے کے بعد شام کی اینٹ سے اینٹ بجھا دی شام کی کل آبادی اس وقت 19,454,263ہے جس میں عرب نسل سے تعلق رکھنے والے پچاس فیصد ہے الویتی پندرہ فیصد،کرد دس فیصد،لیونٹین دس فیصد،درز،اسماعیلی،امامی،نصرانی،اسیرانی،ترک،ارمینی بھی اس ملک میں رہتے ہیں مسلمانوں کی آبادی 87% ہے جس میں74%سنی اور13%شیعہ ہے دس فیصد شام میں عیسائی ہیں جبکہ یہودیوں کی تعداد3%ہے اسلئے کوئی بھی نہ حکومت مان رہا ہے او نہ حکومت کرنے دیا جا رہا ہیاور یہی شام کا المیہ ہے

Share this story
  • 8
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
    8
    Shares

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں