282

اندیش کدہ یقین ایران

اسلامی جمہوریہ ایران کے اسلامی انقلاب کے چالیس سال مکمل ہونے کے تقریبات میں شرکت کے دوران نہ صرف تہران ، مشہد اور قم میں کافی وقت گزارا بلکہ اس دوران مختلف اداروں کی کارکردگی اور حکمت عملی کا قریب سے مشاہدہ کیااور ان اداروں کے منتظمین کے ساتھ بات چیت اور بحث و مباحثہ کے مواقع بھی میسر ہوئے۔ ویسے تو اگر دیکھا جائے تو ایران نے زیادہ تر شعبوں میں ایسی ترقی کی ہے جس کی نظیر بیرونی دنیا میں بہت کم ملتا ہے۔ اگر گڈ گورننس اور انصاف پر مبنی نظام کی بات کی جائے تو اس کا واضح مثال ایران ہی ہے کیونکہ اس ملک میں اگر دیکھا جائے تو صدر سے لیکر ایک عام سرکاری ملازم ہر وقت اپنی ہی فرائض انجام دہی میں مصروف ہوتا ہے ایک مہذب معاشرے کی طرح ایران کے ہر شہری نہ صرف قانون کا احترام کرتا ہے بلکہ سماج کا حصہ ہوتے ہوئے نہ صرف سرکاری اور نجی املاک ہی کو اپنا سمجھتے ہیں بلکہ اس کے صفائی کو بھی مقدم رکھنے میں مشہور ہوتے جارہے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ نہ صرف دارلخلافہ تہران بلکہ ایران کے تمام تر شہر، قصبے اور گاؤں کسی بھی طور پر مغربی دنیا سے کم نہیں ہے۔ مغربی دنیا کے طرح ایران بھی تاریخی اور ثقارفتی ورثے کو محفوظ بنانے میں اگے بڑھ رہا ہے۔ چونکہ ایران کا انقلاب اسلامی نظریے کے بنیاد پر آیا تھا۔ اسی وجہ سے ایران میں اسلامی نظریے کو بنیاد رکھ کر آگے جانے اور ترقی کے مزید منازل کے حصول کیلئے کاوشوں کا سلسلہ جاری ہے۔ تہران میں قیام کے دوران اندیش کدہ یقین جانے اور اس کے ذمہ داروں سے ملنے کا موقع ملا۔ کئی گھنٹوں پر محیط اس محفل کے دوران ادارے کے سربراہ ڈاکٹر حسن عباسی اور اس کے نائب حسام الدین سے مفصل بات چیت کا موقع ملا۔ ڈاکٹر حسن عباسی سے ملنے سے قبل حسام الدین نے دانش کدہ یقین کے قیام اور اعراض و مقاصد سے اگاہ کیا ۔ ان کا کہناتھا کہ چونکہ ایران انقلاب کا بنیاد اسلام ہی ہے لہذٰا اس ادارے کے ذریعے اسلامی نظریے کو بنیاد ررکھ کر نہ صرف ایران کو دفاعی لحاظ سے محفوظ معاشی لحاظ سے خوشحال اور سیاسی لخاظ سے مستحکم بنانے کیلئے حکمت عملی وضع کی جارہی ہے اور اسی مقاصد کے حصول کیلئے کافی تحقیق ، بحث ومباحثے اور غور حوص کے بعد حکمت عملی مرتب کی جارہی ہے۔ حسام الدین نے کہا کہ معاشی طور پر خودکفیل اور خوشحال ملک ہی سیاسی طور پر مستحکم اور دفاعی طور پر محفوظ ہوتا ہے۔ اسی وجہ سے سب سے پہلے دانش کدہ یقین کا زیادہ تر کام تحقیق وتجزیے پر مشتمل ہوتا ہے اور پچھلے سات، آٹھ سالوں کے دورا ن اس ادارے کے طرف سے پیش کردہ تجاویز پر عمل درآمد ایران کے معاشی صنعتی اور کاروباری شعبوں میں نمایاں پیش رفت ہوا ہے اور آج ایران کا شمار نہ صرف اس خطے میں بلکہ دنیا بھر کے خودکفیل اور برآمد کرنے والے ممالک کے فہرست میں شامل ہیں۔ ڈاکٹر حسن عباسی جو پہلے شام سے آنے والے مہمانوں کے وفدسے بات چیت میں مصروف تھا نے پشاور سے دورہ کرنے والے مہمانوں کے ساتھ بھی لگ بھگ دوگھنٹے تک مصروف رہا بلکہ اُنہوں نے ایک ظہرانے کا اہتمام بھی کر رکھا تھا۔ ڈاکٹر حسن عباسی نے بتایا کہ امریکہ اور برطانیہ کے بعد دانش کدہ یقین ایران یعنی Development Concept and Doctrine Center (DEDC) کا دنیا بھر میں تیسرا بڑا ادار ہ ہے۔ بنیادی طور پر تو اس آزاد اور خودمختار ادارے کا کام ایران کے اسلامی انقلابی حکومت کے پالیسوں میں مدد فراہم کرنا ہے مگر اس ادارے نے ملک کو دفاعی لحاظ سے محفوظ اور معاشی طو رپر خوشحال بنانے کو ترجیح دیا ہے اور اب یہ ادارہ ایران کو امام خمینی کے نظریات کی بنیادپر آگے لے جانے میں کردار ادا کررہاہے۔ بات چیت کے دوران ڈاکٹر حسن عباسی نے ایران کے انقلاب کے چالیس سال پورے ہونے پر امریکی صدر ڈونالڈٹرمپ کے طرف سے جاری کردہ بیان کی شدید الفاظ میں مذمت کی اور کہا کہ دنیا بھر میں بالعموم اور اسلامی دنیا میں بالخصوص دہشت گردی، ظلم و بربریت اور بے گناہ لوگوں کو مارنے کی ذمہ داری امریکہ پر ہی عائد ہوتی ہے۔ ان کے بقول سابق سوویت یونین کے ٹوٹنے کے بعد امریکہ ہی نے دنیا بھر پر عملداری قائم کرنے کیلئے مختلف حیلوں اور بہانوں سے مختلف ممالک پر حملے اور چڑھائی کی مگر امریکہ کو اب پسپائی کرنا پڑاہے۔ اس سلسلے میں ڈاکٹر حسن عباسی نے افغانستان کے طرف اشارہ کیا کہ وہاں سے اب امریکہ نکلنے کیلئے بے تاب ہے۔ ایران کے انقلاب کے چالیس سال پورے ہونے کے اہم اور مرکزی تقریب میں لگ بھگ 200 ممالک سے تعلق رکھنے والے وفود اور نمائندگی نے شرکت کی۔ تاہم ان میں سے اکثریت کا تعلق شام، آزربائیجان، تاجکستان ، قطر، بحرین اور عراق کے ممالک سے تھا۔ یوں معلوم ہو ا کہ ان ممالک کے ساتھ اب ایران کے تعلقات کافی مستحکم ہیں اور ان تعلقات کے بنانے میں دانش کدہ یقین جیسے ادارے نے اہم کردار ادا کیا ہے۔ شام ہی میں روس کے تعاون سے امریکہ اور ان کے اتحادیوں کو مزاحمت کا سامنا ہوا ہے اور اب ایران کے تعاون سے شام میں حالات معمول پر آرہے ہیں۔ جبکہ یمن میں بھی امریکہ اور ان کے اتحادی سعودی عرب کو مزاحمت کا سامنا ہے۔ ڈاکٹر حسن عباسی کا کہنا تھا کہ ایران کے لوگ پاکستان سے پیار کرتے ہیں اور پاکستان ہی کو بھی دفاعی لحاظ سے محفوظ ، معاشی لحاظ سے خوشحال اور سیاسی لحاظ سے مستحکم ملک دیکھنے کے متمنی ہے اور ان کی خواہش ہے کہ دانش کدہ یقین کے بعد پاکستان ہی میں اس قسم کا ایک ادارہ قائم ہو جس کو دنیا کے چوتھے اہم ادارے کی حیثیت مل جائے ۔ تاہم لگ بھگ دس دن کے قیام کے دوران معلوم ہو ا کہ ایران اور پاکستان کے درمیان تعلقات ماضی کے برعکس اب اتنے زیادہ اچھے نہیں ہے۔ دونوں ممالک کے درمیان بہت سے معاملوں بالخصوص فرقہ وارانہ کشیدگی ، افغانستان یمن وغیرہ پر کافی بہت غلط فہمیوں میں دن بدن اضافہ ہوتا جارہا ہے۔ اور اگر ان غلط فہمیوں کا فوری طور پر ازالہ نہ ہوسکا تو اس سے دونوں ممالک کے تعلقات مزید ابتر ہونے کا اندیشہ ہے۔

Share this story
  • 5
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
    5
    Shares

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں