652

پشتون تحفظ مومنٹ کے خلاف پاکستان زندہ آباد مومنٹ کے مظاہرے

اگر ایک طرف پشتون تحفظ مومنٹ کے جانب بلوچستان ، خیبر پختونخوا اور قبائلی علاقوں میں اپنے حقوق کیلئے احتجاجی جلسوں کا سلسلہ جاری ہے تو دوسر ی جانب ان کے مخالفت میں بات سوشل میڈیا سے نکل کر بات احتجاج مظاہرو ں تک پہنچ گیا ہے۔ آج لنڈگی کوتل میں جماعت اہلنست وجماعت اورپاکستان تحریک انصاف کے مقامی رہنماء مولانا احسان اللہ جنیدی کے قیاد ت میں ہسپتال چوک سے باچا خان چوک تک احتجاجی جلوس نکلا ۔ مقررین نے پشتوتحفظ مومنٹ کے سرگرمیوں کو پاکستان ،سیکورٹی ادروں اور انٹیلی جنس ایجنسیوں کے خلاف سازش قرار دیا ۔ کل یعنی اتور کو پشتوتحفظ مومنٹ نے اپنے مطالبات کے حق اس مقام پر جلسہ منعقد کیاتھا۔
کوہاٹ ، کرم ایجنسی صدہ اور مہمند ایجنسی میں بھی پاکستان زندہ بادمومنٹ کے نام سے احتجاجی مظاہرے ہوئی۔ ایک روزقبل کرم ایجنسی کے صدر مقام پر علاقے عمائدین کا جرگہ منعقد ہو ا جس کی قیادت پاکستان پیپلزپارٹی کے مقامی رہنماء جمیل حسین کررہا تھا ،جس میں پولٹیکل انتظامیہ اور سیکورٹی اداروں سے منظور پشتین کے ایجنسی میں داخلے پر پابندی عائد کی جانے کا مطالبہ کیا تھااور موقف اپنایاگیا تھا کہ علاقے میں امن قائم ہو چکا ہے اور اس قسم کے سرگرمیوں سے دوبارہ علاقے میں حالات خرا ب ہونے کا اندیشہ ہے۔
سوشل میڈ یا پر پچھلے تین دنوں سے پاکستان زندہ باد مومنٹ کے نام سے ایک پمفلٹ گردش میں ہے جس میں تین اپریل کو پجگی روڑ نزدیک باچاخان مرکز کے قریب جلسہ عام منعقد کرنے کے بارے میں معلومات درج ہے لیکن کسی نام یا رابطے کے نمبراس میں درج نہیں البتہ ملکی امن قائم رکھنے میں اداروں کے خدمات اور خیبر پختونخووقبائلی عوام کو محب وطن کا نام استعمال کرکے لوگوں سے شرکت کی اپیل کیا گیا ہے۔

اس پوری تناظر میں جب پشتون تحفظ مومنٹ کے سرگرم رکن علی وزیر ایڈوکیٹ سے رابطہ کیا اور پوچھا کہ پہلے سوشل میڈیا اور اب لوگ نکل کر احتجاج کے شکل میں اپنے محالفت کا اظہار کررہا ہے ، آخر کیوں۔ اُنہوں کہا کہ ہم پاکستانی محب وطن ہے اور کسی کو اس پر شک نہیں کرنا چاہئے لیکن بات صرف یہ ہے کہ ہم اپنے لوگوں پر ہونے والے مظالم کے روک تھام کی بات کرتے ہے۔اُنھوں نے کہا کہ جو لوگ پشتون تحفظ مومنٹ کے خلاف پروپیگنڈہ کررہا ہے تو وہ لوگ سامنے نہیں آتے تو اس سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ اس کے پیچھے یہی ادارے جس کی وجہ سے حالت اس مقام تک پہنچ چکے ہیں۔ ایک سوال کے جواب میں علی وزیر نے کہا کہ لوگوں پر ہونے والے مظالم کی تمام شواہد موجود جبکہ دوسری طرف دلیل نہ ہونے کی وجہ سے بے بنیاد الزمات لگا یا جارہا ہے جس سے پشتون تحفظ مومنٹ کو مزید تقویت ملے گی کیونکہ تمام لوگ بات کو سمجھ چکے ہے ۔
پشتون تحفظ مومنٹ(پی ٹی ایم ) کے دوسری رہنماء محسن داوڑ نے کہا کہ اگر ہمارا کوئی مطالبہ غیرآئینی اورغیرقانونی ہو تو بتایا جائے تاکہ اُس کو اپنے مطالبات سے نکال دیں لیکن اگر نہیں تو حکومتی اداروں کو چاہئے کہ آئے مل بیٹھ کر اس کا حل ڈھونڈ یں۔ اُنھوں نے کہا کہ پی ٹی ایم کے خلاف ہونے والے پروپیگنڈے کی کوئی حیثیت نہیں اور نہ اس پر کوئی توجہ دے رہا ہے کیونکہ لوگ اپنے بنیادی حقوق کے متلاشی جس کو حاصل کے لئے خود گھروں سے نکل کر سیاسی اور قومی نقطہ نظر سے ہٹ کر جلسوں میں شرکت کرتے ہیں۔
پی ٹی ایم کے طرف سے پشاور میں آٹھ اپریل کو پشاور رنگ روڑ پر ایک بڑے جلسے کا اعلان کرچکے ہیں جس میں خیبر پختونخوا اور قبائلی علاقوں سے لوگوں کے شرکت کرئینگے۔
زرائع سے معلوم ہوا کہ گورنر ہاؤس پشاور میں قبائلی عمائدین کے ایک بڑی جرگے کے لئے انتظامات کیں جارہا ہے جس میں پشتون تحفظ مومنٹ کے بڑھتی ہوئی مقبولیت اور علاقوں میں اس کے مقابلے میں مختلف مقامات پر جلسے منعقد کرنے لائحہ عمل طے کیا جائے گا۔

Share this story
  • 47
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
    47
    Shares

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں