419

ذرا نم ہو تو یہ مٹی بڑی زرخیز ہے ساقی

باجوڑ ایجنسی کی مٹی بڑی زرخیز ہے اس نے زندگی کے ہر شعبہ میں نمایاں نام پیدا کئے خواہ وہ تعلیم کا ہو یا صحت اور ادب کا سیاست ہو یا تاریخ کا لیکن اس میں ایک شعبہ ایسا ہے جس میں زیادہ تر نوجوان سرگر م عمل ہے اور وہ شعبہ ہے کھیل کا۔ باجوڑ کے مٹی نے تمام کھیلوں میں نمایا کھیلاڑی پیدا کئے لیکن آج ہم کرکٹ پر بحث کرینگے کیوں نکہ تمام کھیلوں کا احاطہ کرنا اسی ایک مضمون میں کرنا اگر ناممکن نہیں تو مشکل ضرور ہے۔ اس لئے ہم صرف کرکٹ کے میدان میں نمایا ں کارنامے سرانجام دینے والے کھیلاڑیوں کو زیر بحث لائینگے۔ چند سال پہلے یعنی 2009-10 میں جب میں ریڈیو کے لئے کھیلوں کے ایک رپورٹ پر کام کررہا تھا تو اس وقت باجوڑ میں دوسرے کھیلوں کی طرح کرکٹ کے لئے بھی کوئی خاص تنظیم نہیں تھا صرف ایک چند کرکٹ کے دلدادہ لوگوں نے ایک عارضی تنظیم بنایا تھا جس کا صدر فضل اکبر خلجی تھا جو موجود وقت میں ایجنسی سپورٹس آ فیسر کے حیثیت سے فرائض سر انجام دے رہا ہے جس سے میں نے اس وقت انٹرویو کیا اور انہوں نے سوالات کے جوابات کے بجائے مشکلات کا ایک انبار لگا یا کیونکہ اس کے پاس خود اس کے حال کے لئے کو ئی پلان اور وسائل نہیں تھے ۔ لیکن انہوں نے ہمت نہیں ہاری اور رفتہ رفتہ اس کے کوششیں رنگ لے آئی اور حکومت نے فاٹا سپورٹس ڈائریکٹریٹ قائم کیا جس کے زیر انتظام ہر ایجنسی میں سپورٹس اینڈ کلچر ونگ کا بنیاد رکھا اور اسی طرح کھیلوں کے سرگرمیاں ایک منظم ترتیب کے تحت منعقد ہونا شروع ہوئے۔ باجوڑ ایجنسی میں اس کے بعد ہر کھیل کے ایسوسی ایشن بن گئے سپورٹس ڈپارٹمنٹ کے زئر نگرانی اس کے باقاعدہ انتخابات ہونا شروع ہوئے۔ باجوڑ میں موجود وقت میں باجوڑ کرکت ایسوسی ایشن کا صدر محمد اسماعیل ہے ۔ پشاور ٹوڈے سے بات کرتے ہوئے انہوں اپنے ایسوسی ایشن کے کے کارناموں اور اعراض و مقاصد پر روشنی ڈالی۔ اس کے مطابق کرکٹ ایسوسی ایشن کے ساتھ موجودہ وقت میں 40چالیس کرکٹ کلب رجسٹرڈ ہے جب میں پی سی بی کے ساتھ باجوڑ کے 14 چودہ کرکٹ کلب رجسٹرڈ ہے ۔ باجوڑ ایجنسی میں 100کے لگ بھگ کرکٹ کلب ایسے ہیں جس میں ان 40چالیس کلبوں کا انتخاب کرنا بہت مشکل مرحل تھا اس لئے انہوں نے ان تمام کلبوں کے درمیان ایک کوالیفائی نگ میچوں کا ایک راونڈ منعقد کرایا اور اس میں جس کلبوں نے اچھے کارکردگی کا مظاہر کیا تو اس کو پھر باجوڑ کرکت ایسوسی ایشن کے ساتھ رجسٹرڈ کیا اور اس میں سے پھر14 چودہ کلبوں نے پی سی بی رجسٹریشن کے لئے کوالیفائی کیا تو کلبوں کے رجسٹریشن کا پورا عمل میرٹ پر ہوا اور اس میں کسی کلب کی حق تلفی نہیں ہوئی۔ لیکن اس کا یہ مطلب ہر گز نہیں کہ جو کلب رجسٹریشن سے رہ گئے ہیں اس کے ساتھ تعاون نہیں ہو گی بلکہ اس کے ساتھ بھر پور ممکن تعاون جاری رکھا ہے اور اس کو بھی مرحلہ وار باجوڑ کرکٹ ایسوسی ایشن کے ساتھ رجسٹرڈ کرایا جائے گا۔ایجنسی سپورٹس آ فس اور کرکٹ ایسوسی ایشن کے بننے سے بڑی حد تک مشکلات میں کمی آئی ہے۔ پہلے باجوڑ کے اچھے اچھے کھیلاڑیوں کو بھی باجوڑ سے باہر کھیلنے کے مواقع نہیں ملتے تھے لیکن اب باجوڑ کے کھیلاڑیوں کو کرکٹ ایسوسی ایشن کے طرف سے بھر پور مدد فراہم کی جارہی ہے اور کھیلاڑی اس سے مستفید ہو رہے ہیں ۔ اسماعیل نے کہا کہ انہوں نے کھیلاڑیوں کو عالمی معیار کے تربیت فراہم کرنے کے لئے کوچنگ اکیڈمیاں باجوڑ سپورٹس کمپلیکس اور علاقائی سطحوں پر بنائے ہیں اور سینئر اور تجربہ کار کھیلاڑی اس کے بیٹنگ،باؤلنگ اور فیلڈنگ تینوں شعبوں میں تربیت کررہی ہے اور یہی وجہ اور محنت کا نتیجہ ہے کہ اللہ کے فضل و کرم سے باجوڑ ایجنسی کے تین کھیلاڑی ، حیات عالم پاکستان انڈر19 اے ٹیم میں سری لنکا کیخلاف کھیل چکا ہے اور اچھی کارکردگی دکھائی ہے ،عزت اللہ انڈر 16میں اسٹریلیاء سے ابھی ابھی واپس ہوا ہے ۔ اور عرفان پاکستان سپر لیگ کھیل چکا ہے اس کے ساتھ ساتھ باجوڑ کے کھیلاڑی پاکستان کے مختلف کلبوں اور ڈپارٹمنٹ کے طرف سے کھیل رہا ہے اور اچھے مراعات حاصل کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ باجوڑ ایجنسی میں ٹیلنٹ کی کو ئی کمی نہیں ہے یہاں پر ہر کھیل کے اچھے اچھے کھیلاڑی موجود ہیں لیکن کرکٹ میں بہت زیادہ ٹیلنٹ اور باجوڑ کے نوجوان کرکٹ سے جنون کے حد تک لگاؤ رکھتا ہے ۔لیکن یہاں پر کھیلاڑیوں کو کچھ مشکلات بھی ہیں جو اس کے آگے بڑھنے میں میں رکاؤت بن رہی ہے جس میں سب سے بڑا مشکل مالی مسائل ہیں جو کھیلاڑیوں کو درپیش ہے کیونکہ اس کو اگر ایک طرف کھیلنے کے لئے معیاری کٹ یعنی سامان کے کمی کا سامنا ہے تو دوسرے اضلاع کے ٹورنمنٹوں میں مقابلوں کے لئے جا نے کے لئے اس کے پاس اکثر مطلوبہ خرچہ بھی دستیاب نہیں ہوتا جس کے لئے کرکٹ ایسو سی ایشن مقامی انتظامیہ اور مخیر احضرات سے کچھ نہ کچھ پیسے لیکر اس کلبوں کو دیتے ہے لیکن پھر بھی وہ ہر وقت نہیں ملتے اس لئے حکومت کو چاہئے کہ وہ کرکٹ کے فروع کے لئے مستقل بنیادوں پر ایک فنڈ قائم کریں تاکہ اس سے کھیلاڑیوں کے بر وقت مدد ہو سکیں ۔ اسماعیل نے کہا کہ وہ اس پر کام کر رہے ہے کہ ایسا ایک فنڈ ہو وہ جو کھیلاڑیوں کے فلاح و بہبود پر خرچ ہوں۔ اس کے ساتھ اسماعیل نے یہ بھی کہا کہ اس کو باجوڑ کے سپورٹس کمپلیکس میں کرکٹ گراونڈ کے لئے گراس، فلڈ لائٹس۔ تماشائیوں کے لئے گرمیوں میں دھوپ سے بچنے کے لئے سائبان، کھیلاڑیوں اور دوسرے آفشلز کے ٹھہرنے کے لئے ایک ہاسٹل درکار ہے جس کے لئے پولیٹیکل ایجنٹ باجوڑ نے وعدہ کیا ہے جس پر ہم اس کے انتہائی مشکور ہے۔ لیکن ہم چاہتے ہے کہ اس پر ترجیحی بنیادوں پر کام ہو نا چاہیے تاکہ یہ مسائل مستقل بنیادوں پر حل ہو ں۔ اسما عیل نے یہ بھی کہا کہ اس نے محدود وسائل کے باجود مقامی انتظامیہ ، کمانڈنٹ باجوڑ سکاؤٹ اور باجوڑ سپورٹس ڈپارٹمنٹ کے تعاون سے باجوڑ سپورٹس کمپلیکس میں پہلی بار کینڈی لینڈ کرکٹ ٹورنمنٹ کا انعقاد کرایاتھا جو تاریخی ایونٹ تھا۔جس میں ہزاروں تماشائیوں نے شرکت کیا تھا اس کے ساتھ فاٹا سپر لیگ کا فائنل کرایا تھا اور اسی سال فاٹا سپر لیگ کے سیمی فائنل کے میچ کرائے تھے اور ابھی ابھی باجوڑ سپر لیگ کا ایک بڑا یونٹ چل رہا ہے تو یہ سب باجوڑ کرکٹ ایسو سی ایشن کی کامیابیاں اور کارنامے ہیں جس پر وہ فخر محسوس کررہا ہے۔ باجوڑ کرکٹ ایسوسی یشن کھیلاڑیوں کو تمام سہولیات پہنچانے کے لئے انتھک محنت و کوشش کر رہاہے اور اس کو جاری رکھے گا۔ انہوں نے کہا کہ میں باجوڑ کے تمام کرکٹ کے کھیلاڑیوں پر زور دتیا ہوں کہ اگر اس کو کسی بھی قسم کا مسئلہ ہو خواہ وہ کلبوں کے رجسٹریشن کا وہ یا کٹ یعنی سامان کے کمی وعیرہ کا تو وہ کسی ہچکچاہٹ کے بغیر باجوڑ سپورٹس کمپلیکس آکر اس کے ساتھ رابطہ کریں وہ اس کے مسئلہ کے حل کے لئے ہر ممکن کوشش کرینگے اور اس کے رہنمائی بھی کرینگے۔

نہیں ہے نا امید اقبال اپنی کشت ویراں سے
ذرہ نم ہو تو یہ مٹی بڑی زرخیز ہے ساقی

Share this story
  • 4
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
    4
    Shares

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں