922

قبائلی اضلاع میں پچاس ہزار کان کنوں کی زندگی غیر محفوظ

12 ستمبر جان آفسر نے اپنے بیٹے وقاص خان اور ددسرے رشتہ داروں کو اس اُمید سے رخصت کر گئے کہ وہ شام کو واپس آکر اُن کو کچھ پیسے دیکر گاؤں رخصت کرسکے گا لیکن ایسا ہو نہ ہوسکا ۔صبح جب وہ کام پر جارہے تھے تواُن سے پہلے شفٹ کے مزدوروں نے اُن کو بتایا کہ کان میں زہریلے گیس کے اثرات موجود ہے ، اس لئے کام شروع ہونے سے پہلے مائن مینجرکو بتائے تاکہ کوئی ناخوشگور واقعہ پیش نہ آئے لیکن ان کو جواب میں کہا گیا کہ کام شروع کیا جائے کچھ نہیں ہوتا ۔
جان آفسر بھی پچھلے بیس سالوں سے کوئلے کے کانوں میں کام کرتاہے لیکن جب سے اُن کے بیٹے نے کام شروع کیا تھا تب سے وہ بہت کم کام پر جاتا ہے کیونکہ اُن کا صحت بھاری اور مسلسل کام کی اجازت نہیں دیتا ہے۔دو دن پہلے وہ اپنے بیمار رشتہ دار کے ساتھ شانگلہ سے پشاور آیاتھا اور رات گزرنے کے لئے وہ درہ آدم خیل کے علاقے اخوارل جہاں پر کانوں سے کوئلہ نکلنے کا کام ہوتا ہے آیا ۔
قبائلی اضلاع میں یہ پہلا واقعہ نہیں اور اوسطا ہر ماہ ایک خطرناک واقعہ پیش آکر حکومتی عہدیداران آکر بیانیات جاری کرکے او آخر میں وقاص خان جیسے کے بیوی ،بٹیا اور بیٹی عمر بھر زندگی کے زخموں کے مرہم پٹی پانچ لاکھ روپے سے کرکے بات ہمیشہ کے لئے ختم کردیاجاتاہے۔
قبائلی اضلاع میں معدنیات کے ترقی اور اُن کے ساتھ وابستہ مسائل کے حل کے لئے فاٹا ڈویلپمنٹ اتھارٹی میں ایک ڈریکٹریٹ قائم کیا گیا ہے ۔ ادارے کے مطابق سات قبائلی اضلاع اور چھ ایف آر ریجن میں ماربل ، کوئلہ، سوپ سٹون ، کاپر، لائم سٹون، کرومائٹ اور مینگیزکے علاوہ بھی چند قیمتی معدنیات نکالا جاتا ہے جس کا سالانہ حجم پچاس لاکھ ٹن ہے۔
معلومات کے مطابق خیبر، کرم، اورکزئی، ایف آر پشاور اورایف آر کوہاٹ میں کوئلے نکلنے میں نوہزار مزدور کان کنی جبکہ چار ہزار سے چھ ہزار تک مزدور ٹرک ڈرئیور، ہوٹل ، لوڈنگ ،دوکاندار اور منشی کے صورت میں مزکورہ کاروبار سے وابستہ ہے ۔ ماربل کے بڑے ذخائر خیبر اور مہمند میں واقع ہے جہاں پر سترہ ہزار سے زیادہ مزدور کا م کرتے ہیں۔
ایف ڈی اے کے جانب سے تین ریسکیو سنٹرز قائم کیں گئے جن میں ایک ہنگو ،دوسرا ورکزئی اور تیسرا درہ آدم خیل میں ہے ۔ریسکوعملے کے جانب سے ا ب تک تین ہزار مزدروں کو کام کے دواران احتیاطی تدابیراور کان کے مالک کو تین مزدور ں کے لئے حفاظتی سامان نمونے کے طور پر فراہم کیا تاکہ وہ اپنے تمام مزدورں کو اس قسم کے سامان خرید سکے۔کان کنوں کے حفاظت کے لئے ایف ڈی اے کے جانب سے ڈریکٹریٹ سے لیکر فلڈ تک عملے کے تعداد 62ہے جن میں آدھے سے زیادہ عارضی بنیاد پر نوکر ہے ۔ حادثے کے صورت میں ریسکیوکے سوال پر ایف ڈی اے کے حکام نے بتایا کہ اُن کے پاس ضروری مشنری اور تربیت یافتہ عملہ موجود ہے تاہم خیبر کے علاقے کالاخیل کے رہائشی واجد نور آفریدی جو کو ئلے کے کان مالک ہے بتایا کہ تین ماہ پہلے جب کان میں واقعہ ہوا تو کئی گھنٹے بعدد ایف ڈی اے کے ریسکو عملہ پہنچا لیکن غیر تربیت یافتہ اور ضروری سامان کے عدم موجودگی کی وجہ سے مزدوروں اور مقامی لوگوں نے اپنے مد د آپ کے تحت امددی کارئیوں میں حصہ لایا لیکن کافی دیر ہونے کی وجہ سے کئی مزدور موت کے منہ میں چلے گئے۔
ایف ڈی ا ے او ر کانوں کے مالکا ن کے مطابق قبائلی اضلاع میں دوسرے مسائل کے ساتھ وہاں پر حکومتی اداروں اور قبائلی نظام بھی قانونی کان کنی میں ایک بڑی روکاٹ ہے ۔مزکورہ علاقوں میں نہ ا یف ڈی اے کا مکمل اختیار اور نہ وہاں کے پولٹیکل انتظامیہ کا ۔ علاقے میں فوجی آپریشنوں کے بعد زیادہ علاقوں میں سیکورٹی اداروں کا ہی کا کنٹرول ہے اور ہر ادارہ اپنے ہی مرضی کے مطابق مقامی آبادی کے ساتھ مشاورت کے بعد معدنیات نکلنے کے لئے نظام طے کرتاہے جبکہ لیز مالکان بھی خود مختار نہیں ہوتے ۔ ایف ڈی اے کے ایک اہلکا ر نے بتایا کہ جب اُن کے دفتر کے جانب سے کوئی کانوں کے معانئے کے لئے جاتا ہے تو وہاں تک پہنچے کے لئے پانچ سے زیادہ اداروں سے اجازت لیناپڑ تا ہے جس کے وجہ سے لوگ اپنے ہی مرضی کے مطابق کان کنی کرتاہے۔
رائیلٹی کے مدمیں سال 2017-18 ء میں 12.5کروڑ اور سال 2018-19ء میں 22کروڑ روپے سے زیادہ ایف ڈی اے کو مل چکا ہے جو کہ قومی خزانے میں جمع کیا گیا اورایک روپے بھی معدنیات نکلنے والے مزدوروں یا عملے کے لئے مختص نہیں کیا جاتا ۔
ایف ڈی اے کا عملہ بھی کان کنوں کو درپیش مشکلات کے حل میں مسائل کے شکار ہے ۔ ادارے کے مطابق اب تک عملے کے لئے ایک بھی ریجنل آفس موجود نہیں جہا ں پر ڈریکٹریٹ کے سطح پر عملے کے لوگ جاکر معدنیات نکلنے میں مصرو ف عمل مزدورں کے حفاظت کا جائزہ لیں اور لیز مالکان کے ساتھ مقامی انتظامیہ کوبھی مشاورت میں شامل کرسکے۔
12استمبر کے واقعہ میں مارے جانے والے افراد کے لوحقین کو پانچ پانچ لاکھ روپے مائینگ ایسویشن کے جانب دینے کے لئے چند دن پہلے کوہاٹ کمشنر آفس میں تقریب میں دیئے گئے جس میں شانگلہ کے ڈپٹی کمشنر بھی موجود تھے ۔ جان آفسر نے بتایا کہ اُن کو تقریب میں شرکت کے لئے انتظامیہ کے جانب سے بار بار ٹیلی فون کالز ہوتے رہے اور دھوکے سے اُن کو یہاں پر لایا گیا ۔ اُنہوں نے کہا کہ پانچ لاکھ کے بجائے میں دس لاکھ روپے دونگا لیکن مجھے آپنے بچے چاہیے ۔متاثرہ خاندان کو مزید تین لاکھ روپے درہ آد م خیل کے مقامی انتظامیہ کے جانب سے دیا جائے گا۔
اخورال کے ایک مقامی قبائلی رہنماء مجیدگل آفریدی نے بتایا کہ کوئلے تقسیم اور اُس سے حاصل ہونے والے آمد ن پر مقامی انتطامیہ کا بھی کافی عمل دخل ہوتاہے جبکہ حادثے کے صورت میں صرف لیز مالکان اور مقامی قبائل کے جانب سے مالی مدد کا بندوبست کیا جاتا ہے ۔
قبائلی اضلاع میں لیبر لاء ، لیبر یونین ، ای بی او آئی،لیبر ویلئفیر بورڈ اور معدنیات کے حوالے سے دوسرے قوانیں کے توسیع نہیں ہے جس کے وجہ سے ان علاقوں میں کان غیر محفوظ ہے۔ جیالوجی کے ایک ماہر عدیل جان نے بتایا کہ قبائلی اضلاع میں کوئلے کا نوں میں زیادہ جان لیوا حاداثات ہوتے ہیں جس کی بنیادی وجہ ان علاقوں میں بلوچستان اور سند ھ کے طرح بڑے ذخائر موجود نہیں اور مقامی لوگ ، لیز مالکان اور معدنیات نکلنے والے مزدور اپنے تجربے کے بنیاد پر کا م کرتے ہیں جس کے وجہ سے اکثر خطرناک قسم کے واقعات رونما ہو جاتے ہیں ۔اُنہوں نے کہا کہ یہاں پر کان کے مالک اور اور کائلہ نکلنے کا ٹھکیدار کم خرچ اور زیادہ کمائی کے لالچ میں مزدوروں کو موت کے طرف باسانی دیکھل دیتے ہیں جبکہ موت کے صورت میں اُن کے پسماندگان اور یا معذواری کے شکل میں وہ عمر بھر کے لئے زندہ لاش ہوکرزندگی گزرتا ہے ۔آمجد کان سے کوئلہ نکلنے میں ٹھیکدار ی کا کام کرتاہے ، اُنہوں نے بتایا کہ مزدروں کو اپنے کام پورا معاوضہ بھی نہیں دیاجاتا اور نئے آنے والے مزدور جن میں اکثریت نوجوان شامل ہے سخت محنت کے باوجود بھی تین ہفتوں کا بمشکل پانچ ہزار روپے معاوضہ مل جاتا ہے۔
چند دن پہلے شانگلہ سے تعلق رکھنے والے نوجوانوں ، شانگلہ ایکشن کمیٹی اور انسانی حقوق کے لئے سرگرم کارکنوں نے اسلام آباد پریس کلب کے سامنے ملاکنڈ ڈویژن سے تعلق رکھنے والے کان کنوں کے حقوق کے لئے ایک احتجاج مظاہر ہ کیاتھا جس کو نہ صرف مقامی بلکہ بین الاقوامی میڈیا نے جگہ دیا۔
نوٹ: تمام معلومات سرکاری اداروں، لیز ملکان ، مزدوروں اور مقامی رہنماووں سے حاصل کیا گیاہے ۔

Share this story
  • 42
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
    42
    Shares

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں