189

کھیلوں کے قومی میلے میں صلاحیتوں نے معذوری کو شکست دے دی

پشاور…معذوروں کے عالمی دن کے موقع پر بین الاقوامی ریڈ کراس کمیٹی (آئی سی آرسی ) کے تحت “نیشنل ایبیلیٹی سپورٹس فیسٹیول” کے عنوان سے اسلامیہ کالج پشاور میں کھیلوں کا دوروزہ میلہ منعقدہوا۔ بدھ اور جمعرات کے روز ہونے والا یہ میلہ اس حوالے سے ایک موثر پلیٹ فارم ثابت ہوا کہ ملک بھر سے پانچ سو ایسے کھلاڑیوں کو جمع کیا گیا جو جسمانی طور پر تو معذور تھے مگر ان کی صلاحیتیں بھرپور تھیں۔ میلے میں شرکت کرنے والی خصوصی خواتین وحضرات کو وہیل چئیرکرکٹ، وہیل چیرٹیبل ٹینس اور باسکٹ بال جیسے کھیلوں میں اپنی صلاحیتوں کے اظہار کا موقع ملا۔
معذوروں کا عالمی دن تین دسمبر کے حوالے سے منعقد ہونے والے کھیلوں کے میلے میں کھلاڑیوں کی طرف سے کئی خوشگوار اور جذباتی مناظر بھی دیکھے گئے۔ پنجاب وہیل چئیرکرکٹ ٹیم کے کپتان صدر ایوب نے اپنے جذبات کا اظہار کرتے ہوئے کہا ” آج کے اس قومی میلے نے ہمیں اس بات کا شدت سے احساس دلایا ہے کہ ہمارے وجود میں معذوری سے کہیں زیادہ صلاحیتیں پنہاں ہیں”۔
بین الاقوامی ریڈکراس کمیٹی (آئی سی آرسی) پشاور کے سربراہ جیوانی ٹریمبیولو نے کھیلوں کے قومی میلے میں شرکت کرنے والے تمام کھلاڑیوں کا شکریہ ادا کیا اور جیتنے والی ٹیموں کی کارکردگی کو سراہا۔ قومی میلے میں آنے والے شرکا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا
”یہ خصوصی کھلاڑی ہمارے لئے ایک مشعل راہ ہیں۔ گذشتہ دو دنوں میں ہم نے بہترین صلاحیتوں کا مظاہرہ، ٹیموں کے درمیان زبردست مقابلے اور پاکستان بھر سے آئے ہوئے سینکڑوں خصوصی کھلاڑیوں کولطف اندوز ہوتھے ہوئے دیکھا۔ ہمیں خصوصی کھلاڑیوں کے جزبے اور صلاحیتوں کے مظاہرے سے بہت کچھ سیکھنے کو ملا۔ کسی بھی قسم کی معذوری کا ہونا زندگی کے ہر شعبہ میں آگے بڑھنے میں رکارٹ نہیں۔”
معذور افراد کی جسمانی بحالی اور سماجی شمولیت کے حوالے سے سرگرم ادارے “فرینڈز آف پیراپلیجکس ” کے نمائندے عرفان اللہ خان نے قومی میلے میں شرکت کرنے والے شرکا، کھلاڑیوں اور میڈیا نمائندوں کا شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے کہا “ہم دیکھ رہے ہیں کہ لوگ اب بڑھ چڑھ کر ہمارے دست وبازو بن رہے ہیں اور معذور افراد کی حوصلہ افزائی کررہے ہیں، جو کہ ہم سب کے لیے بہت طاقت افزا بات ہے۔ اب ہم یو نہی آگے بڑھتے رہیں گے”
معذور افراد کے لیے قومی کھیلوں کے اس انعقاد کے لیے پیراپلیجک سینٹر حیات آباد، پاکستان ہلال احمر، اسلامیہ کالج پشاور، اکبرکئیر انسٹیٹیوٹ، چل فاونڈیشن، ٹیوٹا پاکستان اور خیبرپختونخوا حکومت کے علاوہ چالیس سے زائد ایسی تنظیموں نے تعاون کیا جو معذور افراد کی جسمانی بحالی اور ان کی سماجی شمولیت کے لیے سرگرم عمل ہیں۔
آئی سی آرسی 1982 سے پاکستان میں معذور افراد کی جسمانی بحالی کے حوالے سے فرائض انجام دے رہی ہے۔ اس وقت آئی سی آر سی ملک بھر میں جسمانی بحالی کے 26 ایسے مراکز کے ساتھ تعاون کررہی ہے جو آئی سی آرسی کے شراکت داروں کے زیرانتظام چل رہے ہیں۔ سال 2018 کے اختتام تک ان مراکز سے استفادہ کرنے والے افراد کی تعداد پچاس ہزار سے متجاوز ہوجائے گی۔ آئی سی آرسی معذور افراد کی سماجی شمولیت اور معاشی خودانحصاری کے امکان پیدا کرنے کے لیے کھیلوں کے ساتھ ساتھ تعلیمی اور تربیتی سرگرمیوں میں بھی حصہ ڈال رہی ہے۔
مزید معلومات کے لیے

Share this story
  • 7
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
    7
    Shares

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں