728

ملاکنڈ ڈویژن میں درجہ حرارت کے اضافہ سے سبزیوں اورپھلوں پرمنفی اثرارت

آج کل پوری دنیا میں عالمی حدت یعنی گرمی کے وجہ سے کئی تبدیلیاں واقع ہو چکی ہے جس نے انسانوں کے ساتھ ساتھ جانداروں ،پودے اور زراعت پر بھی منفی اثرات مرتب کئے ہیں۔اس صورتحال سے پوری دنیا تشویش میں مبتلا ہے ۔ ماہرین ماحولیات کے مطابق گلوبل وارمنگ اور ماحولیاتی تبدیلی سے متاثرہ دس ممالک میں پاکستان ساتویں نمبر پر ہے جو ایک خطر ے کی گھنٹی ہے ۔ پاکستان میں ماحولیاتی تبدیلی کے باعث درجہ حرارت میں اضافہ کے بارے میں خیبر پختونخواہ کے محکمہ موسمیات کے ڈائیریکٹر جنرل مشتاق علی شاہ نے بتایا کہ خیبر پختون خواہ کے مختلف علاقوں میں درجہ حرارت مختلف ہے ۔صوبائی محکمہ موسمیات کی تحقیق کے مطابق 10 سے 15 سالوں میں صوبے میں درجہ حرارت میں خطرناک حد تک اضافہ ہے۔ اگر پچھلے 10 سالوں کاریکارڈدیکھا جائے تو درجہ حرارت میں اوسطا اعشاریہ 8 ڈگری اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔کم سے کم درجہ حرارت میں بھی اضافہ ریکارڈ کیا جارہا ہے۔ پورے ملک میں کم از کم رجہ حرارت کی شرح کراچی میں زیادہ ہے اور اس کے بعد لاہورکا نمبر آتا ہے ۔

مشتاق علی شاہ کا کہنا تھا کہ درجہ حرارت کے اضافے کی مختلف وجوہات ہیں جس میں موسمی برسات میں کمی واقع ہونا بھی شامل ہے۔اس کے علاوہ سردیوں کے سیزن میں بارشوں میں کمی،بادلوں والے دنوں میں کمی اور آبادی کا پھیلاؤبھی شامل ہے ۔ اگر ڈیرہ اسماعیل خان سے لیکر ہزارہ اور چترال تک دیکھا جائے تو ہر جگہ آبادی میں اضافہ ہوا ہے ۔جو علاقے ویران تھے اب وہ آباد ہوچکے ہیں۔ زرعی زمین میں بہت کمی وقع ہو رہی ہے۔دوسری طرف اگر عالمی سطح پر دیکھا جائے تو وہاں پر بھی درجہ حرارت میں اضافہ ہواہے ۔جس طرح درجہ حرارت میں اضافہ کا دوسرے چیزوں پر اثر ہوتا ہے اسی طرح سبزیوں اور پھلوں پر بھی اس کے اثرات ہے ۔ خیبر پختون خواہ کا بہترین پھل مالٹا ہے جس کی فصل مالاکنڈ ،تیمرگرہ اور نوشہرہ کے بعض علاقوں میں بہت اچھی ہو تی ہے لیکن درجہ حرارت میں اضافہ،مالٹا کیت درخت کی جڑوں اور شاخوں کو نقصان پہنچا سکتا ہے۔ اسی طرح آڑو ،خوبانیِ آلوچہ پر بھی اس کے اثرات ہیں ۔ نئے موسمیاتی تبدیلی کو مد نظر رکھتے ہوئے ایسے نئے نسل کے پودے اگانے کی ضرورت ہے جو اس سے مطابقت رکھتے ہوں۔ درجہ حرارت میں اضافہ سے قدرتی آفات میں اضافے کا سبب بنتا ہے جس سے زراعت کو ہر وقت خطرہ لاحق رہتا ہے ۔درجہ حرارت میں اضافہ کی بنیادی وجوہات میں ایک وجہ کاربن ڈائی اکسائیڈ گیس بھی ہے۔

ڈائریکٹر جنرل پاکستان مٹرولوجیکل ڈپارٹمنٹ ڈاکٹر ر سول خان کی تحقیق سے پاکستان میٹرولوجیکل جرنل میں لکھا ہے کہ ہندوستانی تحقیق کار گوسوامی نے بھارت کے لدھیانہ ریاست میں تحقیق کیا تھا 2005 فروری میں کہ13 دنوں کے لئے وہاں پر درجہ حرارت معمول سے 2سے 3 ڈگری زیادہ ہوا تھا جس سے گندم کی پیداوار 28فیصد متاثر ہوا تھا ۔اسی طرح اسی جرنل میں تحریر ہے کہ پورے پاکستان میں 2010میں فروری کے کے اواخر میں اور مارچ کے شروعات میں درجہ حرارت میں 3سے 6ڈگری معمول سے زیادہ اضافہ دیکھا گیا تھا جس سے پر ہیکٹر زراعت میں 13فیصدہ کمی آئی تھی جس سے مختلف علاقوں میں مختلف ا ثرات ہو سکتے ہیں ۔ کاربن کے اضافہ کے سبزیوں اور فروٹ پر تحقیق کرنے والی ڈاکٹر عندلیب نے اپنے تحقیق کے بارے میں بتایا کہ کاربن کے اضافہ کے وجہ سے سبزیوں کے سائز بڑ ھ جائیں گے اوراس سے سبزیوں کے پیداوار زیادہ ہوگی کیونکہ کاربن ڈائی اکسائیڈ خوراک بنانے کے لئے استعمال ہوتی ہے۔ اس سے سبزیوں میں صرف کاربوہائیڈرڈ کی مقداربڑھے گی اور باقی ضروری اجزاء جس میں سب سے اہم وٹامن سی ۔ کیلشیم۔ پوٹاشیم، مگنیشیم،ائرن جس کو فولاد کہتے ہے ،اورہاڈروجن کی مقدارکم ہو گی۔ سبزیوں میں صرف کاربو ہائیڈرڈ کاا ضافہ ہوگا اورشوگر زیادہ ہوگی تاہم
باقی اجزاء کم ہونگے ۔ آج کل بیماریوں میں اضافے کی ایک وجہ سبزیوں اور فروٹ میں کاربو ہائیڈرڈ کا اضافہ بھی ہو سکتی ہے ۔ کاربوہائیڈرڈ کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ یہ زیادہ ہو تو یہ شوگر کے لئے اچھا نہیں ہے ، اگر کسی کو شوگر کا مرض لا حق ہو تو وہ اس کو نہیں کھا سکتا اور اگر کھایاتو اس کے کھانے سے اس کے شوگر میں اضافہ ہو گا۔ اس کے علاوہ وٹامن سی کینسر کے روک تھام میں اہم کردار ادا کرتا ہے یعنی وہ کینسر سے انسان کو بچا سکتاہے ۔اگر اس میں کمی ہوگی تو کینسر میں اضافہ ہوگا۔لوگوں میں پوٹاشیم اور فاسفورس کی کمی کا اثر ہڈیوں پر ہوتا ہے کیونکہ یہ ہڈیوں کے لئے اہم ہے ۔ اسی طرح آئرن کا خون میں اہم کردار ہے اس کی کمی سے بھی برے اثرات ہو تے ہیں ۔ ان تمام اجزاء کی کمی سے انسانی جسم پر آہستہ آہستہ برے اثرات مرتب ہو نگے۔

خیبر پختون خواہ کے ماحولیاتی تحفظ کی صوبائی ایجنسی میں کلائیمٹ چینج سیل کے ڈپٹی ڈائریکٹر افسر خان نے بتایا کہ پوری دنیا میں ماحولیاتی تبدیلی کے ہر چیز پرمنفی اثرات ہیں اور خیبر پختون خواہ میں بھی یہی صورتحال ہے ۔ پھلوں میں خوبانی کی پیداوار کم ہوئی ہے۔ اسی طرح گندم ، چاول اور گنا وغیرہ کی پیداوار میں بھی کمی واقع ہوئی ہے ۔ ان فصلوں کی پیداوار میں کمی ان پر ماحولیاتی تبدیلی کی عکاسی کرتی ہے۔ سبزیوں کے بارے میں معلومات اکھٹی کرنے کے ساتھ ساتھ ان کو جانچا جارہا ہے اور زرعی ماہرین کے ساتھ بھی مسلسل رابطہ ہے۔ اس سیل کو بنے محض2سال ہوئے ہیں اور ہم اپنے اہداف میں کامیاب ہونگے ۔ ہم نے کلائمٹ چینچ پالیسی بنائی ہے ، وزیر اعلی خیبر پختون خواہ نے گذشتہ سال 6 ستمبرکومنظوری دے دی ہے اور اب اس کے تشہیر پر کام ہورہا ہے جس کا 80 فیصد کام مکمل ہوچکا ہے اور باقی ماندہ بھی جلد مکمل ہوجائے گا ۔ اس پالیسی کو تمام محکموں کے ساتھ شیئر کرینگے اور پھر اسے نافذ کردیا جائے گا۔اس کے علاوہ مختلف پلان بنائے گئے ہیں جس کے ذریعے ہمیں پیسے ملیں گے جس کو اسی مد میں خرچ کیا جائے گا اور اس کے لئے مختلف ممالک بھی ہمیں مدد کریگی جس سے ہمارے اداروں کی صلاحیت بڑھے گی۔ حکومت اپنی آمدن کے مطابق ایک اچھی رقم کلائمٹ چینج پر خرچ کررہی ہے اور سونامی بلین ٹریز پراجیکٹ اس کی زندہ مثال ہے ۔کاربن کے فضاء میں موجود مقدار کے بارے میں امریکہ کے تحقیقاتی ادارے نوا(NOAA) اور اسکریپسscrips کے مشاہدے کے مطابق فضاء میں سمندر کے لیول سے 3400میٹر اوپر کاربن کی مقدار 409.01ppm پر پارٹس ملین (ppm) ہے اور پاکستان میں جب 2014میں اس کا مطالعہ کیا گیا تھا تو اس وقت پر کاربن کی مقدار 403 ppm تھی اور دنیامیں 400ppm تھی۔

OLYMPUS DIGITAL CAMERA

کاربن کے اضافہ کے کئی وجوہات ہے جس میں سب اہم موحولیاتی آلودگی، کارخانوں کا دھواں، جنگلات کے بے دریع کٹائی اور اس کے رقبے میں مسلسل کمی ، گاڑیوں سے نکلنے والا دھواں اور ہر وہ جلنے کا عمل جس سے دھواں پیدا ہوکاربن کے اضافہ کا سبب بن رہاہے۔ اس بارے میں مستند معلومات دستیاب نہیں ہے لیکن ماہرین ماحولیات و موسمیات اس خد شہ کا اظہار کر رہاہے کہ اگر کاربن کے اضافے اور آلودگی کے بڑھنے کی یہ حالت جاری رہی تو اس سے ہمارے ملک کے شمالی علاقہ جات جو نسبتا ٹھنڈے علاقے تصور کئے جاتے ہیں اس میں سن 2050تک درجہ حرارت 3سے 5سینٹی گریڈ تک بڑھنے کا امکان ہے جو ایک بہت خطرناک بات ہے اور اس سے بہت تباہی آئیگی ۔

محکمہ زراعت باجوڑکے اہلکار گل عمر کے فراہم کردہ دستاویزات کے مطابق باجوڑ ایجنسی میں کل رپورٹڈ شدہ زرعی زمین 129036ہیکٹر ہے جن میں 77062 ہیکٹرز قابل کاشت ، جبکہ با قی بنجر ہے ۔ 77062ہیکٹرز زمین میں سے 15970ہیکٹرز کے لئے پانی دستیاب نہیں ۔باجوڑ ایجنسی کے تحصیل خار کے رہائشی شیر بہادر نے کہا کہ ان کا16 کنال ارضی پر خوبانی اور آلوچہ کا باغ تھا جو انہوں نے 90 کے عشرے میں لگایا تھا اور 2006 تک خوب پیداوار دے رہاتھا لیکن پھر آہستہ آہستہ اس کے پیداوار میں کمی آنا شروع ہوگئی اور پچھلے پانچ سالوں میں تو پیدوار اتنی کم ہوگئی تھی کہ اس کے اخراجات بھی پورے نہیں ہورہے تھے کیونکہ اس پر مختلف ا سپرے کیا جاتا تھا اور اس کی جڑوں کو بھی ادویات اور کھاد ڈالا جاتا تھا جس کی وجہ سے مالی مشکلات دوچار ہو گئے تھے۔

شیر بہادر نے مزید بتایا کہ دوسری طرف پہلے وہ پھل پکنے کے دوران فروخت کرتے تھے لیکن پھرسوداگر(خریدار) درختوں پر پھل لگنے کے دوران اور کچے پھل خرید تے تھے ۔ بارشوں اور تیز ہواؤں سے جب پھلوں کو نقصان پہنچتا تھا تو پھر سوداگر مطلوبہ رقم دینے میں منت سماجت کرتے تھے جن سے کم پیسے لئے جاتے تھے جو ہمارے لئے نقصان کا باعث تھا۔ شیر بہادر کا کہناتھا انہوں نے دوسال پہلے اپنا پورا باغ کاٹ دیا ہے اور اب اس زمین پر گندم اور باقی فصلیں کاشت کرتے ہیں جس سے ان کے گھر کی ضرورت پوری ہو رہی ہے۔
باجوڑ ایجنسی میں درجہ حرارت کے اضافہ کے اثرات کے بارے میں محکمہ زراعت باجوڑ کے فیلڈ اسسٹنٹ غوث الرحمن نے کہا کہ اس علاقے میں سبزیوں اور پھلوں پر اس کے اثرات نمایاں ہیں کیونکہ ایجنسی میں پہلے سردی ، گرمی ،خزاں اور بہار کے مختلف موسم ہوتے تھے لیکن اب صرف اس کی نشانیاں باقی ہیں۔ اس کے علاوہ سبزیوں اور پھلوں پر مختلف کیڑوں کا حملہ ہوتا رہتا ہے جس سے کاشت کار مالی نقصان کی تشویش میں مبتلا رہتے ہیں ۔یہ اثرات باجوڑ ایجنسی کے تحصیل ماموند اور نواگئی چمرکنڈ میں زیادہ ہیں ۔ان علاقوں میں سبزیوں کی پیداوارمیں بھی 70فیصد کمی واقع ہوئی ہے کیونکہ کاشت کار اب اس کو کاشت نہیں کررہے ۔

زرعی یونیورسٹی شعبہ ہارٹی کلچر کے پروفیسر ڈاکٹر گوہر ایوب سبزیوں اور فروٹ پر درجہ حرارت کے اثرات کو نزدیک سے دیکھ رہے ہیں اور ان کے طلباء اس پر مختلف تجربات بھی کررہے ہیں ۔ ان کا کہنا تھا کہ درجہ حرارت کے اضافے سے مالا کنڈ ڈویژن میں سبزیوں اور فروٹ پر اثرات کے بارے میں بتایا کہ سبزیوں اور فروٹ پر ا س کے اثرات ہے کیونکہ اس کے وجہ سے سردیوں کے دورانیہ میں کمی واقع ہو ئی ہے اور گرمیوں میں اضافہ ہوا ہے۔ پہلے پشاور میں بہارکا موسم 15 فروری سے شروع ہو تا تھا او زیادہ تر پودے سرسبز ہو تے تھے لیکن اب ایسا نہیں ہے۔


سوات پیرا منڈی منگورہ کے رہائشی محمد سعید کا کہنا ہے کہ وہ اپنے زمین پر زیادہ تر گندم اور چاؤل کاشت کرتے تھے لیکن اب انہوں نے اسٹرابری اور پیاز کاشت کرنا شروع کی ہے کیونکہ بہ نسبت دوسرے فصلوں اور سبزیوں کے اس کی پیداوار زیادہ ہے ۔ اسی طرح دوسرے کاشت کاروں نے سیب اور آلوچہ اور خوبانی کے باغات ختم کر دئے ہیں اور اب آڑو کے باغات لگائے رہے ہیں، اس کی پیداوار زیادہ ہے اور محکمہ زراعت نے اس کی نئی اقسام بھی متعارف کرائی ہیں لیکن اس پر ا سپرے کا استعمال زیادہ ہے جس کی وجہ سے آڑو کے ذائقہ میں فرق آیا ہے اور وہ مزا اس میں اب نہیں ہے جو پہلا ہوتا تھا ۔مگر ایک بات ہے کا اس کا رنگ بہت خوبصورت ہوتاہے اوریہ گاہک کو اپنی طرف متوجہ کرتے ہیں ۔
سوات زرعی رسرچ سینٹر کی فراہم کردہ معلومات کے مطابق ملا کنڈ ڈویژن میں رجسٹرڈ شدہ کل زرعی زمین 1263000ہیکٹر ز ہیں جبکہ 33500ہیکٹرز قابل کاشت ہے، جسمیں 85550ہیکٹرز پر پھل اور 7990 ہیکٹرز پر سبزیاں کاشت ہو تی ہیں ۔ ملاکنڈ ڈویژن میں سب سے زیادہ آڑو کے باغات ہے جس کی سالانہ پیداوار 29949ٹن ہیں ۔صرف ضلع سوات میں 25550 آڑو پیدا ہوتا ہے جو لاہور، گجرانوالہ اور حیدر آباد کو بڑے پیمانے پر بھیجے جاتے ہیں اور پھر وہاں سے پورے ملک کو سپلا ئی ہوتاہے۔ ساتھ ہی ساتھ اوروسطی ایشائی ممالک کو بھی برآمد ہوتا ہے۔
سوات زرعی ریسرچ انسٹیٹو ٹ کے سینئرسوئل فرٹلٹی سائینٹسٹ و ماہرموسمیات ڈاکٹر روشن خان کے مطابق یہاں پر مختلف پھلوں کے کئی اقسام کے باغات ہیں جن میں آڑو سب سے زیادہ رقبے پر ہو تا ہے ۔ اس کے علاوہ اخروٹ ،خوبانی ناشپاتی ، سیب اورآ لوچہ بھی ہوتا ہے ۔ اسی طرح اپر چترال میں انگور اور انار کی نئی اقسام اور اپر دیر میں امریکن اخروٹ کے اقسام متعارف کرائی گئیں ہیں۔ اس کے ساتھ یہ بھی کوشش کی جارہی ہے کہ نئی اقسام میں پرانے پھلوں کے جڑ اس میں کراس کریں تاکہ موسمی تبدیلی کے اثرات اس پر کم سے کم ہواور ایسا کرنے سے کاشت کاروں کو نقصان بھی نہیں ہوگا۔ اسی طرح آڑو کے 12 بارہ نئی اقسام متعارف کرائی گئی ہیں۔موسمیاتی تبدیلی کی وجہ سے بہت غیر یقینی صورتحال ہوتی ہے جس کی وجہ سے یہ نہیں کہا جاسکتا کہ سالانہ ان پھلوں کے پیداوار میں کتنی کمی آئی ہے کیونکہ رات اور دن کے درجہ حرات میں بہت فرق آیا ہے اور اسی فرق کی وجہ سے اس کے پیداوار متاثر ہو رہی ہے۔

اگر ہم 2004 سے 2017تک کا ڈیٹا لے تو اس میں بہت فرق آیا ہے۔ پہلے یہاں پر درجہ حرارت کم ہوتا تھا اور بارشیں زیادہ ہوتی تھیں جس سے مو سم خوشگوار رہتا تھا لیکن اب ایسا نہیں ہے۔ 2008تک بارشیں اپنی وقت پر ہوتی تھی اور1240mm ملی میٹر اوسطا بارشیں ریکارڈ کی گئی تھیں اورکم از کم درجہ حرارت 5C اورزیادہ سے زیادہ درجہ حرارت 15سے 19سنٹی گریڈ تک ہوتا تھا لیکن اس میں آہستہ آہستہ کمی آئی اور2014میں 733.58mm بارشیں ہوئی اوررکم از کم درجہ حرارت منفی 1.03C اورزیادہ سے زیادہ درجہ حرارت 21.37Cرہا ، 2015میں 594.50mmبارشیں ہوئی اوررکم از کم درجہ حرارت0.37Cاورزیادہ سے زیادہ درجہ حرارت 22.31C،2016میں812.5mm بارشیں ہوئی اور درجہ حرارت 1.28C اورزیادہ سے زیادہ درجہ حرارت 22.86، 2017میں635.90mm بارشیں ہوئیں،کم از کم درجہ حرارت0.89C اورزیادہ سے زیادہ درجہ حرارت 27.44C رہا ۔

درجہ حرارت میں ان اضافہ کے وجہ سے ملاکنڈ ڈویژن میں پھلوں اور سبزیوں پر مختلف بیماریاں آتی ہے۔ ڈاکٹر روشن نے کہا کہ اس پر انٹامالوجی اور پتھالوجی کے شعبے کام کررہے ہے تاکہ ان بیماریوں کی روک تھام کر سکیں۔ آج کل مارکیٹ میں غیر معیاری ادویات بھی بڑی مقدار میں موجود ہیں اگر چہ ہم ان کے خلاف کاروائی بھی ہو رہی ہے لیکن پھر بھی ابھی تک اس میں مکمل کامیابی نہیں ملی ہے ۔ا سپرے کا اس طرح بے دریع استعمال ماحول کے آلودہ ہونے کے ساتھ ساتھ انسانوں پر بھی برے اثرات مرتب کررہا ہے اور ملاکنڈ ڈویژن اور خاص کر سوات میں بلڈ پریشر،کینسر ،شوگر اور سکن بیماریوں کا ایک وجہ ان ا سپرے کا زیادہ استعمال بھی ہے۔ نہ صرف یہ بلکہ زیڈیوس یعنی خراب اثرات پھلوں اور سبزیوں کے اندربھی سراعیت کرتا ہے اور اب پاکستان کے جتنے بھی پھل اور سبزیاں بیرون ملک جائینگی رزیڈس کو ضرور چیک کیاجائیگا ۔ جن پھلوں اور سبزیوں میں اس کی مقدار پائی گئی وہ برآمد نہیں ہوسکیں گی جو ایک خطرے کی بات ہوسکتی ہے ۔ڈاکٹر روشن نے بتایا کہ ان کے تحقیق کار ا س پر کام کر رہے ہیں کہ ایسے اقسام پھلوں اور سبزیوں کے پیدا کرے جس میں موسمیاتی تبدیلی اور ان بیماریوں کے خلاف مزاحمت زیادہ ہوتاکہ اسپرے کی مقدار کم سے کم ہوسکے ۔حیرت انگیز بات یہ ہے کہ پورے مالاکنڈ ڈویژن میں صرف ایک لیبارٹری سوات میں ہے جس میں مٹی کے خاص ٹیسٹ ہوتے ہیں لیکن اس لیبارٹری میں بھی رزیڈس کو ٹیسٹ نہیں کیا جاسکتا۔ مالا کنڈ ڈویژن میں درجہ حرارت میں اضافے کی دو بڑی وجوہات ہیں، ایک جنگلات کے رقبے میں درختوں کی بے دریغ کٹائی اور دوسری آبادی میں مسلسل اضافہ جس سے دھواں چھورنے والے گاڑیوں کے تعداد میں بھی خطرناک حد تک اضافہ ہوا ہے اور زرعی زمین بھی کم ہوتی جارہی ہے ۔

خیبر پختون خواہ حکومت نے ایک زرعی پالیسی کا علان کیا ہے کہ زرعی زمینوں پر حکومتی اجازت کے بغیر آبادی کرنا قانونا جرم ہو گی لیکن اس پر بھی ابھی تک عمل درامد نہیں ہوا۔ ڈاکٹر عندلیب کے مطابق کاربن کے برے اثرات کو کم کرنے کے لئے کاشت کاروں خاص طور پر ان کھادوں کا استعمال کریں جن میں نائٹروجن زیادہ ہوں، اس سے وہ کاربن کے برے اثرات کنٹرول کر سکتے ہیں۔ محکمہ موسمیات کے ڈائریکٹر مشتاق علی شاہ نے کہا کہ ہمارا کام لوگوں میں اگاہی پیدا کرنا ہے جس کے لئے اس کا محکمہ روزانہ کے بنیاد پر پیشن گوئی جاری کرتے ہیں اوراگرکو ئی موسمی ایمرجنسی ہو تو اس کے بارے میں بھی وارننگ جاری کرتے ہیں ۔

Share this story
  • 52
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
    52
    Shares

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں