142

حکومتی وعدے اور قبائلیوں کی بڑھتی ہوئی احساس محرومی

قبائل علاقوں کو خیبر پختونخوا میں انضمام کے بعد درجنوں اعلانات کے باوجود عملی کام شروع نہ ہوسکا جس کی وجہ سے قبائلی علاقوں کے رہائشیوں کی محرومیوں مزید اضافہ کردیا گیا ،ایف سی آر کے خاتمے کے بعد گزشتہ کئی ماہ سے قبائلی عوام کیلئے متابدل قانون اور انفراسٹرکچر نہ ہونے کی وجہ سے عوامی مشکلات میں دن بدن اضافہ ہوتا جارہا ہے ،وفاقی اور صوبائی حکومتوں کا خزانہ خالی ہونے کے باوجود روزانہ کے بنیاد پر قبائل اضلاع ایک نہ ایک اعلان کےئے جارہے ہیں وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا نے بھی انضمام کے بعد مخلتف قبائلی اضلاع کا دورہ کرنے کے ساتھ ساتھ صوبائی وزراء کو بھی ہدایات جاری کردی کہ وہ ہفتے میں ایک دفعہ قبائلی اضلاع کا دورہ کرلیا کرے ،وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا کے ہدایات جاری کے بعد کئی وزراء نے قبائلی اضلاع کا دورے بھی کےئے مگر کسی بھی وزیر کو شائد اندازہ ہی نہیں تھا کہ آب قبائلی اضلاع خیبر پختونخوا کا حصہ ہے یہاں پر وہ بھی اپنے محکمے کی جانب سے ان قبائلی اضلاع میں کوئی ترقیاتی کام کا اعلان کرسکتا ہے ،صوبائی حکومت کی جانب سے آب تک قبائلی ضلعوں میں وزیراعلیٰ اور صوبائی وزراء کے دورے صرف سیاسی پوائنٹ سکورنگ کے علاوہ کچھ نہیں ،کیونکہ اکتیس آئینی ترمیم کے تحت قبائلی اضلاع میں ایف سی آر ختم ہونے کے بعد تاحال سات قبائلی سابق ایجنسی اور موجودہ قبائلی اضلاع میں بسنے والے لاکھوں افراد بغرے کسی قانون کے تحت زندگی گزار رہے ہیں پرانا قانون ختم کردیا گیا نیاقانون تاحال نافذ نہ ہوسکا جس کی وجہ سے ان قبائلی ضلعوں میں چھوٹے چھوٹے مقدمات میں قیدہزاروں قیدی نئی قانون کے منتظر ہے جو ان لوگوں کی رہائی کا سبب بن گی ،آب تک قبائل اضلاع میں پشاور ہائی کورٹ کے 28 ججز کی تعیناتی کے علاوہ تمام اعلانات صرف اخباری بینات تک محدود ہے 24 مئی 2018 کو وفاق کے زیرِ انتظام قبائلی علاقے (فاٹا)کے صوبہ خیبرپختونخوا میں انضمام کے حوالے سے 31ویں آئینی ترمیم کا بل قومی اسمبلی میں منظور کیا گیا تھاوزیرِ قانون محمود بشیر ورک کی جانب سے مذکورہ بل حکمراں جماعت مسلم لیگ (ن)اور اپوزیشن کے درمیان افہام و تفہیم کے بعد پیش کیا گیا تھاقومی اسمبلی اجلاس میں فاٹا اصلاحات بل کی منظوری کے لیے رائے شماری کی گئی تھی جس کی حمایت ایوان کی اکثریت نے کی تھی۔قبائلی اضلاع کو خیبر پختونخوا میں انضمام سے پہلے اور انضمام کے بعد کسیکو شائد اندازہ نہیں تھا کہ گزشتہ کئی سالوں سے دہشت گردی سے متاثرہ قبائلی اضلاع کے مشکلات کیا ہے ،تعلیمی اداروں کا کیا صورتحال ہے کتنے تعلیمی ادارے دہشت گردی سے متاثر ہوئے اور کتنے آب تک بحال کردےئے گئے ،صحت کے مراکز کا صورتحال تو یہ ہے کہ کسی بھی قبائلی ضلع میں شائد اتنی ہی سہولیات تک مےئسر نہیں کہ وہاں پر کسی مریض کا معمولی آپریشن کیا جائے ،انضمام پر قبائلی اضلاع کے اکثریت عوام نے خوشی کا ظہار بھی کیا کہ جو قانون پاکستان کے دیگر صوبوں اور کے دیگر باشندوں کیلئے ہوگا وہ قبائلی عوام کیلئے بھی ہوگا مگر کچھ لوگوں نے انگریز زمانے کے قانون ایف سی آر میں رہنے کو ترجیح دی اور انضمام کے مخالفت میں اپنا احتجاج بھی ریکار ڈ کرایا گیا ،جس طرح بھی ہوا قبائل علاقوں کو خیبر پختونخوا میں ضم کرنے کا باقاعدہ اعلان 31 ویں آئینی ترمیم کے تحت کردی گئی اور ساتھ ہی یہ اعلان کردیا گیا کہ قبائلی اضلاع میں 1228 ارب روپے ترقیاتی کاموں پر خرچ کےئے جائینگے جس میں ہر سال سو ارب روپے قبائلی اضلاع میں ترقیاتی کاموں پر خرچ ہونگے جس میں تاحال کوئی فنڈز قبائلی اضلاع کو جاری نہ ہوسکا ،ایک طرف قبائلی ضلعوں میں ترقیاتی کاموں کیلئے روزانہ کے بنیاد پر نئے نئے اعلانات سامنے آرہے ہیں تو دوسری جانب قبائلی اضلا ع میں نئی بھرتیوں وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا اور گورنر کے درمیان اختیارات پر سرد جنگ جاری ہے جس کی وجہ سے تاحال وہاں پر نئی بھرتیوں پولیس نظام ،سمیت بلدیاتی انتخابات اور صوبائی نشستوں پر انتخابات کیلئے کوئی شیڈول جاری نہ ہوسکا ،وزیراعظم عمران خان کی جانب سے قبائلی اضلاع کے تمام امور وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا محمود خان کو سپر د کرنے کے باوجود گورنر خیبر پختونخوا شاہ فرمان نے قبائلی اضلاع کیلئے الگ ٹاسک فورس تشکیل دینے سے واضح ہورہا ہے کہ قبائلی اضلاع میں اختیارات کی جنگ سے صوبائی حکومت نے تاحال وہاں پر کوئی واضح روڈ میپ نہ دے سکا ،صوبائی حکومت کی جانب سے قبائلی اضلاع میں کام کرنے والی مختلف محکموں جو فاٹا سیکرٹریٹ کے انڈر کام رکرہے تھے کو صوبائی محکموں کے ماتحت کردیا ہے مگر ان محکموں جو اس سے پہلے وفاق سے ترقیاتی کاموں کیلئے فنڈز موصول ہورہاتھا آب صوبائی محکموں اور صوبائی خزانے سے ہوگا مگر وفاق اور صوبائی حکومت کو شدید مالی بھران کی وجہ سے ان محکموں کوفنڈز کی عدم فراہمی کی وجہ سے بھی قبائلی اضلاع میں ترقیاتی کام روک گئے ،قبائلی اضلاع میں اس وقت سب سے بڑا مسلہ لیوز اور خاصہ دار فورسسز کا ہے صوبائی حکومت کی جانب سے خاصہ دار اور لیوز فورس کیلئے الگ قانون نافذ کرنے سے ہزاروں اہلکاروں کی نوکریاں بھی داوٗ پر لگی ہے جس کی وجہ سے روزانہ کے بنیاد پر سات قبائلی اضلاع میں الگ ایکٹ کیخلاف احتجاج کیا جارہا ہے،اس سے قبل قبائلی اضلاع میں سابق انسپکٹر جنرل آف پولیس صلاح لادین محسود کا تبادلہ بھی قبائلی اضلاع میں اختیارات پر جاری سرد جنگ کی وجہ سے کیا گیا تھا ،سابق آئی آئی جی پی نے قبائلی اضلاع میں پولیس ایکٹ کو نافذ کرنے کیلئے اور وہاں پر پولیس انفرسٹرکچر کو بنانے کیلئے صوبائی حکومت سے اٹھارہ ارب روپے طلب کرلےئے تھے جس میں تاحال کوئی پیش رفت نہ ہوسکا جس کی وجہ سے قبائلی اضلاع میں پولیس نظام کو نافذ کرنے کیلئے مشکلات کا سامنا ہے ،قبائلی اضلاع کے 28ہزارسے زائد خاصہ دار اورلیوی اہلکاروں کو مجوزہ آرڈیننس کے ذریعے باقاعدہ سروس سٹرکچردینے کی بجائے ریوڑیوں پرٹرخایاجارہاہے اورانہیں فرنٹیئرکانسٹیبلری کی طرح ایک علیحدہ فورس بنائے جانے کاامکان ہے۔خیبرپختونخواحکومت قبائلی اضلاع کے ضم ہونے کے بعد وہاں موجود خاصہ دار اور لیوی اہلکاروں کو پولیس میں ضم کرنے کی بجائے ایک نئی فورس کی تشکیل کیلئے آرڈیننس تیار کررہی ہے جس میں تجویز کیاگیاہے کہ خاصہ داراورلیویزکوپولیس میں ضم نہ کیاجائے ۔ضم شدہ سیکرٹریٹ کے ایک اعلیٰ اہلکارکے مطابق اسوقت قبائلی اضلاع میں 15ہزار773 خاصہ دار اور 12ہزار لیویزاہلکارکام کررہے ہیں خیبرپختونخواحکومت کی ابتدائی تجویزتھی کہ لیویزاورخاصہ داروں کو پولیس میں ضم کیاجائے تاہم بعدازاں پولیس کے اعلیٰ حکام نے اس کی شدیدمخالفت کی جن میں سابق آئی جی صلاح الدین محسودبھی شامل ہیں انہوں نے بتایاکہ پولیس کے مطابق خاصہ دار اور لیوی اہلکاروں کو اگرپولیس میں ضم کیاجاتاہے توان کی مدت ملازمت او رعمرکے باعث انکی سینیارٹی رہتی اسوقت قبائلی اضلاع میں موجودصوبیدارمیجر ڈی ایس پی کی پوسٹ پر،صوبیدارایس ایچ او اور نائب صوبیداراے ایس آئی ہوتا پولیس نے تحفظات کااظہارکرتے ہوئے کہاکہ ان اہلکاروں کو کسی بھی صورت ریگولرپولیس پرفوقیت نہیں دی جاسکتی اس لئے ان کی علیحدہ فورس بنائی جائے۔مجوزہ خاصہ دار اینڈلیویزآرڈیننس کے مطابق لیویز اورخاصہ داروں کی موجودہ حیثیت برقراررہیگی ان کی تنخواہوں میں تھوڑااضافہ کیاجائیگا ضلعی سطح پر کمانڈنٹ خاصہ دار اور لیوی اہلکاروں کاافسرہوگا جب کہ سات قبائلی اضلاع میں موجود ان اہلکاروں کاانچارج ڈائریکٹرجنرل ہوگا کمانڈنٹ اور ڈائریکٹرجنرل دونوں پولیس اہلکارہونگے جوایس پی سے لیکرڈی آئی جی کے رینک تک ہوسکتے ہیں ۔ محکمہ داخلہ کے ایک اعلیٰ افسرکے مطابق قبائلی اضلاع میں موجود لیویز اورخاصہ دار فورس کو پولیس کے برابر تنخواہیں بھی نہیں دی جائیں گی اگر ان کی تنخواہیں پولیس کے برابرکی جاتی ہیں تو صوبائی حکومت کو صر ف ان کی تنخواہوں اور مراعات کی مد میں15ارب سے زائد کی ادائیگی کرنی پڑیگی اسوقت قبائلی اضلاع میں موجود لیویزاورخاصہ داروں کی تنخواہ12سے15ہزارہے جب کہ پولیس اہلکاروں کی تنخواہ35ہزارسے اوپر ہے۔اس وقت قبائلی اضلاع میں کام کرنے والے خاصہ داروں اور لیوی اہلکاروں کو کوئی رسک اورسکیورٹی الاؤنس بھی نہیں دیاجاتاحتیٰ کہ کسی حادثے کاشکار ہونے کے بعد انہیں شہداء پیکج کے زمرے میں بھی نہیں لایاجاتا۔خیبرپختونخواکے قبائلی اضلاع میں خاصہ داراورلیویزاہلکار سراپااحتجاج ہیں کہ ان کی تنخواہیں پولیس کے برابرلائی جائیں اورانہیں پولیس میں ضم کیاجائے ۔واضح رہے کہ قبائلی اضلاع اور بندوبستی اضلاع کے سرحدی علاقوں کو تحفظ دینے کیلئے پہلے ہی فرنٹیئرکانسٹیبلری بنائی گئی ہے صوبائی حکومت نے ابتدائی طور پر فیصلہ کیاتھاکہ فرنٹیئرکانسٹیبلری کے اہلکاروں کو پولیس میں ضم کرنے کے بعد ایلیٹ فورس کادرجہ دیاجائیگاتاہم اب محکمہ پولیس اس متعلق مکمل خاموش ہے اورصوبائی حکومت کے مطابق فرنٹیئرکانسٹیبلری کی موجودہ تشخص کوچھیڑنے کی بجائے برقراررکھاجائیگا۔
صوبائی حکومت نے نئے ضم شدہ اضلاع میں تھانوں کے قیام کا اعلان کر دیامحکمہ داخلہ و قبائلی امور کی جانب سے جاری باقاعدہ اعلامیہ جاری کیا گیا ہے جس کے مطابق تمام قبائلی اضلاع میں 25 تھانے قائم کیے جائیں گے۔اعلامیے کے مطابق قبائلی ضلع باجوڑ میں پولیس سٹیشن خار اور نواگئی، قبائلی ضلع مہمند میں پولیس سٹیشن لور مہمند، اپر مہمند اور بائی زئی جبکہ قبائلی جلع خیبر پولیس سٹیشن لنڈی کوتل اور تھانہ باڑہ قائم کیا جائے گا۔اعلامیے میں مزید کہا گیا کہ قبائلی ضلع اورکزئی میں دو پولیس سٹیشن لوئر اورکزئی اور اپر اورکزئی، قبائلی ضلع کرم میں تین لوئر، سنٹرل اور اپر کرم، شمالی وزیرستان میں تین میرعلی، میران شاہ اور پولیس سٹیشن رزمک جبکہ جنوبی وزیرستان میں بھی تین سروکئی، وانا اور لدھا میں تھانے قائم کیے جائیں گے۔اعلامیہ کے مطابق ضلع کوہاٹ میں پولیس سٹیشن درہ آدم خیل اور بنوں میں پولیس سٹیشن وزیر، ضلع لکی مروت میں پولیس سٹیشن بیٹنی اور ڈیرہ اسماعیل خان میں پولیس سٹیشن درہ زندہ، ضلع ٹانک میں پولیس سٹیشن جنڈولہ جبکہ تھانہ حسن خیل ضلع پشاور میں ہوگا۔قبائلی علاقوں کی ترقی کے حوالے سے سات روزہ مشاورتی اجلاس اختتام پذیر ہوگیا جس میں خیبرپختونخوا کے 32 محکموں کے ہزار سے زائد اہلکاروں نے شرکت کی۔محکمہ منصوبہ بندی و ترقی اور یو این ڈی پی کے تعاون سے منعقدہ اجلاس کی اختتامی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے صوبائی وزیرخزانہ تیمور سلیم جھگڑا کا کہنا تھا کہ قبائلی علاقوں کی ترقی کیلئے اگلے دس سالوں کے دوران 12 سو 28 ارب روپے تجویز کیے گئے ہیں اور حکومت کی کوشش ہے کہ یہ رقم عمارتیں کھڑی کرنے کی بجائے انسانی ترقی اور قبائلی عوام کے معیار زندگی کو بہتر کرنے پر خرچ کیے جائیں۔وزیرخزانہ نے وضاحت کرتے ہوئے بتایا کہ اب تک خیبرپختونخوا، پنجاب اور وفاق نے این ایف سی ایوارڈ میں اپنے حصے سے تین فیصد قبائلی اضلاع کو دینے پر رضامندی ظہر کی ہے جبکہ ان کی کوشش ہے کہ سندھ اور بلوچستان کو بھی راضی کرلیا جائے۔اس موقع پر یو این ڈی پی پاکستان کے کوآرڈینیٹر نیل بوہنی کا کہنا تھا کہ ان کا ادارہقبائلی علاقوں کے انضمام میں دل سے تعاون کر رہا ہے اور ہماری خواہش ہے کہ یہ متاثرہ لوگ ترقی و خوشحالی کی راہ پر گامزن ہوں۔انہوں نے مزید کہا کہ 20 سال قبل قبائلی عوام کو حکومت سے اتنی امیدیں نہیں تھیں تاہم بندوبستی علاقوں کو نقل مکانی کے بعد اب وہ بھی دیگر لوگوں کی طرح ترقی اور بہتر معیار زندگی کا مطالبہ کررہے ہیں۔یو این ڈی پی کے نمائندے نے کہا کہ قبائلی علاقوں معیشت کے بیشتر ذرائع غیرقانونی ہوتے ہیں جبکہ وہاں کے لوگوں کیلئے ممتبادل روزگار کا بندوبست حکومت کیلئے اب ایک بڑا چیلنج ہے۔نیل بوہنی کے مطابق قبائلی علاقوں میں اس وقت سب سے بڑا چیلنج وہاں کی عوام کی ضروریات کا ادراک اور ان میں اصلاحات لانا ہے۔گزشتہ ہفتے کو خیبر پختونخوا کے سیکرٹری خزانہ شکیل قادر نے بھی قبائلی اضلاع کیلئے تعینات جوڈیشنل افسران چار روہ ٹریننگ کے دوران واضح کیا تھا کہ وفاقی حکومت این ایف سی سے تین فیصد رقم اگلے دس سال کیلئے فاٹا کو فراہم کریگاتین فیصد کے مطابق اس وقت 128 ارب روپے ملنے ہیں مگر صوبوں کو اعتراض ہے جون تک انہی اخراجات پر قبائلی اضلاع کو چلائیں گے ، جولائی کے بعد نئی فنڈز ملیں گے سیکرٹری خزانہ خیبر پختونخوا شکیل قادر نے کہا کہ قبائلی اضلاع کیلئے امسال 62 ارب روپے استعمال ہونگے اگلے سال 70 ارب روپے قبائلی اضلاع کیلئے مختص ہونگے فاٹا کو دئیے جانیوالے فنڈز پر سندھ اور بلوچستان کو اعتراض ہے پنجاب بھی فاٹا کو دئیے جانیوالے فنڈز پر اعتراض ہے مگر بات نہیں کررہا باجوڑ اور ایبٹ آباد کی آبادی اور رقبہ یکساں ہے مگر فنڈز یکسان نہیں باجوڑ کیلئے چالیس کروڑ جبکہ ایبٹ آباد کیلئے باسٹھ کروڑ روپے صوبائی حکومت جاری کرتی ہے قبائلی علاقوں کو آغاز سے ہی نظر انداز کیا گیاقبائلی علاقوں میں ایسی بلڈنگ بھی ہے جہاں پر لوگ درکار ہیں گیارہ ہزار ایسے آسامیاں خالی ہیں جنہیں ہم نے آغاز میں ہی مکمل کرنا ہے ،ایک طرف صوبائی حکومت کو قبائلی اضلاع میں فنڈز کی کمی کا سامنا ہے تو دوسری جانب اختیارات پر جاری جنگ نے بھی قبائلی اضلاع کو صوبے میں انضمام پر جاری کام سست روی کا شکار ہے اٹھارویں ترمیم اور اکتیس ویں آئنی ترمیم کے بعد قبائلی ضلعوں کا تمام اختیارات صوبے کے چیف ایگزیگٹیو وزیراعلیٰ کے پاس ہونا چاہےئے مگر کچھ عرصہ قبل وفاقی حکومت کی جانب سے گورنرخیبر پختونخوا کو قبائلی اضلاع میں کچھ امور کا اختیار دینے کے بعد اٹھارویں ترمیم کی نفی کرتا ہے تو دوسری جانب سے خیبر پختونخوا کے دو اہم عہدوں پر تعینات گورنر اور وزیراعلیٰ کے درمیان اختیارات کی جنگ سے بھی قبائلی ضلعوں کا صوبے میں انضمام کے عمل سست روی کا شکار ہوگیا
پشاور ہائی کورٹ کی جانب سے قبائلی اضلاع میں 28 جوڈیشنل افسران کی تعیناتی کردی گئی مگر وقبائلی اضلاع میں بلڈنگ کی کمی کے وجہ سے ان افسران کو قریبی ضلع ہید کوارٹروں میں کام کرنے کیلئے ہدایات کردی ہے جس کے بعد قبائلی اضلاع میں فواجدار ی اور پولیٹیکل انتظامیہ کے پاس تمام کیسسز ان عدالتوں میں ٹرانسفر کےئے جائینگے مقدمات متعلقہ ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن ججز صاحبان کو حوالے کر دیئے جائیں گے

Share this story
  • 18
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
    18
    Shares

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں