997

آئیں تاریخی کوہ سلیمان چلیں

ہم جب چھوٹے تھے توبڑوں سے اکثرتخت سلیمان ؑ کے قصے سنتے تھے اور دل میں خواہش جاگ اٹھتی کہ ہم بھی اس کی سیر کیلئے جائیں کیونکہ ایک توسیرہوگی اور دوسرے اس تاریخی جگہ کو دیکھنے کا موقع ملے گا ۔اسی طرح صحافتی دورمیں یہ خواہش کئی سالوں سے تھی کہ اس تاریخی جگہ کے بارے میں کچھ لکھ سکوں اور لوگوں کو اس جگہ کے اہمیت اور تاریخی پس منظر سے اگاہ کروں۔ویسے توخیبرپختونخوا اور فاٹامیں پہاڑوں کابہت بڑاسلسلہ واقع ہے جوکہ خوبصورتی اور قدرتی وسائل سے مالامال ہے لیکن کوہ سلیمان ؑ نہ صرف جنگلات کے لحاظ سے اپنی مثال آپ ہے بلکہ اس کی ایک تاریخی حیثیت بھی ہے۔ کوہ سلیمان ؑ ڈیرہ اسماعیل خان سے مغرب کی طرف تقریباًڈیڑھ سوکلومیٹرفاصلے پر واقع ہے جوکہ ایف آرڈیرہ اسماعیل خان درازندہ سے چند کلومیٹر کی دوری پر واقع ہے اور بلوچستان کے ضلع ژوب کے مشرق کی جانب تقریباً80کلومیٹرکے فاصلے پر واقع ہے۔ تاریخی لحاط سے تخت سلیمان ؑ (کوہ سلیمان)بہت مشہور ہے

کہاجاتاہے کہ یہا ں حضرت سلیمان ؑ نے کسی زمانے میں اپنا تخت نصب فرمایاتھا جس کی و جہ سے یہ چوٹی بہت اہمیت رکھتی ہے ۔
یہ چوٹی چار ہزار میٹربلند ہے۔اور اس کی سیرکیلئے بہت سے سیاح کافی دشوار گزارراستہ طے کرکے آتے ہیں اور قدرت کے نظاروں سے لطف اندوز ہوتے ہیں ۔لوگ وہاں جاکرجانوروں کی قربانی کرتے ہیں اور نوافل ادا کرتے ہیں۔ اس کے چاروں اطراف پہاڑوں کا سلسلہ واقع ہے جو لوئی کیس غر۔منڑہ۔تورغر،شین غر ،کشمیر کڑ کے ناموں سے مشہورہیں اورشمال میں جنوبی وزیرستان واقع ہے یہاں شیرانی قبیلہ آباد ہے۔ موسم کے لحاظ سے یہاں بہت زیادہ سردی ہوتی ہے ۔نومبرسے مارچ تک برف باری ہوتی ہے اور درجہ حرا ت منفی 12تک گرجاتاہے۔ ایک زمانہ میں یہاں کاجنگل نہایت ہی گھناتھا1892میں Elliotنے پہلے پہل اس علاقہ کادورہ کیاتھا مگرآج وہی جنگل آہستہ آہستہ کم ہوتا جارہاہے کیونکہ ماضی اور آج بھی اس جنگل کی بے دریغ کٹائی کی جارہی ہے اس میں کئی قیمتی پودے آج بھی موجود ہیں جو مختلف قسم کی ادویات تیا ر کرنے کیلئے استعمال کئے جاتے ہیں اور مختلف قسم کے جانوروں کی نشونما کیلئے کام آتے ہیں


مقامی صحافی سیف الدین شیرانی جوکہ کوہ سلیمان ؑ خودگئے ہیں کہتے ہیں کہ ان کا تعلق درازندہ ہے اور وہ اپنے35دوستوں کے ساتھ یہاں کی سیرکرچکے ہیں انکاکہناہے کہ یہ ان چاردن کا ٹورتھا پیدل راستہ انتہائی دشوارگزار تھا اور اشیائے خوردونوش لے جانے کیلئے اونٹ سہارا لیا گیا ۔ان کاکہناہے یہاں چند فٹ پر مشتمل ایک قطعہ زمین ہے جہاں نفل پڑناہر شخص کی خواہش ہوتی ہے کیونکہ یہ روایت زبان زد عام وخاص ہے کہ عبادت کے بعد یہاں مانگی گئی دعا ہمیشہ قبول ہوتی ہے۔وہ کوہ سلیمان براستہ راغہ سروہ گئے اور واپسی خیسرائی کے راستے سے ہوئی انکاکہناتھاکہ وہاں پانی کابہت بڑامسئلہ ہے اور بہت سردہواچلتی ہے آبادی لے لحاط سے وہاں جونپڑی کی شکل کے کچے گھرہیں۔
اطلس خان شیرانی جو کوہ سلیمان ؑ کی 15 بار سے ذیادہ دفعہ ذیارت کر چکے ہیں کہتے ہیں کہ کو ہ سلیمان ؑ کو عوامی زبان میںِ کیسہ غر کہاجاتاہے ۔یہ پہاڑوں کا سلسلہ ؒ شمال اور جنوب میں400کلومیٹرسے بھی زیادہ لمبا ہے۔ اس کی سب سے بلند چوٹی تخت سلیمان ؑ کہلاتی ہے جو سطح سمندر سے11300فٹ کی انچائی پر ہے ۔۔ کو ہ سلیمان ؑ کا سب سے اونچا، خوبصورت اور تاریخی اہمیت کا حامل حصہ علاقہ شیرانی میں واقع ہے۔ کوہ سلیمان ؑ یا کیسہ غر کاذیادہ تر علاقہ شیرانی ایف آْر ڈی آئی خان اور کچھ علاقہ ضلع شیران بلوچستان پر مشتمل ہے۔ یہاں کی ابادی تقریباایک لاکھ نفوس پرمشتمل ہے۔ تعلیم کی شرح لگ بھگ دو فیصدتک ہے، 25فیصد لوگ گلہ بانی، دس فیصدزرعت سے منسلک ہیں،دس فیصد لوگ بیرون ملک خلیجی ممالک میں ہیں اور ایک فیصد سرکاری نوکری سے منسلک ہیں۔یہاں کے لوگ زیادہ تر گندم اور مکئی کاشت کرتے ہیں، قابل کاشت زمین کا تین فیصد نہری اور باقی بارانی ہے۔یہاں چلغوزے کی آمدن وسعت پیداوار 50کروڑ زیادہ روپے سالانہ ہے۔
علاقہ میں جنگلی ہرن ،مارخور،ریچھ ،چیتا کے علاوہ کئی قسم کے نایاب پرندے پائے جاتے ہیں۔ دریائے گومل ، شیخ حیدر زام ،درازندا اور زام دوماندہ اس علاقہ میں سے گزر کرآتے ہیں۔

جب حضرت سلیمان علیہ السلام کے یہاں تخت کے حوالے سے مفتی محمد ذاکر خان سے پوچھاتو انہوں نے کہا کہ اس کا تعلق تو تاریخ کے ساتھ ہے مگر تفسیر میں اس کا کوئی ذکر نہیں اور نہ ہی اس کے علم میں ایسی کوئی بات گزری ہے۔
کیسہ غرکی تاریخی وجہ شہرت کیس با با اورکاسی قبیلے کامسکن ہے۔ ۔ کیس بابا پشتون قوم کے جدامجدبھی سمجھے جاتے ہیں، آپ کی قبر تخت سلیمان پر واقع ہے۔اور لوگ ہزاروں سال سے اس کی زیارت کرنے کے لیے دور دراز علاقوں سے جوک درجوک آتے ہیںۂ
یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ علاقہ شیرانی دوسرے پشتون قبیلوں کی طرح فرنگی سامراجی سے وطن کی آزاد کے لیے بیش بہا قربانیاں دینے والا علاقہ ہے جس کے شہدا ء میں قتل خان ، حکیم خان ،جمال خان، مرتضی ٓخان، سادہ گل اور بازوں قابل زکر ہیں۔ اس جدوجہد کی پاداش میں فرنگی حکومت نے شیرانی قبیلہ کو تقسیم اور ہر قسم کی مراعات سے محروم رکھا-
ماضی سے لیکر آج تک کسی حکومت نے بھی یہاں کے باشندون کی فلا ح کے لیے کچھ نہیں کیا ۔ یہاں سماجی جبر اور معاشرتی جبر معمول کی بات ہے اگر کوئی حکومت یہاں کے لوگوں کی حالت بدلنا چاہے تو دوسرے عوامل کے ساتھ ساتھ یہاں کے ماحول کے مطابق سیر وسیاحت کو ترقی دے کر لوگوں کی حالت بدلنا پڑے گی –

لوگوں کا پر زور اسرار ہے کہ علاقہ کو ترقی دی جا ئے اور ایسے اقدامات کئے جائیں کہ جنگلات کی بے دریغ کٹھائی کو روکا جاسکے ۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر حکومت کوشش کرے توچلغوزہ کی پیداوار میں بھی اضافہ کیا جاسکتا ہے اور علاقہ کے لوگوں کو ایک اچھا ذریع معاش میسراسکتا ہے ۔علاقہ میں جنگلات کو حالیہ لگنے والی آگ نے بھی کا فی حد تک متاثر کیا ہے حکومت ایک جامع حکمت عملی تیار کرے تاکہ یہاں رقبہ جنگلات کی بڑھوتری کیلئے شجر کاری مہم کا آغاز کیاجاسکے۔
سیر و سیا حت ، تعلیمی،معلوماتی،کلچر،خوشی اور کاروباری مقاصد کے لیے اچھا ذریعہ ثابت ہوسکتا ہے ۔ضلع ژوب اور ڈیرہ اسما عیل خان کے گرم موسم کے درمیان میں کوہ سلیمان ؑ بڑا خوشگوار موسم رکھتا ہے ،۔ اس علاقہ میں تفرییحی مقامات کی خاصی کمی ہے اگر ارباب اقتدارتوجہ دیں اور کوشش کی جائے تو اس کو ایک اچھے تفریحی مقام کا درجہ حاصل ہوسکتاہے۔

Share this story
  • 16
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
    16
    Shares

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں