375

2018، خیبرپختونخوا میں بچوں کے خلاف جنسی تشدد کے 213مقدمات درج

9سالہ مناہل آخری بار 27دسمبر کو گھر کے قریب دینی مدرسے کو گئی لیکن اُنہوں نے نہ صرف اپنے خاندان کو ہمیشہ کیلئے افسرد ہ چھوڑ کر چلے گئی بلکہ پوری علاقے کے لئے دُکھ بری یادیں چھوڑ دئیے ۔اُن کے والد خان سید جو ضلع نوشہرہ کے علاقے نوشہرہ کلاں کے رہائشی ہے نے کہا کہ عشاء کے نماز سے فارغ ہونے کے بعد بیوی نے اُن کو بتایا کہ مناہل ا ب تک گھر نہیں آئی، گھر اور محلے کے لوگوں نے تلاش شروع کردی لیکن رات دیر گئے تک کوئی کامیابی نہیں ملی۔رات بڑی مشکل سے گزر گئی اور اگلے صبح پھر ناکام کوششیں شروع ہوئی جبکہ دوپہرکو مقامی پولیس نے اطلاع دی کہ اُن کی بچی کے لاش قریب قبرستان میں ایک پرانی قبر سے ملی ہے۔ خان سید انتہائی افسردگی کے ساتھ بتایاکہ اُن کی بیٹی کو جنسی تشدد کے بعد قتل کردیا گیاتھا۔ تین دن کے کوششوں کے بعد پولیس نے واقع میں ملوث ایک ملزم کو گرفتار کرلیاگیا ۔
مناہل جیسے کئی بچے ہرسال اپنے زندگی کھو بیٹھتے ہیں اور یا زندگی میں اتنے خوف کا شکار ہوجاتا ہے کہ اُس صدمے سے نکلنا اُ ن کے لئے انتہائی مشکل مرحلہ ہوتا ہے۔ خیبر پختونخوا پولیس کے اعداد شمار کے مطابق 2015ء میں بچوں کے خلاف جنسی تشدد کے مجموعی طور پر 42واقعات کے مقدمے درج ہوئے تھے ۔ جن میں 21بچیاں بھی شامل تھے ، جبکہ سال 2016ء میں یہ واقعات 151 تک پہنچ گئے جبکہ سال2017ء میں یہ واقعات کم ہوکر 123رہ گئے تھے تاہم پچھلے سال یعنی 2018میں ان واقعات میں پھر اضافہ ہوا ہے اور مجموعی طور پر صوبہ بھر میں بچوں کے خلاف جنسی تشدد کے 213مقدمات کا اندراج ہو ا ۔ جن میں 181بچے اور 32بچیاں شامل تھی۔
پشاور میں رات کی یہ تاریکی بہت سے لوگوں کے لئے ایک طرف آرام اور سکون اپنے ساتھ لے آتا ہے تو دوسری جانب 14سالہ احمد جیسے سینکڑوں بچوں کے لئے ہر رات خطرے سے خالی نہیں ہوتا ۔ احمدکی عمر جب8 سال کا تھا تو وہ گھر سے بھاگ کر پشاور آیا اور یہاں پر دن کو کباڑ جمع کر کے اُس کو بھیج کر اپنے کمائی پر ہیرؤئن کا نشہ کرتاتھا جبکہ رات کو بس اڈے میں 50 روپے دیکر چارپائی کرایہ پر لے کر رات گزرتاتھا۔ لیکن ایک رات جب وہ سویاہوا تھاتو چار بندے آکر اُس کو زبردستی گاڑی میں ڈال کرجنسی تشد د کا نشانہ بنایا۔احمد نے جب بات شروع کی تو چہرے پر پسینہ آنا شروع ہوا اور کہنے لگے کہ بڑی تکلیف دہ عمل تھا کیونکہ میں بہوش تھا اور کافی مقدار میں خون بھی خارج ہورہاتھا۔چند سال بعد احمد نے دوسرے بچوں کے ساتھ وہی سلوک کیا جو اُس کے ساتھ ہوا تھا۔

پچھلے 15 سالوں سے پاکستان میں بچوں کے جنسی تشدد کے حوالے سے اعدادو شمار اکٹھے کرنے والے غیر سرکاری تنظیم ساحل کے سینئر پروگرام مینجر ممتاز گوہر نے کہا کہ ملک میں جنسی تشد د کے شکار بچوں کے بارے میں معلومات جمع کرنے کا بنیادی مقصد پارلیمنٹرین اور دوسرے متعلقہ اداروں کو اس بات کا احساس دلانا ہے کہ اس خطرناک صورتحال کو قابوکرنے کیلئے اقدامات کی ضرورت ہے۔ اُنھوں نے کہا کہ ملک کے 91 قومی اور مقامی اخبارات سے یہ اعدادو شمار جمع کیا جاتا ہے اور سالانہ ایک رپورٹ جاری کیا جاتا ہے جس کے مطابق سال 2016ء میں 4139جبکہ سال 2017ء میں یہ تعداد کم ہوکر 3445بچوں پر جنسی تشدد کے واقعات سامنے آئے ہیں ، اس حساب سے دن میں9 واقعات رونما ہوتے ہیں جو کہ کافی زیادہ تعدادہیں۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ 1039جسم فروشی ، 467زیادتی ، 366بد فعلی،206زیادتی کی کوشش، 158اجتماعی زیادتی کے واقعات سامنے آئے ہیں۔ ممتاز گوہر نے بتایا کہ سال 2016ء میں جنسی تشدد کے بعد مارے جانے واقعات100جبکہ 2017 ء میں9 فیصد بڑھ کر یہ تعداد 109ہوگئے۔اُنھوں نے بتا یا کہ پچھلے سال بچوں پر جنسی تشدد کے زیادہ واقعات پنجاب میں ہوئے تھے جس کے تعداد 2168، سندھ میں 933 ، بلوچستان میں139، وفاقی دارلحکومت اسلام آباد میں112، خیبر پختونخوا 78، آزاد کشمیر میں12، گلگت بلتستان میں 3 کیسز رپورٹ ہوئے۔

ولی محمد پشاور کے بڑے بس اڈے حاجی کیمپ میں 15 سال سے ہوٹل میں کا م کرتا ہے ، اُنہوں نے کہا کہ رات کو ڈرائیور ، کنڈیکٹر، مزدور ، مسافر اور بچے یہاں پر 50 سے 100 روپے تک چارپائی کرایہ پر لیکر رات گزرتا ہے ۔ولی کا کہنا تھا کہ کچھ ایسے بچے بھی ہوتے ہیں کہ اُن کے پاس پیسے نہیں ہوتے تو یہاں پر لو گ اُن کو کہتے ہیں کہ رات گزارنے کا بندوست ہوجائے گالیکن تم کامیر ے ساتھ سو نا پڑے گا اور کچھ پیسے بھی دونگا تو زیادہ تر بچے تیار ہوجاتے ہیں۔اُن کے بقول زیادہ ترڈرائیور اورکنڈیکٹر رات کو اسطرح بچوں کو جنسی تشدد کانشانہ بناتے ہیں جبکہ کچھ لوگ یہا ں پرپوچھتے ہیں کہ کوئی بچہ معلوم نہیں جو پیسے لیکر میری جنسی خواہش کو پوری کرلیں، پھر یہاں پر کچھ بچے ایسے بھی ہے جو پیسوں کے لئے غلط کام کرتا ہے ۔بات یہی پر ختم نہیں ہوتی اور ولی محمد جیسے لوگ بھی اُن بچوں کو جنسی حواس کا نشانہ بناتاہے جو گھر سے بھاگ کرشہروں میں سکون کی زندگی تلاش کرتا ہے۔ولی نے کہا کہ کچھ عرصہ پہلے اُنہوں نے دو بھائیوں کوجن کے عمریں 8 اور10 برس کے تھے رات کو چارپائی اور بستر فراہمی کے بدلے جنسی تشدد کا نشانہ بنایا تھا ۔

بچوں کے حقوق کے تحفظ کے لئے سرگرم رکن عمران ٹکر نے اس حوالے سے بتایا کہ بچوں کے خلاف جنسی تشدد کے واقعات میں اضافہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کی ناکامی اور نااہلی ہے تاہم اُنہوں نے کہا کہ اب چونکہ ملک کے مختلف علاقوں میں بعض واقعات کے سامنے آنے سے متاثرہ والدین بھی ان واقعات کو پولیس کو رپورٹ کرتے ہیں جن کی وجہ سے اب قانون نافذ کرنے والے اداروں پر دباؤبڑھتاجارہاہے ۔
عمران ٹکر نے کہا کہ بچوں پر جنسی تشدد کے زیادہ تر اُن واقعات کے مقدمات اس وجہ سے درج ہوتے ہیں جو سوشل میڈیا اور میڈیا پر رپورٹس کے بعد سامنے آتے ہیں اور متاثرہ بچے کو یا توقتل کیا جاتا ہے یا ان کو طبی امداد کی ضرورت پڑجاتی ہے جبکہ بعض واقعات مختلف وجوہات کے بناء سامنے نہیں آتا جن میں متاثرہ بچوں یا بچیوں کو طبی امداد کی ضرورت نہ ہو اور خاندانی شرمندگی کے بناء پرلوگ خاموش ہوجاتے ہیں ۔ اُنہوں نے کہا کہ مسئلہ تب حل ہوگا جب تمام ترواقعات پولیس کو رپورٹ کئے جائے اور قانون نافذکرنے والے ادارے اس قسم کے کاروائیوں میں ملوث ملزمان کو فوری طور پر گرفتار کرے او ران کو عدالتوں کے سامنے پیش کرے ۔
معلومات کے مطابق جنسی تشد د کے شکار زیادہ تر بچے ہوتے ہیں جو مختلف وجوہات کے بناء پر اپنا خاندان کو چھوڑ کر دوسری علاقوں یا شہروں میں منتقل ہوجاتے ہیں۔ دن کو یہ بچے اپنے کباڑ جمع کرتے ہیںیا ورکشاپ ، ہوٹلوں یا دوسرا کوئی معمولی کام کاج کرکے اپنے لئے خرچہ پیدا کرتے ہیں جس پر وہ کھانے پینے کے ساتھ اپنے لئے مختلف قسم کے نشہ وار چیزیں خرید تے ہیں جبکہ رات بس اڈوں میں انتہائی کم پیسوں سے رات گزرتے ہیں اور ایسے مقامات پر آسانی کے ساتھ بچوں کوجنسی تشد د شکار کیا جاتا ہے۔

خیبر پختونخوا پولیس حکام نے بتایا کہ جس طرح بچوں کے خلاف جنسی تشدد کے واقعات میں اضافہ ہوتا رہتا ہے اسی طرح پولیس فورس کی ذمہ داریاں بھی بڑھتی جارہی ہے ۔ اُنہوں نے کہا کہ پچھلے 4 سالوں میں بچوں کے خلاف تشدد میں ملوث 900ملزمان کو بھی حراست میں لیاگیا ہے اور ان میں بیشترکو مختلف عدالتوں میں سزائیں بھی دلوائی گئی ہے ۔پولیس آفیسر نے کہا کہ ماضی میں والدین یا دیگر رشتہ داربچوں کے خلاف جنسی تشدد کے واقعات چھپاتے تھے مگر اب ان واقعات کی مقدمے درج کئے جارہے ہیں ۔

حال ہی میں خواتین کے خلاف تشدد کے واقعات کے حل کے لئے تعینات کی جانی والی خیبر پختونخوا کی صوبائی محتسب رخشندہ ناز نے بتایا کہ بچوں کے خلاف تشدد کے واقعات میں اضافہ باعث تشویش ہیں جبکہ پاکستان بچوں کے حقوق کے حوالے سے متعلق جینوا کنونشن کا حصہ ہے لہذا قانون نافذکرنے والے اداروں کی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ بچوں کے حقوق کی تحفظ کو یقینی بنائے ۔ اُنہوں نے کہا کہ آٹھارویں ترمیم کے بعد بچوں کے حقوق کے لئے قانونی سازی چاروں صوبائی حکومتوں کے ذمہ داری ہے لیکن بدقسمتی سے کسی نے بھی اپنے حصہ کا کردار ادا نہیں کیا ہے جس کی وجہ سے روز بروز بچوں پر جنسی واقعات میں اضافہ ہورہا ہے ۔ اُن کے مزیدکہناتھا اس سلسلے میں متعلقہ قوانین کو عملی بنائے اور قانون نافذکرنے والے اداروں کے استعداد کا ر کو بھی بڑھائی جائے ۔

خیبر پختونخوا چائلڈ اینڈ ویلفیئرکمیشن کے ڈائریکٹر کا عہد ہ پچھلے کئی سالوں سے خالی ہے جبکہ دسمبر 2017میں بچوں کے عالمی ادارے برائے اطفال کے تعاون سے سالانہ 3کروڑ روپے کے مالی معاونت سے صوبے کے بارہ اضلاع میں بچوں کو تحفظ فراہم کرنے کے لئے قائم یونٹ بند کردئیے گئے ہیں جبکہ صوبائی حکومت مذکورہ بجٹ مختص کرانے میں اب تک کامیاب نہ ہوسکے۔ ادارے کے ایک عہدیدار نے بتایا کہ پچھلے 5سال میں صوبے کے 12 اضلاع میں قائم چائلڈ پر وٹیکشن یونٹ میں30 ہزار بچوں کو جن میں222واقعات جنسی تشدد کا نشانہ بنائے گئے تھے کومدد فراہم کی گئی جومختلف قسم کے بنیادی حقوق سے محروم کردئیے گئے تھے ،ان یونٹ کے مدد سے 1062کمیٹیاں بنائے گئے جس میں تمام مکاتب فکر کے لوگ شامل تھے اور ضلعی سطح پر ڈپٹی کمشنر اس کا سربراہ ہوتا ہے۔ اُنہوں نے کہا کہ بچوں کے حقوق کے لئے صوبائی سطح پر بہت سے قوانین موجود ہے لیکن اُس پر عمل درآمد نہیں ہوتا جن کے کئی وجوہات ہیں، 70سے 80فیصد لوگ قوانین اور اداروں سے بے خبر ہے جبکہ اس سلسلے میں مختلف سرکاری اداروں میں کام کرنے والے اہلکاروں کی تربیت آگاہی نہ ہونے کی وجہ سے متاثرہ خاندان سامنے نہیں آتے۔اس کے ساتھ قانونی پیچیدگیاں بھی اُن عوامل میں شامل ہیں جو ملزمان کو عدالتوں اور سزا تک پہنچے میں روکاٹ سمجھا جاتا ہے۔ عدالتوں کا رُخ نہیں کرتے ۔اُنہوں نے کہا کہ مردان اور کوہاٹ کے واقعات میں پولیس نے کافی اچھا کردار ادا کیا ہے ۔

پنجاب کے ضلع قصور کے علاوہ خیبر پختونخوا کے کئی ایک اضلاع میں پچھلے سال بچیوں کے خلاف جنسی تشدد میں ملوث کئی ملزمان کو گرفتار کرلیا گیا ہے جبکہ مردان میں 6سال قبل ایک کم سن بچی کو جنسی تشدد کے بعد ہلاک کرنے کے جرم میں ملوث اہم ملزم کو عدالت نے چند روز قبل 50 سال قیدکی سزا سنادی ہے ۔

Share this story
  • 16
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
    16
    Shares

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں