Transgender 741

پہلی اور آخری سالگرہ

Transgender
خواجہ سرا ؤں کی زندگی میں سالگرہ ایک ہی منائی جاتی ہے ، دوبارہ سالگرہ کی تقریب کے انعقاد کیلئے انہیں طویل انتظار اور محنت کرنا پڑتی ہے، جس کی بنیادی وجہ سالگرہ کی تقریب پر ہونے والے اخراجات ہیں۔ سالگرہ کی ایک تقریب پر کم از کم چانچ سے دس لاکھ روپے خرچ ہوتے ہیں جو ملبوسات کی تیاری، تقریب کے لئے ہال کی بکنگ، کیک اور مہمانوں کے لئے کھانے پینے پر خرچ ہوتے ہیں۔

ثنا ء چاند کی سالگرہ پشاور کے ایک شادی ہال میں منائی گئی ۔ اُن کا کہنا ہے کہ زندگی میں آج کا دن اُن کے لئے انتہائی خوشی کا ہے کیونکہ اُنہوں نے پوری زندگی اسی دن کے لئے انتظارکیا تھا۔تقریب میں خیبر پختونخوا اور پنجاب کے مختلف علاقوں سے اُن کی دوستوں نے شرکت کی۔اُنہوں نے سالگرہ کا لباس لاہور سے نوے ہزار میں بنوائے ہے جو سرخ رنگ کا لینگا ہے۔


انسانی حقو ق کے لئے سرگرم رکن تیمور کمال کا کہنا ہے کہ خواجہ سراء بنیادی انسانی حقوق سے محروم ہے اورمعاشرتی رویو ں کے بناء پر ان کے مسائل میں کئی گناہ اضافہ ہوتا ہے ۔ اُن کے بقول لڑکے اور لڑکی کے لئے شادی یا منگی جتنی اہمیت کی حامل ہے اتنی ہی خواجہ سراء کیلئے اسکی سالگرہ کی تقریب ہے۔

ثناء چاند کو اپنی دوستو ں کی طرف سے تحائف اور نقد پیسے دئیے گئے جبکہ شرکت کرنے والے تمام خواجہ سراؤں کی یہ خواہش ہوتی ہے کہ وہ اپنے دوست کی سالگر ہ کے موقع پر ضرور ناچے لیکن وقت کے کمی کے بناء پر جب کسی کو یہ موقع نہ ملاسکے تو نارضگی کا بھی سبب بن جاتا ہے۔ بی بی جان ہری پور سے آئی ہے اوردوستوں کے ساتھ گپ شپ اور تصاویر بنانے میں مصروف ہے۔

سالگرہ کے تقریب منعقد کرنے میں اگر ایک طرف بھاری رقم خرچ کرنا پڑتی ہے تو دوسرے جانب ہال کرائے پر حاصل کرنے لئے پولیس کا اجازت نامہ لینا ضروری ہوتا ہے ورنہ سیکورٹی حکام پروگرام کو زبرستی بندکرواتے ہیں۔ ہال پر سیکورٹی سخت ہوتی ہے اور خواجہ سراؤں کے علاوہ صرف مدعوافراد کو ہی آندار آنے کی اجازت دی جاتی ہے ۔دہشت گردی اور انتہاء پسندی کی وجہ سے پشاور میں اس قسم کے تقریبات انعقاد بہت ہی کم ہوتے ہیں

ثناء چاند خیبر پختونخوا ٹرنس جنڈر ایسویشن کے صدر فرازنہ کی شاگرد ہیں اُن کو کہنا ہے کہ آج تمام خواجہ سراؤں کے لئے بہت خوشی کا دن ہے نہ ہماا باپ اور نہ ماں ہوتی ہے ، ایسے میں گورو ہی انکی کمی کو پورا کرتا ہے ۔اُن کی بقول جس کی سالگرہ ہوتی ہے اُن کو خواجہ سراؤں میں سے ایک اُسے اپنی بیٹی قبول کرلیتی ہے اور اُن کو اپنی بیٹی جیسی خیال رکھتی ہے ۔پوری تقریب کو جدید الات اور کیمروں سے محفوظ کرلیتا ہے۔

ناچنے کے دوران جو پیسے میدان میں گرتے ہیں تو وہ اُن کو ملتاہے جس کی سالگرہ ہوتی ہے جبکہ ناچنے والے خواجہ سراؤں کو ہاتھ میں جو پیسے دئیے جاتے ہیں وہ اُن کے ہوتے ہیں۔ تقریب میں خواجہ سرؤں کے علاوہ اُن کے دوست بھی ناچنے کے دوران پیسے نچھاور کرتے ہیں۔
سالگرہ کے موقع پر اُن کو اپنی دوستوں کی طرف سے تحائف کی مد میں لاکھوں روپے جمع ہوتے ہیں۔ جو اُن کی زندگی کا سرمایہ ہوتا ہے جس سے وہ عموما اپنے لئے گھر وغیرہ خریدتے ہیں۔

Share this story
  • 248
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
    248
    Shares

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں