136

انضمام کے بعد قبائلی عوام الجھن کا شکار

پشاور۔۔ ۔قبائلی علاقوں کا خیبر پختونخوا میں انضمام کے بعد نہ صرف وہاں کے عام عوام بلکے انضمام کے حمایت کرنے والے بھی اب الجھن کا شکار ہوگئے ہیں۔
ٹرائبل یوتھ مومنٹ کا کہنا ہے کہ ہم نے بہتر مستقبل کیلئے انضمام کے حمایت کی تھی تاکہ قبائلی علاقوں میں تعلیم، صحت ، روزگار کے مواقع میسر ہوسکے لیکن انضمام کے بعد وہاں پر لوگوں سے روزگار چھینا جارہاہے۔
انضمام کے وقت قبائلی عوام سے کئی وعدے کئے گئے تھے لیکن اس پر عملدرآمد کے بجائے وہاں پر پہلے سے موجود روزگار چھینا جارہاہے۔
ٹرائبل یوتھ مومنٹ کے مرکزی صدرخیال زمان اورکزئی نے کہا ہے کہ مرکزی حکومت نے وعدہ کیاتھا کہ قبائلی اضلاع کو انضمام کے بعد این ایف سی ایوارڈ میں تین فیصد حصہ دیاجائیگا لیکن اس پر ابھی تک ابھی تک عملدرآمد نہیں ہو ا ہے۔ جبکہ ہزاروں کے تعداد میں لیویز اور خاصدارفورس کو پولیس میں شامل کرنے کے بجائے اُنہیں جبری نوکریوں سے فار ع کیا جارہا ہے ۔
خیال زمان اورکزئی نے پشاورٹوڈی کو بتایا کہ قبائلی اضلاع کے انضمام کے فیصلے کے ساتھ وہاں کے عوام کے ساتھ جو وعدے کیں گئے تھے اُس پرپچھلے چھ مہینوں میں کوئی عمل درآمد نہ ہوسکا اور دن بدن مقامی آبادی کے مسائل میں اضافہ ہورہاہے ۔ایک سوال کے جواب میں اُنہوں نے کہا کہ پہلے فرصت میں این ایف سی ایوارڈ میں تین فیصد حصہ دینے کے فیصلے پر جلد عمل دارآمد ضروری ہے
فاٹایوتھ جرگے کے ممبر اور ٹرائبل یوتھ مومنٹ فی میل ونگ کے سربراہ نائلہ الطاف نے کہاکہ قبائلی علاقوں کو خیبر پختونخوا میں ضم ہونے بعد پید ا ہونے والے مسائل کے حوالے سے اعلی سطح پر ملاقاتیں ہوچکی ہیں لیکن تمام اداروں کا ایک ہی موقف کہ جب تک ترقیاتی فنڈ جاری نہیں کیا جاتا تب تک ان علاقوں میں ترقیاتی منصوبوں پرکام شروع نہیں کیا جاسکتا ۔ اُنہوں نے کہا کہ انضمام سے پہلے جو وعدے اور دعوے کئی گئی تھے۔ اُس پر عمل دارآمد دکھائی نہیں دے رہا ہے جس کے وجہ سے نئے مسائل پید ا ہونگے ۔
ٹرائبل یوتھ مومنٹ کے رہنماؤں نے کہا کہ صوبائی حکومت اور بیوکریسی کے درمیان اختلافات کے وجہ سے قبائلی اضلاع کے عوام کو نقصان پہنچ رہا ہے جس کے فوری خاتمے کیلئے مرکزی حکومت کو کراداکرنا چاہیے ۔
پچھلے کئی دنوں سے قبائلی اضلاع میں انضمام مخالف افراد لیویز اورخاصہ دار فورس کے 29ہزار اہلکاروں کے جبری رخصتی کے خلاف شدید احتجاج کررہے جبکہ دوسرے جانب ضلع خیبر کے تحصیل باڑہ کے دورافتاد علاقے شین کمر میں قائم کردہ انسدادی منشیات یا اینٹی نارکیٹس فورس کے چیک پوسٹ کے خاتمے کے حوالے سے مقامی عسکری حکام کے ساتھ بات چیت کی جس میں اس چیک پوسٹ کوجلد از جلد ختم کرنے کایقینی دہانی کرائی گئی۔
ٹرائبل یوتھ مومنٹ نے مرکزی اور صوبائی حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ قبائلی علاقوں کے انضمام کے بعد قبائیلیوں کے ساتھ کئے گئے وعدوں کوجلد از جلد عملی جامعہ پہنایاجائے۔

Share this story
  • 14
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
    14
    Shares

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں