591

نقیب محسود کون ہے اور اس کے ساتھ کیا ہوا

کراچی میں چند روز قبل پانچ روز سےغائیب ہونے والے خوبصورت نوجوان نقیب محسود کی لاش اس وقت چھیپا سنٹر سے مل گئی جب ان کے خاندان والوں کو اطلاع ملی کی مبینہ پولیس مقابلے میں مارے جانے والوں کی لاشوں میں نقیب کا لاش بھی ہے ۔ نقیب محسود کے کزن نور رحمان نے بتایا ہے کہ نقیب محسود کوانسداد دہشت گردی پولیس کے اہلکاروں نے تین جنوری کو 3 بجے سہراب گوٹ چپل گارڈن گل شیراغاہوٹل سےاٹھایاتھا۔
نقیب محسود جس کا اصل نام نسیم اللہ محسود ہے. 2008 سے کراچی میں محنت مزدوری کر رہا تھا ۔ اپنے ماموں کے ساتھ اسٹیل میں لوڈنگ کا کام کرتا تھا۔ نقیب کے کزن نوررحمان کے مطابق نقیب محسود کسی بھی دہشتگرد کارروائی میں ملوث نہیں تھا. آپریشن راہ نجات کے بعد نقیب اپنے آبائی علاقے جنوبی وزیرستان کے تحصیل مکین گاؤں رزمک سے خاندان سمیت کراچی منتقل ہوا تھا.

نقیب کے تین بچے ہیں جن میں نو سالہ نائلہ، سات سالہ علینہ اور دو سال کا بیٹا عاطف شامل ہیں. نقیب محسود گزشتہ آٹھ سالوں سے مکہ ملز اور بلال ملز کراچی میں مزدوری کررہا تھا۔ نقیب قد جوان موڈلنگ کرنے کا شوقین تھا، نقیب کے فیس بک پر اپنے دوست کے ساتھ پیغامات میں بتاتا ہے کہ اس کا بیٹا آرمی میں ایک بڑا اآفسر بنے گا جس سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ نقیب کو پاک اآرمی اور اپنی ملک سے محبت تھی.

رشتہ داروں کے مطابق نقیب نےسہراب گوٹ میں کپڑے کا کاروبار شروع کرنے کے لیے دکان کی تیاری میں لگا ہوا تھا کہ اس دوران انہیں سہراب گوٹ گل شیرآغا ہوٹل سے اٹھا لیا گیا ۔ ان کا کہنا تھا کہ انہیں اطلاع ملی کہ نقیب محسود کو 12 جنوری کو لطیف ٹاون میں مبینہ جعلی مقابلے میں مار دیا گیا ہے۔
نور رحمان کے مطابق ان کے خاندان والے نقیب محسود کی جسد خاکی کی تلاش میں سرگردان تھے ۔ پانچ دن بعد نقیب محسود کے بہنوئی ڈاکٹر مبارک شاہ سمیت خاندان والوں نے چھیپا سنٹر سے ان کی لاش وصول کئے۔

نوررحمان کے مطابق پولیس نے ابھی تک یہ نہیں بتایا کہ نقیب محسود کو کس جرم میں گرفتار کر کے مبینہ جعلی مقابلے میں مارا گیا تھا ۔ نقیب کو ڈیرہ اسماعیل خان میں تدفین کے لئے لے جا یاجائے گا ۔

اس واقعے کے خلاف ملک بھر میں سوشل میڈیا پر جسٹس فارنقیب_محسود ہیش ٹیگ کیساتھ کمپئین کا آغاز کیا گیا ہے۔ ملک کے مختلف شہروں میں نقیب قتل کےخلاف احتجاجی مظاہرے ہورہے ہیں.

کراچی، بہاولپور، پشاور، مردن اور ملک کے دیگر حصوں میں احتجاجی مظاہروں میں سوسل سوسائٹی، انسانی حقوق کیلئے سرگرم اراکین، قبائلی طلباء، مشران اور معاشرے کے دوسرے اراکین نے راوانور فوری طور پر معطل کرنے کا مطالبہ کیا ہے اور واقعے کی جوڈیشل انکوائری کا مطالبہ کیا ہے. قبائلی عوام نے واقعے کی مذمت کرتے ہوئے وزیراعظم ،سندھ حکومت, چئیر مین پیپلز پارٹی ،چیف جسٹس سے نقیب محسود کو انصاف فراہم کرنے اور جوڈیشل انکوائری کا مطالبہ کیا ہے۔

Share this story
  • 41
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
    41
    Shares

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں