79

خواتین کا عالمی دن

ہر سال 8مارچ کو خواتین کے حقوق کا عالمی دن منایا جاتا ہے اس دن کے منانے کا مقصد خواتین کے بارے منفی رحجانات کے حامل معاشرتی رویوں کو ختم کرکے ان کیلئے بہترین ماحول پیدا کرنے کے ساتھ ساتھ ان کی خدمات کا اعتراف کرنا اور انہیں اچھی نظر سے دیکھنا مقصود ہے اس دن پوری دنیا میں بڑی بڑی ریلیاں نکالی جاتی ہیں خواتین کی حقوق کو تحفظ دینے اور معاشرے میں انہیں جائز مقام دلانے کیلئے مختلف تنظیمیں واک کرتی ہیں سیمینارز منعقد ہوتے ہیں حقیقت میں اس دن دنیا بھر کے خواتین کو فوکس کرکے ان پر ہونے والے کسی ظلم، نا انصافی کے خلاف ایکا کیا جاتا ہے اس دن یہ تہیہ بھی کیا جاتا ہے کہ سماج میں عورت کو جس نظر سے دیکھا جاتا ہے اسکو قابل رحم بنایا جائے اپنی حد تک گھر اور معاشرے میں ان کے کام کو سراہا جائے ان کے پیچیدہ مسائیل حل کئے جا ئے کیونکہ وہ بھی انسان ہیں انہیں قابل احترام بنایا جائے اس دن دنیا بھر کی خواتین کے ساتھ کسی قسم کی امتیازی سلوک discriminationروکنے کی بات بھی کی جاتی ہییا پھر دنیا کی توجہ اس طرف مبذول کرائی جاتی ہے تاکہ خواتین مردوں کی طرح زندگی گزار سکیں جبکہ خواتین کیلئے سازگار ماحول بنا کر sexual harrsement کو روکنا بھی اس دن کی مقاصد میں شامل ہیں مرد کے ساتھ شانہ بشانہ کا م کرنے والی خواتین کا کل بھی برا حال تھا اور آج بھی،کیونکہ ان کے کسی کام کو قدر کی نگاہ سے نہیں دیکھ اجا تا اس طرح اس دن خواتین کیلئے عالمی سطح پر participationکا عمل اور بہترین زندگی کی سہولیات فراہم کرکے globalبنانا بھی ان مقا صد میں شامل ہیں سب سے پہلے اس د ن کو 1910 نیو یارک میں منایا گیا دنیا میں قائم سوشلسٹ خواتین اپنی حقوق کیلئے باہر نکلیں تاہم اس دن کو تقویت تب ملی جب روس میں انقلاب آیا جس میں سینکڑوں خواتین بری طرح متاثر ہوئی اسی طرح فرانس اور جرمنی نے تو خواتین کے ساتھ ظلم و جبر کی حد پار کر دی اگر سچ پوچھا جائے تو آج سے صرف چار سال پہلے جب نایجریا میں داعش نے 350خواتین کو اپنی جنسی درندگی کیلئے اغوا کیا تھا اور برملا اعلان کرتے ہوئے انہیں اپنی حوس کا نشانہ بنایا تو یہ اندازہ لگانا مشکل نہیں کہ خواتین کا ہمارے معاشرے میں مقام کیا ہے؟ یورپ کے زیادہ تر شہروں میں چھوٹے موٹے واقعات کے علاوہ جنسی درندگی کی انوکھی مثالیں لا محدود ہیں اسلئے جب عزت و احترام کی بات کی جاتی ہے تب اسکا مقصد دنیا کی کسی بھی خطے میں خواتین کو مردوں کے قہر و غضب،جنسی خواہیشات سے بچانا ہوتا ہے امریکہ،چین،جاپان،کنیڈا،افریقہ اور انڈیا تو خیر ٹاپ آف دی لسٹ ہیں جب کہ عورت کی ذات کو سیاسی شعور دینے کے علاوہ انہیں سماج میں وہ مقام دلانا اس دن منانے کا مقصد ہے جس کی وہ سچ مچ حقدار ہوتی ہیں مگر کوئی اسے مانتا نہیں بلخصوص ہمارے اس معاشرے میں ایک گھر کے اندر کام پر لگی ہوئی خاتون کو ذرا چیک کر دیکھ لیں اور گھر کے کام خود کریں پھر اندازہ ہو جائے گا پانی گرم کرنے سے لے کر واش روم تک کی صفائی،گھر کے صحن کی صفائی،کپڑں کا دھونا،کھانا پکانہ،بچوں کو سکول کیلئے تیار کرنا الغرض ایک عورت صبح سے شام اور بچپن سے بوڑھاپے تک اس حصار میں رہتی ہیں بس، لیکن مرد کتنا ظالم ہوتا ہے کہ وہ اپنی بد آخلاقی اور منفی روئے سے ان کا دل توڑ دیتا ہے حکومت میں بھی ان کیلئے کوئی خاص مراعات نہیں اسلئے اس دن کم ازکم خواتین نکل کر مردوں،حکومتوں اور ضالم سامراج سے مطالبہ کرتی ہیں کہ وہ انہیں خاتون مان لیں بس اتنا کافی ہے مگر ساتھ میں انسان بھی ما نیں انہی چیزوں کو سامنے رکھ کر اقوام متحدہ نے بھی اس دن کا منانے کا فیصلہ کیا تاہم آج بھی دنیا کے کئے ممالک اس دن کو با قاعدہ نہیں مناتے ہیںیورپ کے اندر تو خیر خواتین کے وہ مسائیل نہیں جو ہمارے ہاں موجود ہیں وہاں مرد اور خواتین با قاعدہ طور پر ایک گاڑی کو دو پہیے ہوتے ہیں زندگی گزارنے کیلئے دونوں فکر معاش کے علاوہ سو شل لائف کے بھی اکھٹے ہوتے ہیں تاہم خواتین کیلئے بچے پیدا کرنے کا مرحلہ یورپ میں زیادہ سخت ہوتا ہے اور تشویش ناک بھی جب جوانی میں خواتین اپنی حد سے تجاوز کریں تو، کیونکہ شادی کا تصور چرچ میں کسی بھی صورت 2%سے زیادہ نہیں ایسی صورت میں دو تین بچے پیدا کرنے کے بعد یہ سوشل کنٹر یکٹ ختم ہونے کے بعد سماجی اور معاشرتی مسائیل جنم لیتے ہیں ہمارے ہاں یعنی مغرب میں عورت کو چادر اور چار دیواری کا تقدس حاصل ہے مگر وہ انٹرنیٹ،فیس بک،اور فلموں ڈراموں میں آزادخیال خواتین دیکھ کر اس طرح ہو نے کی ارزوں رکھتے ہیں اس سلسلے میں افریقی قبائیل کے خواتین کا اپنے مردوں کیلئے ہاتھ کی انگلیوں کے کاٹنے کے عمل کو بھی دنیا عجیب نظر سے دیکھ رہی ہیں جو کسی زمانے میں خواتین کی ہندوں رسم ورواج کے مطابق ستی کہا جاتا تھا کہتے ہیں کہ ہزاروں خواتین اسکی بھینٹ چڑھے تاہم جہالت کسی حد تک کم ہوئی تو ستی کارواج بھی ختم ہوا کوئی اسے کسی بھی نظر سے دیکھے مگر اتنا ضرور ہے کہ دنیا آج بھی خواتین کیلئے بہتر پالیسی نہیں غیرت کے نام پر قتل کے علاوہ،ان پر تیزاب پھینکنا اور انہیں تشدد سے مروانا تو خیر جرم بھی نہیں سمجھا جاتا خوا تین کے بارے میں دنیا اتنی حساس کیوں ہے کیونکہ خواتین کو کسی بھی صورت وہ حق نہیں دیا جاتا جسکی وہ حقدار ہے دنیا میں اس وقت خواتین آبادی کی تناسب سے54%ہے اور اس میں مشرق اور مغرب کا کوئی تصور نہیں اگر چہRosseuuنے کب کہا تھا کہ man is born free but every where he is in chainاس لئے بھی منانے کے مقصد خواتین کو درپیش مسائیل،مشکلات اور سہولیات کا اندازہ لگانا ہاتا ہے انہیں عزت و احترام سے زندگی گزارنے کا موقع دینا ہے اور ہمارے مذہب میں بلخصوص ان کو جو مقام دیا ہے اس سے تجاوز نہیں کرنا

Share this story
  • 9
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
    9
    Shares

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں