193

جنگ سے متاثر جوانوں کی ذہنی نشوونماکھیل سے

باڑہ— بیس کے قریب جوان والی بال ایک ایسے میدان میں کھیل رہے ہیں جہاں پر زمین پتھریلی اور ناہموار ہے ، لیکن اس کے باوجود بھی وہ اتنے جذبے سے کھیل رہے ہیں کہ مشکلات کا کسی کو احساس نہیں۔ دونوں اطراف سے پوائنٹ سکور کرنے کی بھر پور کوشش کی جارہی ہے۔ کھلاڑیوں اور تماشیوں کے لئے علاقے میں اس قسم کے سرگرمیاں اُن کی زندگی میں بہت بڑی مثبت تبدیلی ہے کیونکہ ان علاقے یعنی یہ ضلع خیبر کے تحصیل باڑہ میں د ہشت گرد تنظیموں کے سرگرمیاں، فوجی آپریشن اور نقل مکانی کے مشکل زندگی جیسے مسائل دیکھی ہیں۔صابر عزیز جوکہ ڈگری کلاس کا طالب علم ہے، ہر سہ پہراپنے گھر سے تھوڑے فاصلے پر والی بال کے اس میدان میں اپنے دوسرے ہم عمرہمسایوں کے ساتھ کھیلتا ہے جو کہ چھ سال تک ایک دوسرے سے دور ہوگئے تھے۔صابر کا کہنا ہے کہ یہاں پر اکٹھے ہونے کا مقصد صرف یہ کھیل نہیں بلکہ اپنے مطالعے اور علاقے میں ہونے سیاسی اور سماجی کاموں کے بارے میں ایک دوسرے کے ساتھ نظریات کا تبادلہ بھی کرتے ہیں۔صابرنے بتا یا کہ کچھ سالوں پہلے کوئی تصور بھی نہیں کرسکتاتھا کہ ہم اسطرح ایک جگہ پر اکٹھے ہو جائینگے کیونکہ یہاں پرامن کے حالت بہت زیادہ خراب تھی۔
باڑہ سے لگ بھگ ایک لاکھ سے زیادہ رجسٹرڈ خاندانوں ستمبر2009ء میں نقل مکانی کرکے آئی ڈی پیز کیمپ یا کرایہ کے گھروں میں آباد ہوگئے تھے۔اُس وقت سرکاری اور پرائیویٹ تعلیمی اداروں میں پڑھنے والوں کی تعدا د ایک لاکھ پندرہ ہزار تک تھی جو کہ بعدمیں بمشکل صرف پندرہ ہزار تک رہ گئی تھی۔اس اعداد و شمار سے انداز لگانا آسان ہو جاتا ہے کہ نئے نسل پر پچھلے کئی سالوں کے حالت نے کونسے اثرات مرتب کئے ہیں۔

بائیس سالہ شاہد جوکہ ٹیکسی ڈرائیور ہے اور ہر روز تین کلومیڑ کا فاصلہ پیدل طے کرکے کھیل کے لئے آتا ہے۔اُنہوں تب آٹھویں جماعت میں تعلیم ادھوری چھوڑ دی جب اُن کا خاندان بے گھر ہوکر ضلع پشاور منتقل ہوگئے۔ اُن کا کہنا ہے کہ وہ پوری دن کی تھکاوٹ اور پریشانی دور کرنے لئے یہاں آتاہے۔ کھیل کے دوران شاہد کے دوسرے دوست آوازیں لگا کر اُن کا مذاق اُڑالیتے ہیں لیکن اس کے باجود بھی اُن کو ذہنی اور جسمانی سکون کاصرف یہ ایک راستہ دیکھائی دیتا ہے ۔
پورے علاقے میں کھیل کے حوالے سے بڑوں کے سوچ میں بڑی تبدیلی محسوس کی جارہی ہیں ، کیونکہ پہلے اس کو وقت کا ضیا ع تصور کرکے اپنے بچوں کو منع کرتے تھے لیکن اب ایسانہیں ہے ۔ شام کے سورج ڈھل جانے سے پہلے جب باڑہ میں آپ سفر کررہے ہوتے ہیں تو ہرجگہ پرنوجوان اور بچے کھیل میں مصروف نظر آئینگے۔
مقامی طور پچھلے بیس سالوں سے علاقے میں کھیلوں کے فروع میں مصروف الف خان کا کہنا ہے کہ کسی بھی معاشر ے میں مثبت سوچ کو فروغ دینے کے لئے کھیل ہی وہ واحد ذریعہ ہے جس کے مدد سے نئے نسل کے آچھی تربیت ہی ممکن ہے ۔ اُنھوں نے کہا کہ پوری قبائلی اضلاع میں دہشت گردی کی لہر نے پوری نظام زندگی کو مفلوج کردیا ہے اور نئی نسل میں مثبت سوچ پیدا کرنے کے لئے علاقائی سطح پر مختلف کھیلوں کے تقریبات کا انعقاد انتہائی ضروری ہے جوکہ اُس سطح پر نہیں ہورہا جتنا ضروری ہے۔ اُنہوں نے کہا کہ پوری تحصیل میں ایسا گرونڈ موجود نہیں جہاں پر بچے آزادی کے ساتھ کھیل میں حصہ لے سکے ۔ اُن کے بقول صرف ایک بڑا میدان ایف ۔سی گراونڈ تھا جو کہ پچھلے دو دہائیوں سے ہر قسم کے کھیل کے سرگرمیوں کے لئے بند کردیا گیا اور اب بچے قبرستانوں اور غیر آباد زمینوں میں کھیلتے ہے جس پر مقامی لوگ اعتراضات بھی اُٹھا رہیں لیکن ہم کہاں پر اپنے سرگرمیاں جاری رکھیں۔

کھیلوں میں مصروف چند ایسے بچوں کے ساتھ بھی ملاقات ہوئی جوکہ مسلح تنظیموں کے ساتھ وابستہ رہے ، لیکن جب علاقہ دہشت گردوں سے پاک کردیا گیا اور فروری 2015ء میں لوگوں کے واپسی عمل شروع ہوا تو پاک فوج کے مدد سے علاقے میں ایک تربیتی ادارہ قائم کیا گیا جہاں پر ان متاثرہ بچوں کا نہ صرف ذہنی تربیت کرائی گئی بلکہ اُس کو اس ملک وقوم کے ایک کارآمد شہری بھی بنایا گیا ۔یہ بچے اُس گزرے ہوئے حالت پربات نہیں کرتے ۔
داؤد خان ڈگری کلاس کا طالب علم ہے اور والی بال میں سروس مین کے پوزیشن پر کھیلتا ہے ، ان کا کہنا ہے کہ کھیل میں وہ بچے آتے ہیں جو پہلے دوسرے لوگوں کے ساتھ تھے یا مسلح تربیت لے چکے تھے ۔ اُنھوں نے کہا کہ ہم ا ن میں پہلے کے نسبت کافی بڑی تبدیلی محسوس کرتے اور اس بات کا انداز لگانا انتہائی مشکل ہے کہ یہ کونسے ماحول سے نکلے ہیں۔
الف خان کا کہنا ہے کہ ہمارے بچوں میں اتنی صلاحیت موجود ہے کہ دو سال بغیر کسی تربیت کے فاٹا سپورٹس فیسٹول میں والی بال کا فائنل میچ جیتا۔اُن کے بقول علاقے میں کرفیو نافذ ہوتا تھا اور نقل وحرکت انتہائی مشکل تھا لیکن اس کے باوجود بھی کھیل کو جاری رکھا اور سیکورٹی فورسز کے تعاون سے ٹورنامنٹ منعقد کروائے گئے جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ سترہ لڑکے سپورٹس کے بنیاد پر فوج میں بھرتی چکے ہیں۔الف خان نے کہاکہ مقامی سطح پر کھیلوں کافروغ بہت ضروری ہے کیونکہ نوجوانوں میں نشہ کا بڑھتا ہوا رحجان بھی کافی تشویش ناک ہے۔
مقامی سطح پرقوم سپاہ ، اکاخیل ، برقمبرخیل اور شلوبر میں چھوٹے کھیل کے میدان موجود ہے حکومت نے برقمبر خیل میں ایک سٹیڈیم تعمیر کر چکا ہے جبکہ دوسرا ڈوگرہ کے مقام پر تکمیل کے آخر ی مرحلے میں تھا کہ علاقے میں فوج کے طرف سے آپریشن شروع ہوا اور شدت پسندوں کے جانب سے گراونڈ کے تمام تعمیر کو بارودی مواد سے تباہ کردیا گیا تھاجو کہ تاحال دوبارہ تعمیر نہ ہو سکا۔
مقامی لوگوں کے مطابق 25نومبر2016کو باڑہ اکاخیل میں سابقہ آرمی چیف جنرل راحیل شریف اورکرکٹر شاہد آفریدی نے شاہد آفریدی سپورٹس کمپلیکس کا افتتاح کیا جو کہ پچیس ایکڑز سے زیادہ رقبہ مختص کیاگیا ہے لیکن تاحال اس منصوبے پر کوئی کام شروع نہ ہوسکا اور مقامی آبادی کے جانب سے زمین کے معاوضہ ادا نہ کرنے کی بھی شکایت سامنے آرہاہے ۔
دہشت گرد تنظیموں کے زیر آثر تین سو زیادہ نوجوانوں کو باڑہ میں قائم فلاحی مرکز سے تربیت مکمل کرکے فارغ کیا گیا جو نہ صرف اپنے خاندان بلکہ معاشرے کے ترقی میں اپنا حصہ کردار ادا کررہا ہے ۔

Share this story
  • 28
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
    28
    Shares

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں