752

صرف عام لوگ نہیں سرکاری اہلکار بھی لاپتہ ہے

آنکھوں پر عینک اور سہارے کے لئے ہاتھ میں لاٹھی سفید دھاڑی والا  شخص65 سالہ گل محمد آفریدی جو کہ خیبر ایجنسی کے علاقے جمرود کا رہائشی ہے اور اپنے جوان بیٹے واجد خان جوسات سال پہلے ڈیوٹی کے دوارن دوسری ساتھیوں سمیت مسلح افراد نے اغوا کرلیا تھااب تک اُس کے زندہ یا مرنے کے بارے میں کچھ معلوم نہ ہوسکا۔ گل محمدآج باڑ ہ میں پشتون تحفظ مومنٹ کے جانب سے منعقد کیا گیا تقریب میں شرکت کے لئے یہ اُمید لیکر آیا ہے کہ اُس کے گمشدہ بیٹے کے سراغ لاگانے میں اُسے کچھ مد دمل سکے تاکہ پوری خاندان کے غم کو کچھ حد تک کم کرسکے ۔اس نے ہاتھ میں کچھ کاعذات لیئے ہیں اور اُس بندے کے ساتھ کھڑا ہے جو گمشدہ افراد کے ایک لسٹ تیار کررہا ہے ۔ پوچھنے پر اُنھوں نے کہا کہ اُن کا بیٹا ملیشاء فورسز میں نوکرتھا اوراُس کے سروس کے مدت تقریباً بارہ سال تھی، مومندایجنسی میں پاک افغان سرحد پر واقع سکیورٹی چوکی میں ڈیوٹی سرانجام دے رہاتھا کہ سال 2010ء میں رات مسلح افراد نے حملہ کر دیا اور میرے بیٹے سمیت 32 اہلکاروں کو یرعمال بنا کر اپنے ساتھ افغانستان سوران درہ منتقل کر دی ۔ باتوں کے دوران گل محمد کے سانس خراب ہوئے کافی مشکل سے قریب دیوار کو ٹیک لگا کر بیٹھ گیا۔

پشتون تحفظ مومنٹ کے پانچ مطالبات میں ایک لاپتہ افراد کے بازیابی ہے ۔ اسلام آباد دھرنے سے لیکر بلوچستان کے مختلف علاقوں میں جلسے اور باڑہ میں لوگوں کو جمع کرکے مقررین نے اپنا نقطہ نظر پیش کیا لیکن کسی نے اُن سرکاری اہلکاروں کے رہائی کے بارے میں کچھ نہیں کہا جو پچھلے کئی سالو ں سے جاری دہشت گرد ی میں جنگ کے نظر ہوچکے ہیں۔
پشتون تحفظ مومنٹ کے سر گرم رکن علی محسود نے کہا کہ ہم جنگ کے حوالے سے تمام غلط پالیسوں کے خلاف آواز اُٹھا رہے جس کے وجہ ملک کے پوری نظام کو نقصان پہنچا ہے ۔ اُنھوں نے لاپتہ افراد کے بارے میں بتایا کہ دہشت گردوں کے مظالم اور آپریشن کے نتائج سے ہونے والے جانی اور مالی نقصان ایک طرف جبکہ آج تک پشتون تحفظ مومنٹ کے ممبران کے ساتھ مختلف علاقوں سے32 ہزارا سے زیادہ افراد نے اپنے رشتہ داروں کے نام درج کئے ہیں جو کئی سالوں سے غائب ہیں ۔ رہائی پانے والے افراد کے بارے میں بتایا کہ فروری سے اب تک 250سے تین سو افراد گھر پہنچ گئے لیکن یہ تعداد بہت ہی کم اُس کے مقابلے میں جو کہ مختلف اداروں کے پاس ہیں۔اُنھوں نے کہاکہ آج یہاں پر بہت سے ایسے لوگ بھی آئے تھے جن کے رشتہ دار سیکورٹی فورسز میں خدمات سرانجام د ے رہے تھے اوریا حکومت نواز امن لشکروں کے ساتھ تھے اور کئی سالوں سے عائب ہے، اُنھوں تمام معلومات ذمہ داران کے ساتھ جمع کئے ہیں اور عام لوگوں کے طرح ان کے رہائی کے لئے بھی کام ہوگا۔
نصراللہ لنڈی کا تعلق لنڈی کوتل بازار ذخہ خیل سے ہے لیکن علاقے میں خراب امن وامان کے صورتحال کی وجہ سے کوہاٹ روڈ پر واقعہ سیکم چوک خاندان سمیت منتقل ہوگئے وہ بھی پشتوں تحفظ مومنٹ سے بھائی کے زندگی کا امید رکھتا ہے اورباڑہ میں تقریب میں شریک ہوئے ہے ۔ نصراللہ کا تیس سالہ بڑا بھائی ٹھیکہ خان بازید خیل کے علاقے میں قائم حکومتی حمایتی یافتہ امن لشکر جو لشکر اسلام اور طالبان کے خلاف بنایا گیا تھا کے رکن تھا ،جس کو 2008ء میں سیکم چوک سے نامعلوم افراد نے اُٹھایا تھا لیکن اب تک اُس کا کوئی پتہ معلوم نہیں ہوسکا۔اُنھوں نے کہا کہ بھائی کے تین بیٹیاں ،ایک بیٹااور بیوی اپنے کفیل کی گھر واپس لوٹ آنے کے انتظار میں ہیں ۔ اُنھوں نے کہا کہ ساری خاندان اس حد تک پہنچ گئی کہ بس اتنا بتایا جائے کہ وہ زندہ ہے اور اگر نہیں تو بس اُس کی قبر کی نشاندہی کیا جائے تاکہ یہ بے چینی ایک طرف ہوجائے۔
صحبت خان آفریدی جس کا تعلق قوم ملک دین خیل اورعلاقائی سیاسی اور سماجی تنظیم خیبر یونین کے رہنماء بھی ہے بتایا کہ باڑہ میں دس سال کرفیواور آپریشن ہوئے جبکہ دوسال پہلے لوگوں کے اپنے علاقوں میں واپسی ہوگئی لیکن یہاں پر تمام ضروریات زندگی کے تمام سہولیات تباہ ہوچکے ہیں اور یہاں پندرہ ہزار کاروباری مراکز میں بمشکل ڈھائی سو تک کھول چکے ہیں جبکہ ان کو بھی حکومت مختلف طریقوں سے تنگ کرکے لوگوں میں مزید مایوسی پیدا کیا جارہا ہے ۔ اُنھوں نے جبری گمشدگیوں کے سوال پر بتایا کہ ہمارے سینکڑوں افراد غائب کیاگیا ہے جس کے بارے میں ہمارا مطالبہ ہے کہ ان تمام افراد کو عدالتوں میں پیش کیا جائے اور ملزم کو اپنے دفاع کا حق دیا جائے تاکہ گھر والوں اور دوسرے لوگو ں کو بھی یہ معلوم ہوسکے اس نے جرم کیا تھا۔
پشتون تحفظ مومنٹ کے اراکین نے بتایا کہ باڑہ سے ساڑھے تین سو سے لیکر چار سوافراد عائب ہیں اور گھر والوں کو اس کے بارے میں کچھ معلوم نہیں۔
محمد رحمان جو کہ قوم شلوبر کے رہائشی ہے اس جلسے میں شریک ہے، اگر اُن کا بیٹا امجد گھر پر ہوتا تو آج وہ یونیورسٹی میں پڑرہا ہوتا کیونکہ جب وہ آٹھویں جماعت میں وادی تیراہ پیر میلہ میں پڑھ رہا تھا تو پشاور آکریہاں پر شناختی کارڈ بنانے آیا تھا جس کونا معلوم افراد نے کئی سال پہلے عائب کردیا ۔ اُنہوں نے کہا کہ جب گھر میں امجدکا ذکر ہوتا ہے تو اُس کاوالدہ بہوش ہوجاتی ہے اوروہ خود نظرکی کمی کے علاوہ کئی دوسرے بیماریوں کے شکار ہوچکا ہے۔اُنھوں نے کہا کہ لوگوں سے سناکہ کچھ لوگ نکل آئے ہیں جو کہ پشتونوں کے حقوق کے لئے آواز اُٹھارہے ہیں تو ہم پوری خاندان والے ان کی کامیابی کیلئے دن رات نوافل اوردعائیں دیتے ہیں۔ علی محسود نے کہا کہ پشتون تحفظ مومنٹ کسی بھی حکومتی ادارے کے خلاف نہیں بلکہ ہم چاہتے ہے کہ لوگوں کو برابری کے بنیاد پر حقوق مل جائے تاکہ لوگوں میں احساسی محرومی ختم ہوجائے۔اُنھوں نے کہا کہ قبائلی علاقوں میں قائم تمام سیکورٹی چیک پوسٹ حاصہ دار اور لیویز فورس کے حوالے کیا جائے تاکہ لوگوں کے تکلیف میں کمی واقع ہو۔ایک سوال کے جواب میں اُنھوں نے بتایا کہ لوگوں نے اپنے نقصان کے ذمہ دار کو پہنچان لیا ہے جس کے بنیاد پر ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ ہم نے حقوق کا ادھا جنگ جیت لیا ہے۔گل محمد نے اپنے بیٹے کے بارے میں بتایا کہ 2013ء میں یہ خبر حکومت کے طرف آئی کہ 32میں سے 43 افراد کو مار دیا گیاہیں لیکن ان کی نہ لاشیں ملے ہیں اور نہ باقی نوں9 افراد کا اب تک کچھ معلومات سامنے آئے ہیں ۔ اُنھوں نے کہا کہ واجد کا ایک ہی بٹیا ہے جس کو گھر والے دیکھ کر بہت ناقابل برادشت حالت ہو جاتے ہیں۔ اُس کے ماں ہر وقت اُن کو یاد کرتی ہے ، آج بھی سارے خاندان والوں کو یہ یقین ہے کہ ایک دن وہ ضرور گھر آئے گا۔ اُنھوں نے کہا کہ منظور پشتین نے اس اُمید کو مزید پختہ کردیا ہے ۔
حکومت کے طر ف سے واجد کو شہید اہلکار قرار دیاہے اور اُس کے پنشن بھی جاری کردیا لیکن شہید پیکچ اب اُن کے خاندان کو نہیں دیا گیاہے ۔
گل محمد آج گھر کو جاکر اپنے خاندان کو سیوائے تسلی کے کچھ نہیں لے کے جا رہا ہے۔

Share this story
  • 23
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
    23
    Shares

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں