70

بس ریپڈٹرانزٹ سروس (بی آرٹی)خیبرپختونخواحکومت کیلئے مسلسل گھاٹے کاسوداثابت ہورہاہے

بس ریپڈٹرانزٹ سروس (بی آرٹی)خیبرپختونخواحکومت کیلئے مسلسل گھاٹے کاسوداثابت ہورہاہے ،محکمہ ٹرانسپورٹ نے بی آرٹی کے فعال نظام کیلئے خیبرپختونخواحکومت سے مزید دس ارب روپے طلب کرلئے اور واضح کیاہے کہ اگر سواریوں سے فی سٹاپ 15روپے لینے ہوں تو اس صورت میں حکومت کوسالانہ18سے20کروڑکی سبسڈی دینی ہوگی۔محکمہ ٹرانسپورٹ نے وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا اور محکمہ خزانہ کو مراسلہ بھیجاہے کہ بی آرٹی پشاورکاتعمیرتی کام مارچ تک مکمل ہونے کی توقع ہے جس کے بعد 220بسوں کو چلانے ،عملے کی تعیناتی ،انٹیلی جنس ٹرانسپورٹ سسٹم کی تنصیب ، بجلی کی بلاتعطل فراہمی اور دیگر کئی ضروریات کے لئے انہیں مزید دس ارب 40کروڑدرکارہیں ۔محکمہ ٹرانسپورٹ نے واضح کیاہے کہ گزشتہ سال وزیراعظم کو خصوصی بریفنگ کے دوران بھی وزارت ترقی ومنصوبہ بندی کے ذریعے بتایاگیاتھاکہ ابتدائی طور پر انہیں سبسڈی کی ضرورت ہوگی ۔محکمہ ٹرانسپورٹ کے ایک اعلیٰ افسرکے مطابق بی آرٹی پشاورکیلئے حکومت نے ابتدائی طور پر 15روپے فی سٹاپ مقرر کیاہے اورزیادہ سے زیادہ چمکنی سے لیکر حیات آبادتک پچاس روپے وصول کئے جائینگے تو اس صورت میں بی آرٹی کی بسیں اپنی لاگت پوری نہیں کرسکتیں اورانہیں مزیدرقم کی ضرورت ہوگی جس کیلئے حکومت کو آگاہ کیاہے۔محکمہ ٹرانسپورٹ نے پشاورمیں پہلے سے موجودبسوں کے روٹس کو ختم کرنے اور بی آرٹی کے ذریعے سفرکرنے کے علاوہ دیگرمشکلات کے خاتمے کیلئے اسوقت دوکنسلٹنٹ کی خدمات لی ہیں جن کو ماہانہ لاکھوں روپے کی ادائیگی تنخواہوں کی مد میں کی جارہی ہے ۔اپنی ابتدائی رپورٹ نے دونوں کنسلٹنٹ نے صوبائی حکومت کو بتایا ہے کہ بی آرٹی کی کامیابی کیلئے حکومت کوسالانہ کم ازکم 18کروڑجاری کرنے ہونگے ورنہ بس کی فی سٹاپ کرایہ پچاس روپے مقررکیاجائے ۔اپنی رپورٹ میں کنسلٹنٹ نے یہ بھی کہاہے کہ اگرکرایہ یہی برقراررکھاجاتاہے تو سبسڈی کی رقم میں دیگراخراجات کی طرح بھی اضافہ کرناہوگا ۔واضح رہے کہ خیبرپختونخوا حکومت کے ترجمان شوکت یوسفزئی اور وزیراعلیٰ محمودخان کئی مواقعوں پرکہہ چکے ہیں کہ بی آرٹی کیلئے ایشیائی ترقیاتی بینک سے جوقرضہ لیاگیاہے وہ کرایے کی مد میں وصول شدہ رقم کی آمدنی کے ذریعے ادا کیاجائیگا جب کہ محکمہ ٹرانسپورٹ کے مطابق پوری دنیا میں شہروں میں چلائی جانے والی اربن ٹرانسپورٹ حکومت کیلئے ہمیشہ گھاٹے کاسوداہوتاہے لیکن شہریوں کوسہولیات دینے کیلئے یہ عمل نہایت ضروری ہوتاہے جسے فعال رکھنے کیلئے ایشیائی اوریورپی ممالک اربن ٹرانسپورٹ کو سبسڈی دیتے ہیں ۔محکمہ ترقی ومنصوبہ بندی کے سابق سیکرٹری اور وزیراعلیٰ کے موجودہ پرنسپل سیکرٹری شہاب علی شاہ سے کچھ عرصہ قبل جب سبسڈی کے متعلق پوچھاگیاتھاتوانہوں نے واضح کیاکہ اسوقت حکومت کاسبسڈی دینے کاکوئی ارادہ نہیں تاہم محکمہ ٹرانسپورٹ کے ایک اعلیٰ انتظامی افسرکہتے ہیں کہ بی آرٹی سبسڈی کے بغیرنہیں چلائی جاسکتی۔

Share this story
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں