81

خیبرپختونخوا حکومت نے آئس اور دیگر نشہ آور اشیاء کی روک تھام کیلئے قانونی مسودہ تیار

خیبرپختونخوا حکومت نے آئس اور دیگر نشہ آور اشیاء کی روک تھام کیلئے قانونی مسودہ تیار کرتے ہوئے منشیات کے کاروبار سے وابستہ افراد اوراستعمال کرنے والوں کیلئے سخت ترین سزائیں مقرر کر دی ہیں قانونی مسودے میں آئس اور دیگرنشہ آور اشیاء استعمال کرنے والوں کیلئے سزائے موت، 25سال قید اور50لاکھ روپے جرمانہ تجویز کیا گیا ہے صوبے میں نشہ آور اشیاء کی روک تھام سے متعلق تیار رکردہ قانونی مسودے کے مطابق آئس اور دیگر منشیات کے مقدمات کیلئے خصوصی عدالت کا قیام عمل میں لایا جائے گاآئس تیار کرنے والے، خریدو فروخت سے وابستہ افراد اور استعمال کرنے والوں کیلئے سزائے موت ،25سال قید، 14سال قید،10سال قید اور50لاکھ روپے تک جرمانہ کی سزائیں مقرر کی گئیں ہیں10کلوگرام منشیات کے الزام میں گرفتار افراد کیلئے عمر قید کی سزا تجویز کی گئی ہے سو گرام آئس پرسات سال قید اور تین لاکھ روپے جرمانہ کی تجویز دی گئی ہے قانونی مسودے کے مطابق منشیات کی کاروبار سے بنانے والی جائیدادیں اور نقد رقم کو بھی حکومت تحویل میں لے سکے گی منشیات کی روک تھام کے لئے نارکاٹیکس کنٹرول فورس کا قیام عمل میں لایا جائے گا جن کا سربراہ ڈائریکٹر جنرل ہوگا نارکاٹکس فورس کو صوبے میں منشیات کے کاروبار سے وابستہ افراد کے خلاف کاروائی کا اختیار دیا گیا ہے نارکاٹکس فورس کے پاس اختیار ہوگا کہ وہ منشیات کے کاروبار سے منسلک افراد کی گرفتاری سے لیکر ان کی جائیدادیں سیل کر سکے صوبے میں نشہ آور اشیاء کی تیاری میں استعمال ہونے والے پودوں کو لگانے پر مکمل پابندی ہوگی جبکہ نشہ آور اشیاء میں استعمال ہونے والے پودہ جات لگانے کو حکومت کی اجازت سے مشروط کر دیا گیا ہے جو ادویات، سائنسی تجربات اور صنعتی مقاصد کیلئے استعمال میں لائی جاسکے گی اس کیلئے حکومت لائسنس جاری کرے گی مسودے کے مطابق ایک کلو گرام سے زائد آئس کے جرم میں گرفتار افراد کیلئے سزائے موت اور10لاکھ روپے جرمانہ تجویز کیا گیا ہے منشیات کے مقدمات کیلئے خصوصی عدالت کا قیام عمل میں لایا جائے گا جس کیلئے پشاور ہائیکورٹ کے چیف جسٹس سے مشاورت کے بعد جج کی تعیناتی کی جائے گی مجوزہ بل میں صوبہ بھر میں منشیات کے عادی افراد کی رجسٹریشن اورسرکاری اخریاجات پر علاج کی تجویز بھی شامل ہے ۔

Share this story
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں