143

ا رگنا یزیشن آف اسلامک کانفرنس؟

بھارتی وزیر خارجہ شمشا سورج نے قطر میں وزرائے خارجہ کانفرنس میں شرکت کے بعد افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا میں ایک ایسی سرزمین سے تعلق رکھتی ہو ں جہاں ہر روز کا سورج امن،پیار اور محبت کا پیغام لاتا ہے حالانکہ انڈیا کا سورج قتل و دہشت گردی،تباہی و بربادی کا پیغام لاتا ہے ششما نے مزید کہا کہ اسے فخر ہے کہ وہ اس کاندھی کی سرزمین سے تعلق رکھتی ہے جو شانتی اور آمن کی سرزمین کہلاتی ہے حالانکہ وہ سرزمین اور اسکے اندر رہنے والے لوگ اپنے مذہب کے علاوہ کسی مذہب اور قوم کو نہیں مانتے اور نہ ہی گاندھی مانتے تھے ہندوستان کی پہلی بار او ائی سی کی کانفرنس میں ایک observerکی حثیت سے شرکت اور ششما سورج کے بیان نے کئے سوالات کو جنم دیا ہیں بلخصوص مسلمان دنیا کو تو اس نے جھنجوڑ کر رکھ دیا ہے ہمارے چہروں پر ہندوں کا جھومر لٹک رہا ہے اور ہم ہندوں سے اتنے مرعوب کیوں ہیں کہ انہیں باوجود غاصب اور ظالم ماننے کے انہیں اپنے کانفرنس میں خطاب کا موقع دے رہے ہیں کیا کبھی ہندوں ایسا کرینگے؟کیا لوگ بھول گئے بابری مسجد؟ایسا ایک حرکت ماضی میں (۲۰۰۲) ہندوستان نے کیا تھامگر پاکستان نے سفارتی سطح پر انڈیا کو روک کر دنیا کو بتا دیا کہ ایک ظالم،متکبر،مغرور اور غاصب ملک کیسے مسلمانوں کی محفل میں بیٹھ کر observerبننا بہت بڑا چیلنج ہے اسلئے ہم انہیں اس کانفرنس کے اندر بیٹھنے نہیں دینگے آرگنایزیشن آف اسلامک کانفرنس کی بنیاد مراکش رباط میں 25 ستمبر1969کو رکھی گئی شروع میں ممبر ممالک کی تعداد صرف30تھی جو اب 57تک پہنچی ہیں دنیا کی دوسری بڑی تنظیم(اقوام متحدہ کے بعد) OICکے مرکزی دفتر کو جدہ میں1970میں قائم کیا گیا تھا مسلمان ہمیشہ اپنی صفوں کے اندر اتحاد قائم نہیں رکھ سکیں غزوہ احد سے لے کر آج تک ان میں دشمنوں اور سازشیوں کا ٹولہ نفاق پھیلاتا رہا 21اگست1969کو یروشلم میں مسجد الاقصی کو آگ لگا دی گئی مفتی اعظم سمیت دنیا بھر میں مسلمانوں کو ایک بار پھر امتحان میں ڈالا گیا کیونکہ مسجد میں اس آگ نے 800سالہ مسلمان تاریخ کو مسخ کر دیا تھا اس آگ سے مسجد کے اندر تاریخ میں چھپے ہوئے ان حصوں کا جلایا گیا جو انتہائی معتبر تھیں آگ کو لگانے والا شخص Denis Michael Rohan بنیاد پرست تھا جس کا تعلق اسٹریلیا میںیہودیوں کے حلقہ احباب سے تھا مگر جلدی اس شخص کو دماغی مریض قراردے کر بات ختم کرنے کی کوشش کی گئیتاہم اس نے جو آگ لگائی اس نے دنیا کو جھلس دیا ور اسی پس منظر میں دنیا کو مثبت پیغام دینے اور اپنے مشاہئر،اثاثے،تاریخ،ثقافت کو بچانے کی خاطر مسلمان ایک ہوئے جو وقت کا تقاضہ تھا اور حالات کی مجبوری بھی ،کیونکہ سلطنت عثمانیہ کے بعد دنیا بھر میں مسلمانوں کی حالت کچھ زیادہ بہتر نہیں تھی سیاسی بیداری کے ساتھ معاشی،سماجی،ساینسی اور عسکری بنیادوں پر ان کا ایک ہونا ضروری تھا ایک ہونے کے بعد کیا وہ اپنے مقصد میں کامیاب ہوئے یا نہیں اور کیا او ائی سی نے اپنے مقاصد حاصل کئے مجھے افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ اس کا جواب نفی میں ہے ایک وقت وہ تھا جب او ائی سی کے سیکرٹری جنرل بننے کیلئے ایک ایسے شخص کا انتخاب کیا جاتا جو مسلمان دنیا کو متحد رکھنے کے علاوہ اس تنظیم کے اندر روحانی اور مذہبی طاقت کو بھی پھونکیں اور آج ایک ایسا وقت ہے کہ اب جبکہ دنیا کے تمام مسلمان ممالک جس میں شام،مصر،اردن،یمن،افغانستان،کشمیر،فلسطین،ایراق،لیبیا،تیونس،میا نمار میں مسلمانوں قتل عام ہو رہا ہیں بلکہ اگر میں یہ کہوں کہ جنگیں صرف مسلمان دنیا کے اندر ہو رہی ہیں جبکہ او ائی سی خاموش تما شائی بن کر واہ واہ کر رہا ہے او ائی سی کے پہلے سیکرٹری جنرل تنکو عبد الرحمن سے لے کر ،حسن التہامی،ڈاکٹر کریم،حبیب،پاکستان کے سید شریف الدین پیرزادہ،حامد الغابد،ازیدی،بیلیزیک،احسان گیلو،عیاد مدنی،یوسف بن آحمد تک سب نے بہتر وقت گزارا مگر شاید کسی کی نصیب میں مسلمانوں کو ایک کرنا او ر بڑے ممالک کی چنگل سے مسلمانوں کے غریب ممالک آزاد کرنا شاید ان کی نصیب میں نہیں تھا تنزانیہ،سوڈان،ناجیر،یمن،ناجیجریا،یوگنڈا اوربر اعظم افریقہ کے دیگر غریب ممالک کے اندر آج بھی خوراک کی قلت ہے،ادوایات کی کمی ہے،پانی ناپید ہے مگر عرب کے تیل سے بھرے ہوئے مالدار ممالک ان کیلئے کسی مدد کے قایل نہیں صرف نام کے مسلمان ممالک جتنا پیسہ عیاشیوں پر خرچ کرتا ہے اس میں صرف سعودی عرب کے اندر ایک شاہ کے سات بیویاں ہیں ہر عربی شاہ کے پاس دولت کے انبار ہیں مگر افریقہ کے غریب ممالک میں مدد کیلئے کسی حد تک آج بھی اقوام متحدہ کی ٹیمیں پہنچتی ہیں اور وہی لوگ دنیا بھر کے ان ممالک سے چندہ اکھٹا کر کے زندگیاں بچا رہے ہیں جبکہ مسلمان ممالک کی نمائندہ تنظیم میں شامل ایک عرب نے کل بھی ششما سورج کے ہاتھوں میں ہاتھ دے کر دنیا کو کیا پیغام د یا اس وقت بھی ایسے میں مسلمانوں کے اندر یکجہتی اور اتحاد و اتفاق کا خواب کیسے شرمندہ تعبیر ہو گا جبکہ اکیسویں صدی میں ان چیلنجوں کا مقابلہ مسلمان کیسے کرینگے جب ہندوستان جیسے ملک کو او ائی سی بات کرنے کی اجازت دے دی جائے مگر پاکستان جسے ملک کو جو اس وقت عالم اسلام میں واحد ایٹا مک پاور ہے اسکا جھنڈا بھی نہ لگایا جائے تو پھر؟کیا ہو گا مسلمانوں کا ،اس میں شک نہیں کہ او ائی سی مسلمانوں کی واحد تنظیم ہے جسے افریقیوں کی تنظیم یا عربیوں کی تنظیم مگر یہ ایک ناکام تنظیم ہے کیونکہ یہ اپنے بنائے ہوئے چارٹر پر کام نہیں کر رہا اس نے ایراق اور کویت میں جنگ نہیں روکا اور نہ ہی ایران اور سعودی میں کشمکش کو ختم کرنے کی کوشش کی،تاہم اس تنظیم میں لمبے ایجنڈے اور بحث ہوتی ہیں جب ڈکار میں2008میں گیارویں کانفرنس ہوئی تو اس نے کیا ڈیلیور کیا تاہم اس نے2005کے مکہ میں ہونے وا لے دس سالہ پلان کی منظوری دی جس میں امن ،سیکورٹی،یروشلم میں بیت المقدس کا مسلہ،مسلمان ممالک کے درمیان غربت کا خاتمہ،کونٹر ٹیر ریزم،مسلمان ممالک کے درمیان تعاون مدد،ساینس اورٹیکنالوجی کا فروغ،ماحول کی تبدیلی اور پائیداری،جدیدت،ثقافت،خواتین کی فلاح و بہبودجائنیٹ اسلامک ہیو منیٹرین ایکشن،گڈ گورننس،بنیادی انسانی حقوق کی پاسداری پر بات کیبس، انہی گولز کے ساتھ او ائی سی نے اسکا دوبارہ اعادہ 2015میں کیا اور ان اٹھارہ objectivesکے ساتھ اب وہ2025تک ساتھ چلیں گے مگر کیا کیا؟کچھ بھی نہیں؟ ایک وقت وہ تھا جب مسلمانوں کو دنیا کے ان طا قتور چنگل سے آزاد کرنے کیلئے ذہین اور مخلص لوگوں کا ایک ٹولہ بیٹھا تھا پا کستان کے ذولفقار علی بھٹو،سعودی عرب کے شاہ فیصل،لیبیا کے معمر قذافی،مصر کے انور اسا دات،ایراق کے صدام حسین نے جو خواب دیکھا تھا وہ چکنا چور ہوا جب دوسری بڑی اسلامی کانفرنس لاہور میں22سے24فروری1974 تک منعقد ہوئی تو مسلمانوں کے خلاف دنیا کی تمام طاقتوں نے تسلیم کیا کہ اب ان کا بچنا ناممکن ہے تب ایک ایک کر کے انہوں نے ان مسلمان رہنماوں
کو ایسی موت مارا کہ موت بھی ا ن سے پناہ مانگے شاہ فیصل کو اس کے nephewنے گولی مار دی انور السادات کو بم سے اڑایا گیا ذولفقار علی بھٹو کو ایک کیس میں پھنسا کر بہت بڑی ذلا لت کے ساتھ پھانسی دی گئی ایراق کے صدام حسین کو اپنے ملک کے لوگوں نے بری طرح پھنسا کر انگریزوں کی خوائش پورا کرتے ہوئے گلے میں پھندا ڈالا جبکہ سچ مچ لیبیا کے معمر قذافی کو باغیوں نے گھیسٹ کر جان لی اور بچوں کو بھی مروا دیا او ائی سی اگر مسلمان ممالک کی بات ان طاقتور ممالک کے ساتھ نہیں کر سکتی تو اسے تنظیم کہہ کر پکارنا توہین ہو گا اسلئے انہیں اپنے کام،کردار اور اکیسویں صدی کی چیلنجز کے مقابلہ کرنے کیلئے اعادہ کرنا ہو گا ورنہ اسکی شاید مستقبل میں کوئی ضرورت نہیں

Share this story
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں