176

خیبرپختونخوامیں غربت اور بےروزگاری میں اضافہ

خیبرپختونخوا حکومت کے دعوؤں کے باوجود غربت اور بے روزگاری میں اضافہ ہورہا ہے صوبائی دارلحکومت پشاور میں بیکاریوں سے لوگ فٹ پاتوں پر جا نہیں سکتے شہر کے مختلف مقامات پر نانبائیوں کے سامنے سینکڑوں افرادخیرات کی روٹیاں مانگنے کیلئے بیٹھتے ہیں اسی طرح مزدور شہر کے مختلف چوراہوں میں پورا دن گزار کر کام نہ ملنے کے بعد مایوس ہوکر واپس چلے جاتے ہیں حکومت کے دعوؤں کے باوجود مزدور کو کم معاوضہ دینے کا سلسلہ بدستور جاری ہے جس کی وجہ سے لوگ کسمپرسی میں زندگی گزار رہے ہیں ۔

پشاور کے علاقہ فوارہ چوک میں روٹیوں کے تنور کے سامنے ایک ضعیف العمر خاتون آسیہ بی بی نے بتایا کہ وہ روزانہ تین بچے سمیت یہاں آتی ہے اور رات آٹھ بجے تک دس سے پندرہ روٹی جمع کرکے واپس گھر چلی جاتی ہے انہوں نے کہا کہ اس کا شوہر وفات ہوچکا ہے گھر میں ایک معذور بیٹا اور تین بیٹیاں ہیں جن کیلئے روزانہ یہاں پر بھیک مانگ کر روٹیاں لے جاتی ہوں جس پر اگلے روز تک گزارہ کرلیتے ہیں انہوں نے کہا کہ یہاں پر روٹیاں مانگتے ہوئے گالی گلوچ بھی پڑتی ہے اور کبھی بے عزتی کا بھی سامنا ہوتا ہے لیکن مجبوری کی اس حالت میں ہم اس کو برداشت کرتے ہیں انہوں نے کہا کہ میرے ساتھ جتنے خواتین بیٹھے ہوئے ہیں یہ سارے غربت کی وجہ سے یہاں آتے ہیں ورنہ ہر خاتون کی یہی خواہش ہوتی ہے کہ وہ گھر میں بیٹھ جائے اور آرام سے کھا سکے انہوں نے کہا کہ یہاں زیادہ تر دہاتوں سے خواتین آتی ہیں ۔ فوراہ جوک کے ایک نانبائی سراج الدین نے کہا کہ یہاں روزانہ سینکڑوں افراد بھیک مانگنے کیلئے آتے ہیں جس میں زیادہ تر خواتین ہوتی ہیں جن کو روازنہ دو تین بندے روٹیاں خرید کردیتے ہیں جبکہ نانبائیوں کی جانب سے بھی ان کو روٹیاں ملتی ہے اور اس کو جمع کرکے رات کو واپس چلے جاتے ہیں انہوں نے کہا کہ روزانہ دو تین سو غریب افراد اس چوک میں بھیک مانگ کر کھانا کھاتے ہیں۔

پشاور کے دیگر حصوں کے طرح لیاقت بازار میں بھی ایک دستران خواں بچائی جاتی ہیں جس پر روزانہ تین سو کے قریب افراد کو مفت کھانا دیا جاتا ہے اس دسترخواں کو تین سال پہلے ایک شخص نے اپنے مدد آپ کے تحت شروع کیا تھا جبکہ اب اس کے ساتھ دوسرے افراد بھی مدد کررہے ہیں یہاں پر زیادہ تر مزدور کار اور دور دراز سے مزدوری کیلئے آئے ہوئے لوگوں کو کھانا دیا جاتا ہے ۔اس دستراخواں پر کھانا کھانے کے بعد باجوڑ کے رہائشی نے بتایا کہ وہ صدر میں ریڑھے میں گرم ملبوسات فرخت کررہا ہے لیکن وہ اتنا نہیں کما سکتا کہ روزانہ باہر سے کھانا کھاؤ اور یہاں پر رہ سکو کیونکہ وہ یہاں رہنے کیلئے بھی بھاری رقم دیتی ہے اور یہاں مفت کھانے کی وجہ سے اس کو ماہانہ تقریباً دو ہزار روپے زیادہ بچت ہوتی ہے ۔

خیبرپختونخوا میں بے روزگاری کی وجہ سے زیادہ تر لوگ پشاور میں روزگار ڈھونڈنے کیلئے آتے ہیں جس میں زیادہ تر دیر سوات، مردان چارسدہ اور دیگر اضلاع سمیت قبائلی اضلاع کے لوگ شامل ہے فوارہ چوک میں دیر کے رہائشی اول خان نے بتایا کہ وہ صبح کے وقت اپنے دیگر دوستوں کے ساتھ یہاں آتے ہے اور یہاں سے شہر کے مختلف جگہوں پر کام کے سلسلے میں لوگوں کے ساتھ چلے جاتے ہیں وہ ماہانہ پندرہ سے بیس ہرزار روپے کماتے ہیں لیکن اس میں پانچ ہزار تک اس کے پشاور میں اخراجات ہے جبکہ وہ روزانہ اس کوشش میں ہوتا ہے کہ وہ بھی دوسروں کی طرح خیرات و صداقات کا کھانا کھا سکے انہوں نے کہا کہ ٹھیکہ دار کے ساتھ کام کرنے میں اس کو پانچ چھ سو یومیہ ملتا ہے لیکن وہ چند دنوں کا کام ہوتا ہے جبکہ ہوٹلوں اور دوسرے جگہوں پر زیادہ سے زیادہ 12ہزار ماہانہ ملتا ہے جو کو کافی کم ہے۔اول خان کی طرح سینکڑوں مزدور یہاں پر جمع ہوتے ہیں اور روزگار نہ ہونے کی وجہ سے اپنے فریاد کررہے ہیں۔

یواین ڈی پی کے ایک رپورٹ کے مطابق ملک میں39فیصد لوگ غربت میں زندگی گزار رہی ہیں جبکہ خیبرپختونخوا میں 49فیصد لوگ مختلف قسم کی غربت کے مسائل سے دوچار ہیں اس رپورٹ کے مطابق 2004سے 2013تک خیبرپختونخوا میں 65فیصد سے 49فیصد کمی آئی تھی لیکن اس کے بعد کوئی خاطر خواہ کمی نہیں ہوئی ہے ۔ماہرین کی مطابق موجودہ وقت میں غربت اور بے روزگاری میں مزید اضافہ ہوا ہے جس کی بنیادی وجہ مہنگائی میں اضافہ ہے ۔ملک کی دیگر حصوں کی طرح پشاور میں بھی لوگ کھلے تلے آسمان رات گزارتے ہیں جس میں زیادہ تر یونیورسٹی روڈ پر دیکھنے کو ملتے ہیں وزیر اعظم عمران خان کے پنجاب میں اسے افراد کو پناہ گاہ دینے کے بعد خیبرپختونخوا میں بھی اس کو عملی شکل دینے دیاگیا ہے جس میں روڈوں پر رات گزارنے والوں کیلئے شیلٹرہوم بنایا گیا ہے جس میں روزانہ دو سو سے زیادہ افراد کو رات گزارنے سمیت مفت کھانا بھی دیا جاتا ہے جس کو عوامی حلقے بہت سراہتے ہیں ۔

Share this story
  • 8
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
    8
    Shares

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں