211

خواجہ سراؤں کی ایچ آئی وی ایڈ ز کی تشحص اور ادویات کی عدم دستیابی کی شکایت

پشاور۔۔۔ خیبرپختونخوا ایڈز کنٹرول پروگرا م نے چند مہینے پہلے پشاور میں خواجہ سراؤں کے لیے اقوم متحدہ کے ادارے برائے ایڈز کنٹرول پروگرام کے مالی معاونت سے ایسے تربیتی پروگرام شروع کرنے کافیصلہ کیا تھا جس کے تحت اُن کی کمیونٹی کے افراد کو ایچ آئی وی ایڈز کے ٹیسٹ کرائیں جائینگے جبکہ مناسب مقام پر لیباٹری کا قیام اور متاثرہ افراد کے لئے بروقت دوائی کے حصول کو یقینی بنانے کے لئے انتظام شامل تھا ۔ کئی مہینے گزرجانے کے باجود بھی اس حوالے سے کوئی مثبت پیش رفت نہ ہوسکی۔
خواجہ سراؤں کی صوبائی تنظیم ٹرانس ایکشن کے جنرل سیکرٹری آرزوخان نے چاہ ماہ پہلے صوبائی ایڈ کنٹرول پروگرام اورایک امدادی ادارے کے تعاون سے پہلے خواجہ سراء کے طور پر تربیت حاصل کی کہ کس طرح ایچ آئی وی ایڈز کے لئے خون لایا جاتا ہے اور اُس کا تشحص کیسے کیاجائیگا ۔اُنہوں نے کہا کہ لمبے عرصے سے خواجہ سراؤں کا یہ مطالبہ چلا آرہا ہے کہ اُن کو بہتر صحت کے سہولیات مہیا کیا جائے جس میں ہسپتالوں میں الگ وارڈ اور ایچ آئی وی ایڈ ز کے بارے میں آگاہی مہم کے ساتھ تشخص اورادویات کے حصول کے بہتر نظام مرتب کرنا شامل ہے۔ ۔ اُن کے بقول کئی مہینے پہلے صوبائی ایڈ ز کنٹرول پروگر م کے جانب سے ایک تقریب کاانعقاد کیاگیا جس میں کہاگیا کہ خواجہ سراؤں کو خون کے تشحص کا تربیت اور اُن کے رہائش گاہوں کے قریب لیباٹری قائم کیاجائیگا لیکن اُس فوٹو سیشن کے بعد کچھ نہیں ہوا۔
خواجہ سراء کمیونٹی کے ایچ آئی وی ایڈ ز کے حوالے سے آگر ایک طر ف آگاہی کی کمی ہے تو دوسرے جانب حکومت اداروں کے جانب سے مناسب انتظامات نہ ہونے کی وجہ سے یہ لوگ خون کے نمونوں کے ٹیسٹ نہیں کراتے جس کے وجہ سے وہ جلد موت کے منہ میں چلے جاتے ہیں۔خواجہ سراء ا کمیونٹی کے شکل میں رہتے ہیں جس کے وجہ سے متاثرہ ا فرد اپنی بیماری کو اس لئے چھپاتے ہیں کیونکہ وہ اپنی کمیونٹی سے الگ نہیں رہنا چاہتا۔
خواجہ سراوں کی صوبائی صدر فرزانہ جان نے صوبائی ایڈز کنٹرول پروگرا م کے ڈائریکٹر کو تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ اُنہوں نے جو وعدے خواجہ سراؤں کے ساتھ کئے تھے اُن کو پورا نہیں کیاگیا ۔ اُنہوں نے الزام لگایا کہ محکمہ صحت کے اہلکاروں نے صرف اقوام متحدہ ایڈز کنٹرول پروگرام کے عملے کو دکھانے کے لئے یہ سب کچھ کیا تھا۔
فرزانہ جان نے بتایا کہ یہ پہلی بار نہیں کہ محکمہ صحت خیبرپختونخوا نے کے جانب سے خواجہ سراؤں کے ساتھ اسطرح سلوک کیا جارہا ہے بلکہ اس سے پہلے خواجہ سراؤں کے ساتھ یہ وعدہ کیا گیا تھا کے لیڈی ریڈنگ اور حیات آباد میڈیکل کمپلیکس میں خواجہ سراؤں کے لئے اٹھ بستروں کے وارڈ قائم کیے جائیں گے جہاں پر خواجہ سراؤں کو مفت ادویات فراہم کی جائیں گی۔

خواجہ سراؤں کے شکایت سامنے کے بعدصوبائی وزیر صحت ڈاکٹرہشام انعام اللہ خان نے صوبائی ایڈز کنٹرول پروگرام کے سربراہ ڈاکٹر سلیم کے خلاف انکوائری مقرر کرنے اور ایک ہفتے میں رپورٹ پیش کرنے کا حکم جاری کیا جبکہ اس پوری عمل کے نگرانی کے لئے ڈی جی ہیلتھ سروسز ارشد خان اور ڈاکٹر طاہر ندیم شاہ پر مشتمل دو رکنی انکوائری کمیٹی بھی مقررکردیا گیا ۔ صوبائی وزیر صحت نے تمام شکایت دور کرنے کے لئے خواجہ سراء برادری کے رہنماؤں کا اجلاس بھی طلب کرلیا ہے۔
20اکتوبر کو یو این ایڈز نیوکنٹری ڈائریکٹر فار پاکستان ماریہ علینا جی نے پشاور دورہ کرکے خواجہ سراؤں کے ایڈز سکریننگ سنٹر میں تعاون کا اعلان کیا تھا ۔
2005سے نومبر2018تک خیبر پختونخوا ایڈز کنٹرو ل ساتھ صوبے بھر اور قبائلی اضلاع سے 4ہزار 700مریض رجسٹرڈ ہوچکے جن میں 24خواجہ سراء ہے جو باقاعدہ طور پر قائم سرکاری مراکز سے ادویات لیتا ہے۔خواجہ سراء براد ری کے رہنماء کا دعوا ہے کہ یہ تعداد سو سے بھی زیادہ ہے لیکن سہولیات اور معاشراتی مسائل کے بناء پر یہ لوگ سامنے نہیں آتے۔
نیشل ایڈ ز کنٹرول پرگرام کے مطابق ملک بھر میں25ہزار220ایڈز کے مریض رجسٹرڈ ہے ،جن میں15ہزار390 باقاعدہ طور پر ادویات استعمال کرتے جبکہ 4ہزار697ایڈز سے متاثرہ وہ افراد جو انجکشن کے زریعہ نشہ آور ادویات کا استعمال کرتا ہے ۔

Share this story
  • 56
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
    56
    Shares

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں