156

بھارت کے ساتھ ٹکر

اس وقت پورے ملک میں بھارت کے خلاف مظاہرے ہو رہے ہیں بھارت کا اس ملک میں دخل اندوز ی اور پھر بد معاشی کا جواب اگر چہ دیا جا چکا ہے اور فائیٹر جہاز کو مارنے گرانے کے علاوہ پائیلٹ کو پکڑنے اور اب چھوڑنے کی باتوں نے بھارت کا مکروہ چہرہ دنیا کے سامنے بے نقاب بھی کیا ہے تاہم اب تک بھارت خواب خرگوش کے مزے لے رہا ہے بھارت کشمیر کو بزور طاقت،ڈپلومیسی اور conspiracyقبضہ کرنے کے بعد اب پاکستان کی طرف لپک رہا ہے مگر بھارت نے کشمیر کو پچھتر لاکھ میں راجہ گلاب سنگھ اینڈ فیملی سے خرید کر اسلام دشمنی کا ثبوت فراہم کیا تھا اس وقت بھی مسلمانوں پر دہشت گردی کا الزام لگانا بھارت کا وطیرہ بن چکا ہے مگر دنیا پر واضح کرنے کیلئے اس قسم کی حر کتیں ا نتہائی بزدلانہ اور معصومانہ کوشش ہے جس سے کشمیر کی causeکو نقصان نہیں پہنچایا جا سکتا اس وقت دنیا بھر کے مسلمان بلعموم اور پاکستان کے مسلمان بلخصوص انڈیا کی اس حرکت کو پورے عالم اسلام کیلئے threat سمجھتے ہیں حالانکہ اس وقت وہ دن دہاڑے بارڈر کراس کر کے پا کستان کے حدود میں اتر ے تھیں جنہیں پا کستانی ائر فور س کے جوانوں نے نشانہ بنایا اگر انڈیا اپنے مذموم مقاصد میں کامیاب ہو چکا ہوتا تو آج تک بہت خون خرابہ ہو چکا ہوتا دنیا کے اندر رہنے والے ایک ارب ستاسٹھ کروڑ مسلمان اس سے متاثر ہو تے جو دنیا کے 23%علاقے پر پھیلے ہوئے ہیں اور جن کی تعداد اس وقت1.5بیلن سے زیادہ ہیں پا کستا نیوں نے اس حملے کو دل پر لیا اور اپنی جذبات اور احساسات کی ترجما نی کیلئے میڈیا کا سہارہ لے کر دنیا کو ایک پیغام دیا کہ وہ ہندوستان کے اس عمل پر انہیں زمہ دار ٹہرا کر ان سے باز پرس کریں کہ وہ ایک ملک پر بد معاشی کرنے اور ڈرانے دھمکانے کیلئے اس حد تک بھی جا سکتے ہیں کہ پچھلے سال سو سے زیادہ دفعہLoCکو کراس کیا گیا بے گناہ سینکڑوں معصوم انسانوں کو شہید کیا گیا مگر اب بھی ہندوستان پا کستان کو دہشت گرد کہہ رہا ہے پا کستان دنیا کو با ور کرانا چاہتا ہے کہ جس طرح 9/11کا واقعہ مسلمانوں کے ساتھ نتھی کرکے پورے دنیا میں مسلمانوں کو تہہ تیغ کیا گیا ،لوٹا گیا برباد کیا گیا بلکل اس طرح اب در پردہ اسلام اور پا کستان کے خلاف ایک ہو کر اس اٹا مک طاقت کو ختم کرنے کے درپے ہیں مگر ایسا شاید ممکن نہ ہو پا کستان عالمی برادری کے اندر ایک شناخت رکھتا ہے جس میں انسانیت،امن،دوستی اور بھائی چارے کا پیغام پنہاں ہے یا پھر پا کستان دنیا کو بتانا چاہتا ہے کہ دنیا کے اندر 193ممالک جس میں چھوٹے بڑے ،کالے سفید،امیر غریب ممالک شامل ہیں مگر پا کستان live and let live the othersکی پا لیسی پر گامز ن ہے کہ ہر کسی کو چاہے جس رنگ،نسل،شکل اور مذہب کا ہو اسے اس سیارے پر آزادنہ زندگی گزارنے کا بھرپورحق حاصل ہے جبکہ انڈیا کے اند ر حقوق کی پا مالی کوئی نئی بات نہیں اسلئے جب بھی ہندوستان نے پا کستان پر حملے کی کوشش کی پاکستان نے ہمیشہ اینٹ کا جواب پتھر سے دیا اور اب بھی دے گا مگر اس وقت ان دونوں کی سماجی،عسکری،معاشی،معاشرتی حالت اپ کے سامنے ہیںیقیناً زندگی کا survivalبہت مشکل ہے کیونکہ ان دونوں ممالک کا ایک خطیر رقم سیکورٹی پر خرچ ہو رہی ہے تین بڑی جنگیں لڑنے کے بعد دونوں ممالک کے ایک دوسرے کے ساتھ دل میں نرم گوشہ رکھنے کے بعد اب شاید مزید چلنے کی گنجائش نہیں یا پھر زندگی گزارنے کیلئے ہٹلر کو فالو کرنا ان کا نصب العین بن چکا ہے پا کستان پر ہندوستان نے جو تین حملے کئے اس وقت بھی ان کا بھرپور جواب دیا گیا تاہم 1971کی جنگ میں شکست کھانا اور فوجیوں کو یرغمال بنانے کا عمل سیاسی تھا جو فوج سے لیا پا کستان اگر اس سے پہلے بھی کوئی احتجاج کرتا تھا تو وہ ڈر کی وجہ سے نہیں بلکہ اس ٹیکنالوجی کی وجہ سے بضد ہے جس میں نہ رہے گا بانس اور نہ بجھے گی بانسری،حقیقت میں جنگ کے دوران مسلمانوں کا مرنا ا صل میں جینا ہوتا ہے جو ہمیشہ کی زندگی اپنے نام کر دیتے ہیں مگر کم عقل لوگوں کو اس کی سمجھ نہیں اتی پاکستان کی امن کی اس خواہش کو کمزوری تسلیم کرنا بھی کچھ ممالک کی غلط فہمی ہے اس لئے ڈر کے مارے ہوش سے کام لے کر مسلے کو افہام و تفہیم سے حل کرنا چاہیے مگر اس سے پہلے کشمیر کا مسلہ سیاسی بنیادوں پر اقوام متحدہ کے چارٹر کے مطابق حل کرنا چاہیے اگر سوڈان تقسیم ہو سکتا ہے اور دو بن سکتا ہے مشرقی تیمور الگ ہو سکتا ہے تو کشمیر کا فیصلہ کیوں نہیں ہو سکتا؟ کشمیر کی وادی اصل میں پا کستان کا حصہ ہے جسے انگریزوں نے ہم سے ہندوستان کی ایماء پر الگ کرکے ان کی جھولی میں ڈال دیا تھا پاکستان نے ہر بار اس مسلے کو دنیا کے ہر فورم پر اٹھایا اور ہر بار احتجاج کیا اور پا کستان بار بار اصرار کر رہا ہے کہ کشمیر کا مسلہ جنگ سے حل ہونے والا نہیں اور کشمیر یوں کو بٹھانے کے بغیر بھی حل نہیں ہو سکتا اسلئے دنیا کے بڑے ممالک ثالثی کا کردار ادا کرتے ہوئے اس کا مستقل حال نکالیں مگر ہندوستان ہمیشہ سے زور و ضابطے کے عمل سے کشمیریوں کو دبانا چا ہتا ہے او ر ایک پریشر قائم کرنا چاہتا ہے جسکی وجہ سے کشمیر میں پڑے لاکھوں کشمیری مسلمان انتہائی مشکل میں ہیں جہاں زندگی جام ہو کر رہ گئی ہے کوئی لمحہ بغیر قتل وغارت کے نہیں گزرتا ،ریپ اور تشدد کے بغیر کوئی دن نہیں گزرتا اس طرح پچھلے ستر سال سے کشمیر آگ اور خون کی دریامیں نہا رہا ہے پلوامہ کا واقعہ ہندوستان کی حکومت اور مودی سرکار کی ایک حکمت عملی تھی جسے وہ دنیا پر ثابت کرنے کیلئے مسلمانوں کو ذلیل و خوار کرنا چاہتا تھا مگر اچانک اپنے جنگی جہاز بھیج کر اس نے راز فاش کر دیا اور اب خود ذلیل و خوار ہو تا جا رہا ہے جتنا جھوٹ اس نے لوک سبھا کے نمایندوں سمیت میڈیا کے سامنے بولا کہ اس نے کشمیر میں البدر مجاہدین کے ان کیپس کو بموں سے اڑایا جس میں دہشت گرد تھیں اور تین سو ان کی تعداد تھی جب اس سے پوچھا گیا کہ ان کی لاشیں کہاں ہیں،میڈیامیں اس کو کیوں رپورٹ نہیں کیا گیا اور اس کام کا ثبوت کہاں پر ہیں تو ندامت کے علا وہ اس کے پاس اور کیا جواب ہو سکتا تھا اگر چہ مسلمانوں کے ساتھ کافروں کا یہ سلوک کوئی نئی نہیں مسلمانوں اور عیسائیوں کے درمیان صلیبی جنگیں تقریباً اٹھ صدیوں تک جاری رہی اس وقت بھی دنیا کا ہر مسلمان ملک ان کافروں کی یلغار میں ہیں یا پھر ان کی وجہ سے دہشت گردی اور سازش کا شکار ہیں مگر وقت کا تقاضہ ہے کہ جنگ روک کر امن قائم کیا جائے اس وقت مسلمان دنیا میں اتحاد و اتفاق کے علاوہ عدم تعا ون کا مسلہ بہت گھمبیر ہے اور اس سلسلے میں OICیعنی ارگنائزیشن آف اسلامک کا نفرنس کو وجود بھی گمنام ہے جس کو عرب اسرائیل جنگ کی تناظر میں1969میں مراکش کے شہر رباط میں صرف اسلئے قائم کیا گیا تھا کہ مسلمانوں کے درمیان باہمی رنجشوں اور اختلافات کے علاوہ تعاون اور ایک دوسرے کے ساتھ مشکل وقت میں مدد کریں مگر یہ سب کچھ اب بھی خواب لگتا ہے اسلئے مسلمان ممالک کا حال برا بنتا جا رہا ہے

Share this story
  • 2
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
    2
    Shares

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں