906

گلزارعالم کے مشکلات جلاوطنی میں بھی کم نہ ہوسکی

پشتوں موسیقی کے مشہور نام گلزار عالم ایک سال سے افغانستان کے درالحکومت کابل میں اپنے خاندان کے ساتھ خودساختہ جلاوطنی کی زندگی گزار رہے ہیں ۔اُنہوں نے پاکستان چھوڑ نے اور افغانستان جانے کے بارے میں موقف اپنایا ہے کہ بحیثیت فنکار کمانے کا ذریعہ کم ہونے کی وجہ سے وہ شدید مالی مشکلات کا شکار ہے جس کے وجہ سے خاندان اور قریبی دوستوں کے مشورے کے بعدوہ اپنے بیوی اور بچوں کے ساتھ کابل چلے گئے ۔ اُنہوں نے محکمہ ثقافت خیبر پختونخوا سے بھی ناراضگی کا اظہار کیا تھا کہ یہاں پر سینئر فنکاروں کے حوالے سے حکومتی رویہ مایوس کن رہا ہے ۔
سریلی آواز کے مالک گلوکار گلزار عالم کا شمار ان چند افراد میں سے ہے جن کے جذباتی اور انقلابی عزلوں اورنظموں ہی سے نہ صرف دہشت گردی اور انتہاپسندی کے مارے ہوئے پختونوں بلکہ دنیا بھر میں پسے ہوئے طبقات کو بھی منظم اور متحرک کیا تھا۔ خیبر پختونخوا کے اس نوجوان کی زندگی کافی نشیب و فراز سے گزرتے ہوئے دیکھنے کو ملتاہے۔
اس میں کوئی شک نہیں کہ قبائلی اضلاع ، خیبر پختونخوا ،پاکستان کے باقی علاقوں اور افغانستان میں اُن کے چاہنے والوں کی بڑی تعدادموجود ہیں لیکن کابل میں بغیر سرکاری امداد یا میزبانی کے گلزار عالم کیلئے زندگی گزارنا کوئی آسان کام نہیں مگر اس کے باوجود بھی وہ بیوی اور بچوں سمیت دوکمروں کے ایک اپارٹمنٹ میں رہائش پذیر ہیں اور انتہائی مشکل حالات میں زندگی گزار رہاہے۔
زمانہ طالبعلمی میں اُنہوں نے ایک سرکاری ادارے میں موسیقی کیلئے نوکری چھوڑ دی تھی۔ اُستاذ غلام علی اور دیگر نامور گلوکاروں اور موسیقاروں کے ساتھ مل جل کر بیٹھنے کے بعد وہ ازخود گلوکار بن گئے۔ چونکہ گلزار عالم اُس وقت موسیقی کے دنیا میں نمودار ہوئے جس وقت پاکستان میں ضیاء الحق کا مارشل لاء تھا اور افغانستان کی سرزمین پرسابق سوویت یونین کے خلاف اور امریکی اتحادیوں کی مزاحمت زوروں پر تھا۔ ان حالات میں دونوں ممالک سے تعلق رکھنے والے پختون ایک عجیب کشمکش میں مبتلا تھے ۔ ان حالات میں گلزارعالم اور سردارعلی ٹکرجیسے مشرقی جمہوری اور قوم پرست خیالات پر مبنی گلوکاروں کے نغموں نے ان کو نہ صرف متحرک کردیا بلکہ افغانستان کے نوجوان طبقہ پر ان کے نغموں اور عزلوں کے مثبت اثرات نمودار ہوگئے ۔
افغان جنگ کے دوران خیبرپختونخوا بلکہ ملک بھر میں منعقدکی جانیوالی ثقافتی پروگراموں میں اکثریت افغان نوجوانوں کی تھی وہ بھی مقامی نوجوانوں کے طرح گلزارعالم کے نظموں اور نغموں پر جھول اُٹھتے تھے۔ ابتدائی سالوں میں گلزار عالم کو نہ صرف ملکی سطح پر بلکہ بین الاقوامی سطحٰ پر کافی پذیرائی ملی۔ پاکستان اور افغانستان کے علاوہ اُنہیں امریکہ ، جرمنی ، کینڈا، یورپ، متحدہ عرب امارات اور دیگر لگ بھگ دو دھائیوں کے بعد بالحصوص 9/11 کے واقعے کے بعد جب مذہبی انتہاپسندی اور دہشت گردی کے رحجان نے خیبر پختونخوان اور ملحقہ قبائلی علاقوں کا رخ کیا تو فن و ثقافت سے تعلق رکھنے والے گلوکار ، اداکار اوراداکارائیں بھی اس سے شدید متاثر ہوئے۔ کئی ایک کا خون ناحق کیا گیا، درجنوں کو پیشہ چھوڑنے پر مجبور کردیاگیا اور بعض نے پاکستان چھوڑ کر یورپ اور امریکہ میں پناہ حاصل کرلیا ۔ گلزار عالم نے بھی حالات سے سمجھوتہ کرکے زندگی گزارنے کیلئے پہلے ایک ریسٹورنٹ اور بعد میں ایک ڈیری فارم کھولامگر یہ تجربہ بھی ناکام ہوا۔ اگست 2017 میں گلزار عالم اسلام آبا د کے لوگ ورثہ کے ایک تقریب میں جمال شاہ کے دعوت پر موجود تھے کہ ورسک روڈ پر ان کے پڑوس میں ایک مذہبی شخصیت اور ان کے بیٹے کے درمیان جھگڑا ہوا۔ مذہبی شخصیت نے نہ صرف گلزار عالم کے بیٹے پر ان کے خلاف اقدام قتل بلکہ توہینِ مذہب کا الزام لگوایا۔ پولیس کے ذریعے تو معاملے کو رفع دفع کردیا گیا ۔ اُنہوں نے ہر فورم پر گلزارعالم ، ان کے بیٹے اور ان کے خاندان پر نئے نئے الزامات لگوانے کا سلسلہ شروع کردیا۔لہذٰا گلزارعالم کیلئے ملک چھوڑنے کے سواء کوئی اور راستہ ہی نہیں تھا۔ فوری طور پر وہ کابل چلے گئے ۔
تاہم مذبہی رہنماء نے ان تمام الزمات کی تردیر کردی اور موقف اپنایا کہ اُن کے گلزار عالم کے ساتھ ڈیری فام میں شریک تھے لیکن بعد میں چند مسائل پیدا ہونے کے بعد کاروبار میں علحیدگی ہوئی جس کے بعد گلزار عالم نے اُن پر بے بنیادی الزمات لگائے ۔
گلزار عالم نے کابل میں ایک نئے زندگی کا آغاز توکردیا لیکن ایک سال سے زیادہ گزرنے کے باوجود بھی مطمن دیکھائی نہیں دیتا۔ کابل میں پشاور سے تعلق رکھنے والے سینئر صحافی شمیم شاہد کے ساتھ مختصر ملاقات میں گلزار عالم نے اپنے حالات زندگی بیان کرنے کا ساتھ ساتھ نہ صرف سر کاری اداروں سے منسلک افسران بلکہ سیاسی جماعتوں کے عہدیداروں سے بھی شکوؤں اور شکایت کے انبار لگوائے بالخصوص ان کے زیادہ تر شکوے او ر شکایت عوامی نیشل پارٹی کے قائدین ہی سے تھے ۔ اُنہوں نے بات چیت کے دوران بار بار عوامی نیشنل پارٹی کے رہنما میاں افتخار حسین کو اپنا ذاتی دوست قرار دیتے رہے مگر ان کے بقول پچھلے کئی برسوں کے دوران اُنہوں نے کبھی بھی ان کے ساتھ رابطہ کیا ہے نہ ان کے زندگی یا مشکلات کے بارے میں باز پرس کی ہے ۔
خیبر پختونخوا میں جب 2002ء کے عام انتخابات میں مذہبی جماعتوں کے اتحاد متحدہ مجلس عمل کو کامیابی ملی تو پشاور میں کئی دہائیوں سے فن کے موسیقی کے مرکز ڈبگری کو بند کردیا گیا اور موسیقی کے ہر قسم کے تقریبات پر پابندی لگائی گئی ۔ اُس وقت گلزار عالم نے فنکار برادری کے لیڈر کے حیثیت سے سامنے آیا اور انتہائی سخت حالت کا مقابلہ کیا ۔اس دوران پشتو ں موسیقی کے بہت بڑے نام بیرونی دنیا میں پناہ لینے میں کامیاب ہوگئے تاہم گلزار عالم نے پھر بھی پاکستان نہیں چھوڑا اور پشاور ہی میں رہائش کو ترجیح دی۔
گلزار عالم پر کئی جان لیوا حملے بھی ہوئے جس میں وہ زخمی بھی ہوئے تاہم کئی سال پہلے بلوچستان کے مرکز ی شہر کوئٹہ میں نامعلوم افراد نے گلزارعالم کو گاڑی سے ٹکردے مار جس سے ا اُس کے دائیں پاؤں کی ہڈی ٹوٹ جانے بعد کئی ماہ وہ بستر پر رہے ہیں۔
گلزار عالم نے صرف اس دھرتی کے فرزند ہیں بلکہ اب بھی مملکت عزیزکے ہزاروں نوجوان گلزار عالم کے ساتھ والہانہ محبت رکھتے ہے ۔ نہ صرف کئی ایک بلکہ حکومت کافر ض بنتاہے کہ کئی طریقے سے گلزار عالم کے ساتھ رابطہ کرکے ان کے شکوؤں اور شکایت کا مداوا کرے اور ان کو باعزت طریقے سے وطن واپسی کے لیے بند وبست کیا جائے ۔

Share this story
  • 134
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
    134
    Shares

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں