1,304

طورخم کے متاثرین ، مطالبات کے حق میں سڑک پر سیمینار کا انعقاد

پشاور:پختون تحفظ تحریک ضلع خیبر کی طرف سے طورخم سرحد پر پیش آنے والے مسائل کے بارے پشاور پریس کلب میں ایک ہفتہ پہلے سےبدھ کے روز طے شدہ سیمینار بعض ناگزیروجوہات کی بنیاد پر اجازت نہ ملنے کی وجہ سے ملتوی ہونا پڑا۔جس کے بعدسیمینار کے آرگنائزر نے پُرامن طریقے سے مذکورہ سیمینارپشاورپریس کلب کے سامنے سٹرک پر بیٹھ کر کرنے کا فیصلہ کیا اور اپنے مطالبات کے حق میں تقاریرکئے۔سیمینار کے ایک آرگنائز ر اسرار احمد نے بتایا کہ اس سیمینار کامقصد پاک افغان سرحد پر واقع طور خم ٹرمینل پر نیشنل لاجسٹک سیل(NLC) کے اہلکاروں کی جانب مقامی لوگوں کے زمینوں پر ناجائز قبضے اور زیادتیوں کے خلاف میڈیا کے توسط سے اعلیٰ حکام کے سامنے اپنا پُرامن احتجاج ریکارڈ کرنا تھا۔انہوں نے کہا کہ ہم پچھلے کئی ماہ سے مسلسل کوشش کررہے ہیں کہ اعلیٰ حکام کے ساتھ بیٹھ کر اس مسئلہ کا ایک مناسب حل نکالیں لیکن کوئی شنوائی نہیں ہوئی۔انہوں نے کہا کہ ہم اس حوالے سے طورخم کے مقام پر اور لنڈی کوتل میں بھی کئی دفعہ احتجاج کرچکے ہیں کہ انتظامیہ آئیں اور ہمارے ساتھ بامعنی مذاکرات کریں اور درپیش مسئلے کا حل تلاش کریں۔
سیمینار میں پی ٹی ایم کے سرکردہ رہنماؤوں فضل خان ایڈوکیٹ ،ڈاکٹرسیدعالم محسود کے علاوہ شینواری قبیلے کے متاثرہ لوگوں،مقامی نوجوانوں اور پی ٹی ایم پشاور کے اراکین نے شرکت کی۔
سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے رحیم شاہ ایڈوکیٹ نے کہا کہ پشتون اور بالخصوص قبائلی عوام محب وطن پاکستانی ہے لہذا اُن کے ریاست کی طرف سے سوتھیلی ماں جیسا سلوک بند ہونا چاہئے۔انہوں نے کہا کہ پشتونوں کی زمین پہلے ہی دہشت گردی کی وجہ سے ہر طرح کے مصیبتوں کا شکار رہا ہے اور لوگوں نے ہزاروں کی تعداد میں اپنے پیاروں کی جنازے کندھوں پے اٹھالئے ہیں۔انہوں نے کہا کہ اب پشتونوں کو معاشی طور کمزورکرنے کی کوشش کی جارہی ہے اور اُن کے مُنہ سے حلال کمائی چھینی جارہی ہے جوکہ قابل افسوس ہے۔
فضل خان ایڈوکیٹ نے کہا کہ ریاست تو ماں جیسے ہوتی ہے اُن کا کام تو اپنے شہریوں کو سہولیات اور روزگار دینا ہوتا ہے لیکن یہاں الٹا گنگا بہتی ہے اور لوگوں کو بجائے سہولیات دینے کے الٹا اُن سے اپنا روزگار لیاجاتاہے۔انہوں نے کہا کہ پشتون قوم کو ایک سوچھے سمجھے منصوبے کے تحت دیوار سے لگایا جاتا ہے۔جس سے پشتونوں میں احساس محرومی بڑھے گی ۔انہوں نے کراچی میں پی ٹی ایم کے رکن عالمزیب محسود کی گرفتار ی کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا کہ ہم پُرامن لوگ ہے اور آئین اور قانون کے مطابق اپنے تحریک کو جاری رکھے ہوئے ہیں اسطرح کی نہتے نوجوانو ں کی گرفتاریوں سے ہمارے حوصلے پست نہیں کئے جاسکتے۔
شمالی وزیرستان میں پیش آنے والے واقعے کاذکر کرتے ہوئے کہا کہ پشتون سب کچھ برداشت کرسکتی ہے لیکن اپنے گھر اور پردے کی بے عزتی کوکبھی بھی برداشت نہیں کرسکتے ۔
ادھر جنوبی ضلع ٹانک میں بھی پی ٹی ایم کے مقامی رہنماؤوں نے ریلی کا انعقاد کیا اور سندھ پولیس سے عالمزیب محسود کا پُرامن طریقے سے رہائی کا مطالبہ کیا۔ریلی سے خطاب کرتے ہوئے مقامی مقررین نے ریاستی اداروں کو کڑی تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ پشتون قوم کو اب اور دھوکے میں نہیں رکھا جاسکتا۔
ریلی میں شریک پی ٹی ایم کے ایک رکن تنویر خان بیٹنی نے بتایا کہ عالمزیب محسود ایک پرُامن شہری تھا اور اپنے حقوق کیلئے سوشل میڈیا پرآوازاٹھاتا تھا.انہوں نے بتایا کہ اُن کا قصور یہ ہے کہ وہ ملک میں آئین اور قانون کی بالادستی چاہتے ہیں اس لئے اُنہیں اٹھایا گیا ہے.انہوں نے مزید بتایا کہ ریلی سندھ پولیس کی جانب سےعالمزیب محسود کے زبردستی اٹھانے کے خلاف نکالی گئی ہے.

Share this story
  • 2K
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
    2K
    Shares

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں