95

طاقتور اقوام کی حکمت عملی

دنیا وجود میں انے کے بعد ان طا غونی طاقتوں کے ہاتھوں میں چلی گئی جنہوں نے صرف اپنی ذات کے بارے میں سوچھا پھر کیا تھا دولت،زمین اور طاقت تینوں کو جمع کرنے اور دوسروں کا استحصال ایک معمول بن گیا ہابیل اور قابیل جو حضرت آدم علیہ السلام کے بیٹے تھیں ان کی اپس میں دشمنی اور پھر قتل نے دنیا کو ایک اور امتحان میں ڈال دیاجو آج تک قائم ہے اورآج تک روئے زمین پر قتل وغارت کا جو بازار گرم ہے وہ اصل میں مال د دولت،رتبہ اور شان حاصل کرنے کیلئے ایک با غیانہ سوچ کی مانند ہے اسلئے پہلے انسان نے اپنے ارد گرد کو کنٹرول میں لیا اور جب طاقت بڑھ گئی تو دوسروں کو غلام بنانا شروع کیا ایک گھر سے پڑوس اور پھر گاوں،شہر اور ممالک میں اہستہ اہستہ پیھلنے والی انسانی خواہشات کا دامن وسیع تر ہوتا چلا گیا اور پھر بات ذات سے اقوام تک پہنچی دنیا میں کتنے ظالم ائے اور چلے گئے جنہوں نے اپنی ان خواہشات کو پورا کرنے کیلئے طاقت کا بھرپور استعمال کیا حضرت سلیمان علیہ السلام نے پوری دنیا پر حکومت کی جس میں رعایا صرف انسان نہیں تھیں بلکہ جانوروں اور جنات کے ساتھ ساتھ تمام مخلوقات پر اس نے حکومت کیلیکن وہ مثالی تھی جس میں انسانوں کیلئے سبق ہے اس طرح ذوالقرنین نے بھی پوری دنیا پر حکومت کی جس نے اللہ کی زمین پر اللہ کی بات کی جبکہ کافروں میں بخت نصر اور نمرود نے پوری دنیا پر حکومت کی جس میں نفسا نفسی کا عالم تھا اور دولت،طاقت کا نشہ، جبکہ فرعون کی حکومت صرف مصر اور اسکی مضافات تک محدود تھی تاہم اصل فرعون پشت درپشت خدائی کا دعوی کرتے ہوئے آخری فرعون طوطا خامن تک چلیں اور اس میں بھی دنیا کا جاہ وجلال شامل تھا اسکے بعد بھی دنیا طاقت کے متوالوں کے درمیان پھنسی رہی اور جنگ،جھگڑے ،خون خرابہ ہوتا رہاامیر تیمور،چنگیز خان ہٹلر،مسولینی،سکندر اعظم انہی لوگوں میں شامل تھیں جو پوری دنیا کو رام کرنا چاہتے تھیں تاہم ان سب کے اندر ایک چیز تو commonتھی کہ ان کی سوچ وحشیانہ تھی اور انداز امرانہ،جب ہٹلر نے پہلی جنگ عظیم میں شکست کا بدلہ لینا چاہا تو اس نے دوسری جنگ عظیم کو وحشیانہ اور ظالمانہ بنایا اور پوری دنیا کو آگ میں دھکیل دیا اسکی سوچ یہ تھی کہ صرف ہماری قوم یعنی جرمن کا تعلق اریا نسل سے ہیں اور دنیا میں صرف جرمن قوم کو حق حاصل ہے کہ وہ حکومت کریں باقی لوگ زور زبردستی سے یا پھر اپنی مرضی سے رعایا بنے بس، اسے نہیں پتہ تھا یہ دنیا کسی کی نہیں صر ف اسی کی ہے جو بقید حیات ہیں اس نے اپنی قوم کیلئے پوری دنیا کو فتح کرنے کا خواب دیکھا تھا تب وہ کسی چیز پر کمپرومائیز نہیں کر رہا تھا اپنے اڑوس پڑوس میں تو وہ کسی کو معاف کرنے والا نہیں تھا اٹلی،پولینڈ،اسٹریا تو گویا وہ اپنی کالونیاں سمجھ رہا تھا اسلئے اس نے دوسری جنگ عظیم کو بہت طول دیا اور چھ سالہ اس جنگ نے ادھی دنیا کو ہڑپ کر لیا اور62ممالک اس جنگ سے متاثر ہوئے اور اربوں ڈالر خرچ ہوئے اس جنگ میں دنیا کے کمزور ممالک تباہ و برباد ہوئے اور طاقتور ممالک نے اپنی حثیت اور طاقت کو لوہا ایک بار پھر منوایا اسکے فوراً بعد اقوام متحدہ وجود میں آیا جس کا بنیادی مقصد دنیا میں جنگ کو روک کر امن قائم کرنا تھا اقوام متحدہ کے چھ ذیلی ادارے بنائے گئے جنرل اسمبلی،سیکورٹی کونسل،اکنامک اینڈ سوشل کونسل،ٹرسٹ سیپ کونسل،بین الاقوامی عدالت انصاف اور سیکرٹریٹ ،24اکتوبر1945کو قائم ہونے کے بعد سے لے کر آج تک اس پر صرف پانچ ممالک کا قبضہ ہے جو دنیا کی طاقتور اقوام ما نے جاتے ہیں تاہم انہوں نے اپنی رعایا میں اس وقت51ممالک شامل کئے تھیں تاکہ انہیں مانیں اگر چہ اب اسکی ممبر ممالک کی تعداد 193تک پہنچی ہیں پانچ مستقل ممبر یعنی امریکہ،روس،چین،فرانس اور برطانیہ کا کل بھی اس پر ہولڈ تھا اور آج بھی ہے یعنی اسکی قیام سے لے کر اب تک 74سال ہوئے ہیں مگر ان بڑی قوتوں کے علاوہ اور کوئی بھی مستقل ممبر شیپ حاصل نہیں کر سکا اور نہ ہی کر سکتا ہے اب دنیا میں ممبرز کی تعداد بڑھی اسلئے اقوام متحدہ کو زمینی حقائق دیکھ کر اپنے طریقہ کار اور قانون سازی میں لچک پیدا کرنا چاہیے مگر ایسا کوئی سوچ بھی نہیں سکتا ان پانچ ممالک نے حقیقت میں پوری دنیا کو یرغمال بنایا ہوا ہے اور کسی کی کیا مجال کہ کوئی اسکی کسی فیصلے سے بغاوت کریں اور اقوام متحدہ ان کیلئے ایک ضمانت ہیعجیب بات یہ ہے کہ جب ان کو کوئی فیصلہ اچھا نہیں لگتا توان کے پاس اختیار ہے وہ اسکو vetoکریں عرب لیگ کے22 مما لک نے کب سے کوشش شروع کی تھی کہ وقت اور حالات کے مطابق اس کی کور کمیٹی سمیت طریقہ کارمیں تبدیلی لائی جائے مگر بیکار،کچھ عرصہ پہلے عرب لیگ نے واک اوٹ اور پھر بائیکاٹ کا بھی عندیہ دیا تھا مگر یہ اسکی بھول تھی ایشاء کے ممالک بھی دروازے کے باہر احتجاج کرتے رہے لیکن فائدہ کوئی نہیں دنیا کے سارے غریب ممالک ان پانچ طاقتور ممالک کا کیا کر سکتے ہیں جو ٹیکنالوجی کی دوڑ میں شامل ہیں وار ٹیکنالوجی کو وہ غریب ممالک پر بھیچتی ہیں ان ممالک کا اپس میں تصادم کرکے بعد میں ویٹو کرتی ہے شام میں روان جنگ پانچ سال اسکی ایک مثال ہے لاکھوں لوگ ہجرت کر گئے اور لاکھوں مرے بھی مگر روس اور امریکہ نے ایک دوسرے کو ویٹو کرکے شام کو دوبارہ کالو نی بنانے کا شاید سوچھا ہو یمن میں بچے ،خواتین بھوک کے مارے مر رہے ہیں مگر کوئی نہیں پوچھ رہا افغانستان،پاکستان،ہندوستان میں ہر وقت جنگ کا سماں رہتا ہے جو ان کی مہربانی ہے جنگیں اب بھی اس معاشرے کی سب سے بڑی تباہی پھیلانی والی اوزار ہے مگر انکو روکنے والا کوئی نہیں کیونکہ جنگ کے ساتھ ان کے مفادات بہت بڑے ہیں ایسے میں دنیا کا کیا بنے گا اور غریب ممالک کا جن کے پاس کھانے کو روٹی اور پینے کیلئے پانی نہیں 80000000کروڑلوگ بھوک کے مارے مر رہے ہیں اور افریقہ میں تو جسے طاعون کی وباء پھیل گئی ہو مگر کوئی ٹس سے مس نہیں ہو رہا افریقی بیچاروں کا کون پوچھے گا وہ بیچارے تو رنگ سے بھی کالے ہیں عرب کے بدھو جن کے پاس تیل کی دولت ہے وہ ان ممالک کو کچھ نہیں بگاڑ سکی کیونکہ اس وقت عرب ممالک کے تیل سے مالا مال حکمرانوں کیلئے یورپ اور امریکہ عیاش کدے ہیں جہاں ان کی زندگی پھول کے مانند گزرتی ہیں اسکے علاوہ ان پانچ ممالک میں بنگلے،کوٹھیاں،بینک بیلنس ہیں ان پانچ ممالک کے پاس ایٹمی طاقت اور ٹیکنالوجی،فن اور ہنر کدے ہیں جبکہ تعلیم کی شرح 99%کی قریب ہے جو مسلمان دنیا ignoreکر رہی ہے ایک زمانے میں مسلمان دنیا کا طاقتور قوم تھا مگر وہ اپنا مذہب بھول گئے اور کردار سے ہٹ گئے اس وقت ان پانچ اقوام کا دنیا پر ہولڈ کی وجہ سے ترقی کا پہیہ صرف ان کیلئے گھوم رہا ہے باقی دنیا کیلئے روکا ہوا یہ پہیہ کون چلائے گا؟ جس میں عام ممالک اور اقوام کا کام صرف ان کا تحفط اور بریت ہے دنیا میں غربت کے زمہ دار بھی یہی پانچ اقوم ہیں،جنگ و جدل کے زمہ دار بھی یہی پانچ ملک ہیں لیکن بلی کے گلے میں گھنٹی کون باندھے گا؟

Share this story
  • 4
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
    4
    Shares

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں