210

غیر مسلم اقلیتوں کے حقوق کے تحفظ کیلئے علیحٰدہ کمیشن کے قیام کا مطالبہ

پشاور۔۔۔غیر مسلم اقلیتوں کے نمائندوں اور انسانی حقوق کے تحفظ کیلئے سرگرم رضا کاروں نے حکومت سے سپریم کورٹ کے 2014 میں ہونے والے فیصلے کے مطابق کمیشن برائے حقوق اقلیت قائم کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔
یہ مطالبہ پشاور میں ادارہ برائے سماجی انصاف کے زیرانتظام منعقدہ اجلاس میں کیاگیا جس میں ہندو، مسیحی، سکھوں اور دیگر مذہبی اقلیتوں سے تعلق رکھنے والے نمائندوں کے علاوہ حکمران جماعت پاکستان تحریک انصاف سے تعلق رکھنے والے ممبر صوبائی اسمبلی روی کمار، خیبر پختونخوا کے کمیشن برائے خواتین حقوق کے مختسب رخشندہ ناز، اور سابق صوبائی وزیر پروفیسر سارہ صفدر نے بھی شرکت کی۔
ادارہ برائے سماجی انصاف کے ڈائریکٹر پیٹر جیکب نے پشاور ٹوڈے کو بتایا کہ دیگر کمیشن کے طرح مذہبی اقلیتوں کیلئے بھی ایک کمیشن ہوناچاہیئے۔ سپریم کورٹ حکم دے چکی ہے کہ اقلیتوں کے تحفظ اور ان کے مسائل کے حل کیلئے ایک کیمشن برائے تحفظ حقوقِ اقلیت تشکیل دیا جائے۔ اس موقع پر یاد دلایا کہ جولائی 2018 کے انتخابات میں ملک کی بڑی سیاسی جماعتوں نے اپنے منشور میں مذہبی اقلیتوں سے تعلق رکھنے والے لوگوں کے حقوق کے بارے میں کمیشن کے قیام کی حمایت کی تھی۔ لہذٰا قانون ساز اداروں کے اراکین کو کمیشن کی تشکیل کے لئے مسودہ قانون کی بھر پور حمایت کرنی چاہیے۔ جو ان کے بقول اقلیتوں کے حقوق کی صورتحال کی نگرانی کا کام کرنے اور خواتین و پالیسوں میں اصلاحات کے لئے سفارشات پیش کرے۔

انسانی اور خواتین کے حقوق کے تحفط کیلئے سرگرم اور حال ہی میں تعینات کردہ صوبائی محتسب رخشندہ ناز نے اس موقع پر اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ مذہب کی بنیاد پر امتیازی سلوک پسماندگی اور اخراج کا موجب بنتا ہے لہذٰا حکومت کو مذہبی اقلیتوں کے لئے حقوق کے مساوات، معاشی سماجی اور ثقافتی حقوق پر ٹھوس اقدامات کا راستہ ہموار کرنے کی ضرورت ہے۔
مشاورتی اجلاس میں شامل مسیحی خاتون رہنما روبینہ مسیح نے اس حوالے سے بتایا کہ اقلیتوں کے مسائل کے حل کیلئے اور امتیازی سلوک سے تحفظ یقینی بنانے کیلئے ضروری ہے کہ قومی سطح پر ایک ایسا کمیشن ہو جو اقلیتوں کی شکایات سننے اور ان کے حقوق کی نگرانی کرنے کا اختیار رکھتا ہوں۔


سپریم کورٹ کے احکامات کے روشنی میں فرروی 2016 میں حکومت نے قومی ایکشن پلان برائے انسانی حقوق میں دسمبر 2016 تک قومی کمیشن برائے حقوق اقلیت کی تشکیل کا ارادہ ظاہر کیااور اس حوالے سے دو مختلف پرائیوٹ بل اسمبلی میں پیش کی گئی تاہم بعد میں اُس وقت کے حکومت نے دونوں بلوں کو اس بنیاد پر مسترد کیا کہ اس طرح کے کمیشن تو پہلے سے ہی قائم اور فعال ہے۔
یاد رہے کہ 1990 سے محض انتظامی حکم نامے کے ذریعے قائم کی گئی قومی کمیشن برائے حقوق اقلیت کا نہ کوئی واضح مینڈیٹ ہے اور نہ ہی کوئی عملہ یا دفتر۔
ادارہ برائے سماجی انصاف کے مطابق پشاور کے بعد اسی قسم کے مشاورتی اجلاس لاہور کراچی اور کوئٹہ میں منعقد کئے جائینگے۔ اور بعد میں تمام غیر مسلم اقلیتوں اور مذہبی رہنماؤں کی تجاویز اور آراء پر مشتمل ایک مسودہ تیار کرکے قانون حکومت تو باقاعدہ قانون سازی اور کمیشن کے تشکیل کے لئے پیش کیا جائیگا۔

Share this story
  • 6
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
    6
    Shares

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں