277

اصلی سلاجیت

مجمع کے اندر لوگ اس کی بات کو بڑی انہماک سے سن رہے تھے ابھی اس نے سلاجیت کی پوری کہانی ختم بھی نہیں کی تھی کہ آواز ائی مجھے بھی جلدی ایک پونڑی بند کر کے دے دیں کہیں یہ ختم نہ ہو جائے بیچ میں انے والے لوگ اب اس جوگی کی بات پر دھیان دینے کے علاوہ صرف سلاجیت حاصل کرنے کی چکر میں تھیں کیونکہ جو خوبی یہ مداری بیان کر رہا تھا اس میں سلاجیت تمام بیماریوں کیلئے واحد نسخہ تو تھا ہی، تاہم قوت باہ یا پھر جنسی تعلق کو تیز تر کرنے میں اس کا کوئی ثانی نہیں تھا مداری بار بار کہہ رہا تھا جو لوگ جوانی میں کسی غلط کام کے نتیجے میں اپنی شباب ہار چکے ہیں یا پھر شباب میں خوبصورت اور خوشگوار لمحات سے وہ مزے لینے کے قابل نہیں سلاجیت ان کیلئے ایک بہت بڑا تحفہ ہے مداری اگے بہت کچھ بولا جب اس نے زور دے کر کہا ہمارے کچھ جوان شادی کے بعد بیوی کو منہ دکھانے کے قابل نہیں رہتے بلخصوص اپنے چھوٹے پن کی وجہ سے ،ایسے لوگ زندگی کی بازی ہار چکے ہوتے ہیں او ر ان کی زندگی کا نہ مزہ ہوتا ہے اور نہ ہی فائدہ؟پس ایسے لوگ جو جوانی میں غلط راستے پر چل کر آج منہ دکھانے کے قابل نہیں یہ نسخہ ان کیلئے ہیں لوگوں کو میرا منہ نہیں تھکنا چاہیے انہیں جلدی کرنا چاہیے اس سے پہلے کہ یہ کچھ باقی رہے ہوئے پوڑیاں ختم ہو جائیں تاکہ قوت باہ حاصل کر سکیں پھر مداری کچھ دیر کیلئے روکا مجمع پر نظر ڈالی اور اسے احساس ہو گیا کہ لوگوں کو sensitizeکرنے کا اس سے بہتر وقت شاید کوئی اور نہ ہو اس نے مجمع کو مخاطب ہو کر کہا سلا جیت کو حا صل کرنے کیلئے ان کے پیر و مرشد نے کتنے دن قراقرم کے پہاڑوں اور ہندو کش میں گزارے تھیں (اسکے ساتھ اس نے اس تصویر کی طرف اشارہ کیا جو اس نے ہاتھوں سے کھینچی تھی جس میں ایک دیو قامت انسان سلاجیت کھاتے ہوئے دکھایا گیا تھا) کتنی مشکل سے پہاڑوں کا سینہ چھیر کر اس نے یہ نایاب تحفہ دریافت کرکے حاصل کیا اب بھی اسکی کتنی ڈیمانڈ ہے بلکل تارکول کے طر ح کالے اس سلاجیت کے گڑ کی طر ح چکھیاں اور نہ جدا ہونے والے چھیچڑ پن سے لوگ متاثر ہو ر ہے تھے اور مسلسل ڈیمانڈ کر رہے تھے ابھی وہ مجمع کے اندر اثار قدیہ کی ان پوڑیوں کو بھیچ کر پیسہ کما رہا تھا اور میں سوچ رہا تھا اتنے لوگ بیک وقت اتنی ساری پوڑیاں لے کر کیا کرینگے انہیں شاید پتہ نہیں وہ سلاجیت نہیں زہر کھا رہے ہیں اسی قوت باہ کی طاقت بڑھانے کی چکر میں وہ اپنے جسم کے اس نازک حصے کے ساتھ کھیل رہے ہیں جسے قدرت نے بڑے شہکا ر سے بنایا اس میں ہر چیز بیلنس پیدا کی تاکہ انسانی نسل کی قائم رہنے والی یہ دوا کسی بھی صورت زندگی کی کسی حصے میں انسانی احساسات اور جذبات کی ترجمانی کر نے سے بیزار نہ ہو مگر ہم کتنی بے دردی سے قدرت کے دئیے ہوئے اس حسین و جمیل حصے اور طاقت کو سلاجیت اور دیگر پوڑیوں کی نظر کررہے ہیں کسی کو کیا پتہ کتنے پادری،جوگی،عطائی ڈاکٹر اور مداری انسانوں کی جذبات سے کھیل کر انہیں اپاہج بناتے ہیں قدرت نے انسانی اعضاء کو ترتیب سے بنایا اسکے اندر رکھی ہوئی ہر چیز حکمت سے بنائی انسانی پتہ یا لیور کا کام کھانے کے بعد صرف ایک قطرہ نظام ا نہظام کے اندر ایسڈ پھینکنا ہے تاکہ خوراک ہضم ہو سکیں کتنے پانی اور خون کے قطرے ایک ہو کر کتنے وقت میں نطفے کیلئے ایک قطرہ بناتا ہے مگر ہم ادوایات بلخصوص قوت باہ میں اضافے کیلئے جن steroidsسے کام لیتے ہوئے اپنی زندگی تباہ کرتے ہیں اس کا ہمیں احساس نہیں ہوتا بازاروں اور گلیوں کے اندر لگے ہوئے دوکانوں پر براجماں تختیاں اور بورڈز کتنے صاف الفاظ میں کتنے سادہ لوح عوام کو لوٹتے رہتے ہیں اور ان کی زندگی تباہ کرتے ہیں کسی کو شاید احساس نہیں یا پھر کوئی دیویائی طاقت حاصل کرنا چاہتا ہے جس سے وہ اپنے لائف پارٹنر کی زندگی کم ازکم عذاب بنائے کیوں؟ یہ چیز یں ہماری سوسائیٹی میں پہلے سے کیا کم تھی کہ اپر سے انٹرنیٹ،فیس بک پر قوت باہ میں اضافے اور جنسی قوت بڑھانے کے بارے میں پوری دنیا کے عطائی ڈا کٹر اور مداری ایک ہوئے سب انسانی زندگی کے ساتھ صرف چند ٹکوں کے خاطر کھیلتے رہتے ہیں ابھی اسے اندازہ ہوا کہ لوگ جتنے بھی مجمع میں موجود تھیں سب نے سلاجیت خرید لئے تب اس نے ڈو لگی بجائی اور ایک پراڈکٹ کومتعارف کریا جس کا تعلق بوا سیر سے تھا تاہم یہ بیک وقت خونی اور بادی بواسیر کیلئے یکساں مفید نسخہ تھا تین دن میں بواسیر کو جڑ سے پھینکنے کا کام کرنے والی یہ دوائی بھی جڑی بوٹیوں سے تیار شدہ تھی اور لاکھوں لوگ اس کے مطابق اس کے استعمال سے صحت یاب ہو چکے تھیں اس طرح کے کئے اور مفیڈ نسخے پڑے ہوئے تھے جس کی تعارف کرنا باقی تھا میں ان سب چیزوں کو دیکھنے کے بعد اس سو چ میں پڑ گیا کہ اکسیوں صدی میں بھی ہم کتنے سادہ ہیں کہ ہم ان بنی بنائی پوڑیوں کو استعمال کرکے اپنی زندگی خود تباہ کر رہے ہیں کیونکہ کسی زمانے میں جب ساینس نے ترقی نہیں کی تھی اور ابھی researchنہیں ہوئی تھی تو لوگTB کو اسیب زدوں کا بیماری مان کر تعویذ اور دم سے اس کا علاج کیا کرتے تھیں عام زبان میں ٹی بی کو غربت کی بیماری کہا کرتے تھے رفتہ رفتہ ریسرچ کے ذریعے پتہ چلا کہ یہ بیماری ایک جراثیم tubercolosisسے پھیلتی ہیں اور متعدی بھی ہے اسلئے اس کا علاج ممکن تو ہے مگر گھر،کیمونٹی ، لوگ و حکومت سب اگر ساتھ دیں تو ،پس یہ لا علاج بیماری علاج کی قابل بنی مگر اس تحقیق میں صدی لگی
سائنس نے تحقیق کی ادوایات بنانے کیلئے جدید سنٹرز قائم کئے ہر بیماری پر کروڑو ڈا لرز لیبا رٹریوں میں خرچ ہونے کے بعد اس پر ٹیسٹ کیا جاتا ہے پھر دوبارہ ازمایا جاتا ہے اسکے بعد ا سے مارکیٹ میں متعارف کیا جاتا ہے یہ سب کچھ ایک ریسرچر،محقق کرنے کے بعد ڈاکٹر مارکیٹ میں اپنی علم،بصیرت اور تجربے کی بنیاد پر نسخہ لکھتے ہیں آج تک کینسر لا علاج ہے تو اب بھی ہے دنیا بھر کے محقیقین،ریسرچ فیلو،کروڑوں ڈالرز خرچ کر بھی اس کا علاج دریافت نہیں کر سکیں یہ پوری انسانیت کیلئے بہت بڑا چیلنج ہے اس طرح ایڈز کی وجوہات تو ساینس دانوں نے معلوم کئے مگر اس کا علاج ممکن نہیں اسلئے صرف ایک انجکشن اور دوائی کی ایک پوڑی سے علاج ممکن نہیں اور نہ ہی یہ کوئی علاج ہوتا ہے سادہ لوح عوام کو دھوکہ دے کر ان کو ورغلانا اور ان سے پیسے بٹورنا علاج نہیں ہوتا ظلم ہوتا ہے جب لوگوں کو بیو قوف بنا کر ان سے زیادتی کی جاتی ہے تو حکومت کا بھی فرض بنتا ہے کہ وہ ریڈ الرٹ ٹیمیں روانہ کریں اور اس طرح کے تمام کلینکس،سنٹرز پر بھاری جرمانہ عائد کر کے ایسے حکماء،عطائی ڈاکٹرز،مداریوں پر پابندی لگا دیں عوام کو چاہیے کہ وہ اپنا سٹینڈرد بڑھائے تعلیم حاصل کریں اور ایسے لوگوں کو پہچانے جو ان کی زندگی کے ساتھ کھلتے ہوئے انہیں زندگی بھر کیلئے اپا ہج بناتے ہیں مگر وہ انہیں اب تک مسیحا کہتے ہیں جو جہالت سے کم نہیں

Share this story
  • 6
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
    6
    Shares

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں