78

فاٹاولمپک ایسوسی ایشن کو صوبائی اولمپک میں ضم کرنے کی مخالفت

فاٹااولمپک ایسوسی ایشن نے فاٹاولمپک ایسوسی ایشن کو صوبائی اولمپک میں ضم کرنے کی شدید مخالفت کرتے ہوئے وفاقی حکومت اور پاکستان اولمپک ایسوسی ایشن کے حکام سے قبائلی اضلاع اور ایف آرزمیں نوجوانوں کو صحت مندانہ سرگرمیوں کی سہولیات نہ چھین نے کا مطالبہ کیااور کہاکہ جب فاٹااور صوبے میں دہشت گردی کی لہر تھی توفاٹااولمپک اور قبائلی اضلاع میں کھیلوں کے عہدیدارتھے جنہوں نے سپورٹس کا محاذ استعال کرکے نوجوان نسل کو کھیلوں میں مشغول رکھ کر انہیں ہر قسم کی غلط سرگرمیوں سے بچارکھاہے،اور اب جوبھی فاٹااولمپک ختم کرنے کہ بات کرتے ہیں وہ خطے میں دوبارہ بدآمنی کے ذمہ دار ہونگے ۔ان خیالات کا اظہار گزشتہ روزپشاور میں ہونیوالے فاٹااولمپک ایسوسی ایشن کے دوسری جنرل کونسل اجلاس سے صدر شاہد شنواری،سیکرٹری جنرل رحمت گل آفریدی ،اتھلیٹیکس کے صدر سیف الاسلام،فاٹاجوڈوکے نور شاہ آفریدی،جمناسٹک کے شمس اورکزئی ،فاٹابیڈمنٹن معراج الدین،سائیکلنگ کے صدر حاجی رحمن،فاٹاآرچری کے منظور آفریدی ،نواز اورکزئی اور فاٹاکی واحد خاتون کرکٹرجمائمہ آفریدی ودیگرشرکاء نے مختلف موضوع پر خطاب کرتے ہوئے کیا۔شاہد شنواری نے بتایاکہ 2011سے قبل قبائلی اضلاع میں جو حالات تھے اس سے سب واقف ہیں ،نوجوان نسل کی بہتر رہنمائی اور سرپرستی کرنے کا کوئی بندوبست نہیں تھی ،فاٹااولمپک کے صدر جنرل (ر)عارف حسن کی جدوجہدکے بدولت فاٹامیں کھیلوں کے سابق کھلاڑیوں اور چند اہم شخصیات جن میں سابق گورنرانجینئر شوکت اللہ خان بھی شامل تھے کی کاوشوں سے جب 2011میں فاٹااولمپک کا قیام عمل میں لایاگیاتو اللہ کے فضل اور فاٹااولمپک ایسو سی ایشن کے عہدیداروں نے کا شروع کیااور انہی کی کوششوں سے قبائلی اضلاع کے نوجوانوں ودیگر افراد کے ذہنوں میں ایک مثبت تبدیلی آئی ،یوتھ کلاشنکوف کلچرکل سے دور ہوکر کھیلوں کے میدانوں میں مشغول رہے اور آج ہر قبائلی ضلع میں کرکٹ،بیڈمنٹن،آرچری،فٹ بال،ہاکی،جمناسٹک، بیس بال اور دیگر کھیلوں میں بے تحاشہ ٹیلنٹ سامنے آرہے ہیں،جن کی ایل لمبی فہرست ہے ۔انکاکہناتھاکہ فاٹاولمپک کے قیام سے آج تک فاٹااولمپک ایسوسی ایشن یا ضلعی مختلف کھیلوں کی ایسوسی ایشنز کو دیگر صوبوں کی طرح سالانہ گرانٹ نہیں ملا،تاہم اسکے باوجود فاٹااولمپک ایسوسی ایشن اور مختلف کھیلوں کی ایسوسی ایشنز کے عہدیداروں نے ملکر ایک ٹیم کی شکل میں گراں قدر خدمات انجام دیتے ہوئے قبائلی قبائلی خطے میں شعبہ کھیل کو فروغ دیااور اس طرح قبائلی نوجوان کھلاڑیوں نے نیشنل گیمز و مختلف قومی چمپئن شپ سمیت انٹر نیشنل سطح پر ہمارے کھلاڑیوں نے ایک علیحدہ شناخت سے حصہ لیااور لاتعدادمیڈلز جیت کر نہ صرف فاٹابلکہ پاکستان کی نیک نامی میں اپناکلیدی رول اداکیاہے اور اللہ کے فضل سے ہم آج اس مقام پر پہنچ گئے ہیں۔شاہد شنواری نے اجلاس کو بتایاکہ قبائلی یوتھ اورسیاسی شخصیات نے فاٹاکے عوام کے حقوق کیلئے کو صوبے میں ضم ہونے کیلئے جدوجہد کی ہے ، لیکن افسوس سے کہناپڑتاہے کہ ہماری اس جدوجہد کے باوجود قبائلی نوجوانوں سے ان کا حق چھین کر انہیں آگے بڑھنے اور ملک کی ترقی کیلئے خدمات انجام دہی سے روک کر فاٹااولمپک ایسوسی ایشن ختم کرانے کی بات کررہے ہیں۔جنرل کونسل کے اجلاس میں فاٹااولمپک سمیت تمام کھیلوں ایسوسی ایشزکے عہدیداروں نے متفقہ طور پر فاٹااولمپیک ایسوسی ایشن کی موجودہ حیثیت کو ختم کرنے خیبر پختونخوامیں ضم ہونے کی شدید الفاظ میں مخالفت کیااور کہاکہ کسی صورت بھی فاٹااولمپک کو ختم نہیں ہونے دینگے اور مخالفین کوانکے مزموم مقاصد میں ہر گزکامیاب نہیں ہونگے دینگے ،کیونکہ فاٹااولمپک کے وجود سے قبائلی کا آمن وابستہ ہے اور ہم کبھی بھی قبائلی اضلاع کا آمن ایک مرتبہ پھر تباہ ہونے نہیں دینگے ۔

Share this story
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں