630

حکومت کا پشتون تحفظ تحریک سے مذاکرات کے لئے جرگہ تشکیل: کورکمانڈر پشاور

پشاور: خیبر پختونخواحکومت نے پختونوں کو درپیش سیکورٹی اور انتظامی مسائل کے حل کے لیئے سر گرم پشتون تحفظ تحریک کے رہنما ؤں سے مزاکرات شروع کر نے کا فیصلہ کیا ہے اور ایک بڑا نما ئندہ جر گہ تشکیل دیا گیا ہے جس میں خیبر پختو نخوا کے گورنر ،وزیر اعلیٰ کے علاوفا ق کے زیر انتظا م قبا ئلی علا قوں کے علا وہ ملا کنڈ ڈویژ ن سے تعلق رکھنے والے سیا سی اور قبا ئلی رہنما ء شا مل ہونگے ۔
پشاور کے کو رکما نڈر جنرل نذ یر احمد بٹ نے منگل کے روز صحا فیو ں سے با ت چیت میں کہا کہ مزکورہ تنظیم کے سر برا ہ کے ساتھ با ت چیت شروع کرنے کا فیصلہ ایپکس کمیٹی کے اجلا س میں ہو ا، کمیٹی خیبر پختو نخوا کے گورنر ،وزیر اعلیٰ اور کو ر کما نڈر پر مشتمل ہوگا اور اس کمیٹی کا مقصد خیبر پختونخوا اور ملحقہ قبا ئلی علا قوں میں امن و امان کی صورت حا ل کا جا ئزہ لینے کے علا وہ عوا م کودر پیش مسا ئل کو حل کر نا ہے۔
کو رکما نڈر نے کہا کہ پختو ن تحفظ تحریک کے زیا دہ تر مطا لبا ت در ست ہے اور اس کے حل کے لئے حکومت مذا کرا ت کے لئے تیا ر ہے مگر اُنہوں نے کہا کہ اس تحریک کی جلسوں اورجلو سوں میں ایسے نعریں لگائے جاتے ہیں جس سے ملک دشمن قو تیں فا ئدہ اُٹھا نے کی کو شش کر رہی ہیںیہی قوتیں کسی بھی طو ر پر اس خطہ با لخصوص قبا ئلی علا قوں میں قیا م امن اور استحقام سے خو ش نہیں ہے۔
پشتون تحفظ تحریک میں میڈیا کے کردار کے حوالے سے کور کمانڈ جنرل نذیر احمد بٹ نے کہاکہ چند بیرونی میڈیا ادارے اور بالخصوص وائس آف امریکہ اور ان سے منسلک پشتو ریڈیوز تحریک کے غیرضروری کوریج دیکر دنیا میں پاکستان کے ساکھ کو نقصان پہنچانے کی کوشش کررہے ہے، جبکہ سما جی را بطہ کے ویپ سائٹسزپر مختلف مما لک با لخصوص افغا نستا ن سے تعلق رکھنے والے افراد اس تحریک کی سر گر میوں کو ناصرف بڑھا چڑھا کر پیش کر رہے ہیں بلکہ وہ فو ج اور دوسری ملکی اداروں پر غلط الزا ما ت لگا رہے ہیں ۔
کو ر کمانڈر نے واضح الفا ظ میں کہا کہ حکو متی پو لیسوں کے مطا بق فو ج نے نہ صرف قبا ئلی علا قوں میں امن و امان بحا ل کر دیا ہے بلکہ اب افغا نستا ن کے ساتھ طویل سر حد پر خا ر دار باڑ بھی لگا ئی جا رہی ہیں جس سے خطے میں قیام امن میں کافی مدد مل جائے گا ۔اُنہوں نے کہا کہ پاک افغان سرحد پر قیام امن کے لئے فو ج اور مقا می لو گو ں نے بہت بڑی ما لی اور جا نی قر با نیاں دے رکھی ہیں اور اس کو قائم رکھنا وقت کی اہم ضرورت ہے ۔
پختون تحفظ تحریک کے جانب سے جبری گمشدہ افراد کے مطالبے پر کور کمانڈر نے کہا کہ یہ سنجیدہ مسئلہ ہے جس کا حل انتہا ئی ضروری ہے لیکن ٓاُن کے بقول ان میں کچھ وہ افراد بھی شامل ہے جو عسکریت پسند تنظیموں میں شامل تھے او ر اُن کے ہا تھ بے گنا ہ پاکستانیوں کے خو ن سے رنگے ہو ئے ہیں او ر ان ہی لوگوں کے ریا ستی عمل دا ری کو بھی چیلنج کیا تھا۔کو رکمانڈر نے واضح کیا کہ جو لو گ دہشت گر دی اور تشدد کے واقعات میں ملو ث ہیں اُن کو عدا لتی کا روائیوں کا سا منا کر نا ہو گا اور جو بھی فیصلیں آئینگے تو اُس پر عمل درآمد کیا جائے گا۔
دشت گردوں کے رضاکارانہ طو ر پرحکومتی اداروں کو اپنے آپ کو حوالے کرانے کے بارے میں کور کمانڈر نے کہا کہ اس حوالے مختلف تجا ویز سا منے آئی ہے تا ہم حکومت کی پا لیسی کے مطا بق فو ج ان دہشت گردوں کے ساتھ قانون کے مطابق سلو ک روا رکھا جا ئے گا ۔
کو ر کمانڈر نے کہا کہ پاک افغا ن سر حد پر 470کلو میٹر پر خا ر دار باڑ لگا دی گئی ہے جبکہ اگلے سال کے آخر تک یہ منصوبہ مکمل کر لیا جا ئے گا اور اس کے ساتھ 443چو کیوں کی تعمیر پر بھی تیزی سے کام جاری ہے جن میں سے 147 پر کام مکمل ہو چکی ہے۔ اُنہوں نے کہا کہ یہ وہ تمام اقدمات ہے جس سے دونوں ہمسا یہ مما لک کے درمیا ن عسکر یت پسندوں کی آمد ورفت مکمل طو ر پر ختم ہو جا ئے گی اس طرح سرحدی گزر گا ہوں پر با رڈر مینیجمنٹ سسٹم کے لگا نے سے دونوں مما لک کے در میا ن تجا رتی سر گر میوں میں بھی مزید اضا فہ ہو رہا ہے ۔
جنرل نذیر احمد بٹ نے وفا ق کے زیر انتظام قبا ئلی علا قوں اور ملا کنڈ ڈویژن میں امان و امن کی صورت حا ل تسلی بخش قرار دیا اور کہا کہ بتدر یج انتظا می ذمہ داریاں سول انتظامیہ کے سپرد کی جا رہی ہیں جبکہ قبا ئلی علا قوں میں انتظا می ذمہ دا ریاں سو ل حکام کے حو الہ کر نے میں کچھ دشواریا ں پیش آرہی ہے ،لیکن قبا ئلی علا قوں اورملا کنڈ ڈویژن میں بیشتر سیکو رٹی فو ر سز کی چوکیا ں ختم کر دی گئی ہے اور وہا ں پر اب پولیس ، لیویز اورحاصدار فورسز فرا ئض سر انجا م دے رہے ہیں ۔
قبائلی علاقوں میں دشت گردوں کے خلاف جاری کاروائیوں کے بارے میں کورکمانڈر نے کہا کہ امن و امن اور ریا ستی عملدا ری قا ئم رکھنے کے لیئے حا لیہ بر سوں میں 14فو جی کا روائیاں کی جا چکی ہیں، جس کے مثبت نتا ئج برآمد ہو نا شروع ہو گئے ہیں ۔ ان کا روائیوں کے نتیجہ میں عسکریت پسندوں کے ٹھکا نے ختم کردئیے گئے اور وہاں پر پنا ہ لینے والے عسکریت پسند سر حد پا ر افعانستان فرا ر ہو چکے ہے ۔ ان کے بقول تمام کا روائیوں کے نتیجے میں نہ صرف قبا ئلی علا قوں بلکہ صوبے کے مختلف آضلاع میں دشت گرد کاروئیوں میں کا فی کمی آچکی ہے۔
پشتون تحفظ مومنٹ کے بائیس اپریل کو لاہور میں موچی گیٹ میں بڑے جلسے کے بعد تنظیم کے جانب سے ملک بھر میں اُن کے کارکنوں کے گرفتاری کے الزمات لگائے ہیں جبکہ تنظیم کے جانب سے 29اپریل کو سوات اور 12مئی کراچی میں جلسوں کے اعلان کرچکے ہے

Share this story
  • 70
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
    70
    Shares

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں