170

پشاور بس منصوبے کے تکمیل میں تاخیر،عوام سراپا احتجاج

پشاور۔۔۔ خیبر پختونخوا کے دارلخلافہ پشاور کے بس منصوبے کے تکمیل میں تاخیر اور آئے روز اس منصوبے میں تبدیلیوں نے زندگی کے مختلف شعبوں بالخصوص تاجروں اور دکانداروں کو احتجاج شروع کرنے پر مجبور کردیا ہے۔
مختلف سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں، بلدیاتی اداروں کے منتخب نمائندوں اور تاجروں پر مشتمل پشاور قومی جرگے نے آئندہ 26 مارچ سے احتجاج شروع کرنے کی دھمکی دی ہے جس کے مطابق اگر حکومت وعدے کے مطابق بی آرٹی منصوبے کا باقاعدہ افتتاح 23 مارچ کو کرنے میں ناکام رہا تو سڑکوں اور چوراہوں کو بند کرنے کے علاوہ سابق وزیر اعلیٰ پرویز خٹک اور سابق چیف سیکرٹری امجد علی خان کے خلاف کاروائی شروع کرنے کیلئے قومی احتساب بیورو کے پشاور دفتر کے سامنے بھی احتجاج کیاجائیگا۔
پشاور قومی جرگے کا اجلاس کنوینئر خالد ایوب کے سربراہی میں منعقد ہوا جسمیں پشاور کے سیاسی جماعتوں ، تاجر تنظیموں اور سماجی حلقوں کے رہنماؤں اور نمائندوں نے میٹروبس سروس منصوبے کی تکمیل میں تاخیر پر شدید ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ اگر حکومتی وعدے کے مطابق یہ منصوبہ 23 مارچ تک مکمل نہیں کیاگیا تو 26 مارچ کو بھرپور احتجاج کیاجائیگا۔ اور منصوبے میں بدعنوانی کے ذمہ داران کے خلاف قومی احتساب بیورو میں بھی درخواست دائر کی جائیگی۔
پشاور قومی جرگے کے کنوینئر اور تاجر اتحاد کے رہنما خالد ایوب نے پشاور ٹوڈےکو بتایا کہ پشاور بس منصوبہ بغیر کسی خاص منصوبہ بندی کے شروع کیاگیا ہے اسی وجہ سے روزانہ کی بنیاد پر اس منصوبے کے ڈیزائنگ میں تبدیلیاں کی جارہی ہے۔ اُنہوں نے کہا کہ اس منصوبے سے تاجروں کو اربوں کے نقصان ہونے کے علاوہ صوبائی خزانے کو بھی خاصا نقصان پہنچاہے۔
ان کے بقول یہ منصوبہ 35 ارب سے شروع کیا گیا ہے مگر اس وقت اس کے اخراجات تقریبا 66 ارب سے تجاوز کرچکے ہیں جبکہ یہ اخراجات آخر میں 80 ارب روپے سے بھی تجاوز کرجائینگے۔
خالد ایوب نے کہا کہ نت نئے تبدیلیوں کے باعث اب پشاور بھر کے دکانداروں ، تاجروں اور دیگر لوگوں کو بھی احساس ہوا ہے کہ بس منصوبے کے بعد سڑکوں کی کشادگی کیلئے ان کے جائیدادوں کے خلاف تجاوازات کے نام پر کاروائی شروع کی جائیگی۔ ان کے بقول بس منصوبے کے تکمیل کے بعد بھی ٹریفگ کے مسائل جوں کے توں رہینگے۔
پشاور کے انجمن تاجران کے صدر ملک مہر الہی نے بتایا کہ اس منصوبے سے پشاور کے تاجروں اور دکانداروں کو اربوں روپے کا نقصان ہورہاہے۔ تمام تر کاروبار ٹھپ ہوکر رہ گیا ہے۔
صوبائی وزیر اطلاعات شوکت علی یوسفزئی نے وائس آف امریکہ کو حکومت کے موقف کے بارے میں بتایا کہ بس منصوبہ پشاور کے شہریوں کے مفاد میں ہیں اور پشاور کے لوگ اس سے خوش ہیں مگر ا ن کے بقول حزب اختلاف میں شامل سیاسی جماعتوں کے رہنماء ان تاجروں اور دکانداروں کو سیاسی مفادات کے حصول کیلئے حکومت کے خلاف اکسا رہے ہیں۔
پشاور کے بس منصوبے پر ستمبر 2017 میں سابق صوبائی وزیر اعلیٰ پرویزخٹک کی حکومت نے کام شروع کیا تھا ۔ پرویزخٹک کی حکومت نے اس منصوبے کو 46 ارب کے لاگت سے 6 مہینوں کے اندر اندر مکمل کرنے کا دعوٰی کیاتھا۔ تاہم یہ منصوبہ ابھی تک زیر تعمیر ہے اور حزب اختلاف میں شامل جماعتوں کے رہنماؤں کے بقول اس کے اخراجات 80 ارب روپے سے تجاوز کرچکے ہیں۔ تاہم پشاور کے ترقیاتی ادارے کے عہدیداروں کے دعوٰی کیا ہے کہ ابھی تک اس منصوبے پر لگ بھگ ساڑھے 66 ارب خرچ کئے جاچکے ہیں

Share this story
  • 27
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
    27
    Shares

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں